<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مہنگائی کا خوف اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، عالمی مارکیٹ میں سونا 4 ماہ کی کم ترین سطح پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284174/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سونے کی قیمتوں میں پیر کو 2 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ تقریباً چار ماہ کی کم ترین سطح پر آگئیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مہنگائی کے خدشات کو بڑھا دیا اور عالمی سطح پر شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کو تقویت دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ گولڈ 2.7 فیصد کمی کے بعد 4,366.94 ڈالر فی اونس پر آگیا، یوں مسلسل نویں سیشن میں بھی اس کی گراوٹ جاری رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دھات دن کے دوران 2 جنوری کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئی جبکہ گزشتہ ہفتے اس کی قیمت میں 10 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اپریل ڈلیوری کیلئے امریکی گولڈ فیوچرز 4.5 فیصد گرکر 4,369.90 ڈالر پر آگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا کہ ایران سے متعلق تنازع اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے اور تیل کی قیمتیں 100 ڈالر کے آس پاس برقرار ہیں جس کے باعث شرحِ سود میں کمی کی توقعات ختم ہوکر ممکنہ اضافے کی طرف مڑ گئی ہیں اور اسی وجہ سے منافع کے اعتبار سے سونے کی کشش متاثر ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ایران نے اتوار کو کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہیں تو وہ جوابی کارروائی میں خلیجی ہمسایہ ممالک کے توانائی اور پانی کے نظام کو نشانہ بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹم واٹرر  کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ رسک آف دور کے دوران سونے کی زیادہ لیکویڈٹی الٹا اسے نقصان پہنچا رہی ہے۔ اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کے باعث سونے کی پوزیشنز (سرمایہ کاری) کو ختم کیا جارہا ہے تاکہ دیگر اثاثوں پر مارجن کالز کو پورا کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کے حصص بازاروں میں مندی دیکھی گئی اور خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہیں، کیونکہ سرمایہ کار توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی امریکی اور ایرانی دھمکیوں کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تزویراتی لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر رہیں، جس نے ٹرانسپورٹ اور مینوفیکچرنگ کی لاگت میں اضافہ کر کے مہنگائی کے خدشات کو مزید ہوا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ بڑھتی ہوئی مہنگائی عام طور پر سونے کی اہمیت کو ایک ’محفوظ سرمایہ کاری‘ کے طور پر بڑھا دیتی ہے لیکن بلند شرحِ سود اس غیر منافع بخش اثاثے (جس پر سود نہیں ملتا) کی طلب کو کم کر دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں سال شرحِ سود میں اضافے کے حوالے سے مارکیٹ کی توقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب شرحِ سود میں کمی کے بجائے اضافے کو کہیں زیادہ ممکن سمجھا جارہا ہے۔ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق ریٹ فیوچرز کی قیمتیں اب دسمبر تک شرحِ سود میں اضافے کا تقریباً 32 فیصد امکان ظاہر کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپاٹ سلور 3.4 فیصد کمی کے بعد 65.45 ڈالر فی اونس رہ گیا۔ اسپاٹ پلاٹینم بھی 3.4 فیصد گر کر 1,857.67 ڈالر پر آ گیا جبکہ پیلیڈیم 1,403.10 ڈالر پر مستحکم رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سونے کی قیمتوں میں پیر کو 2 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ تقریباً چار ماہ کی کم ترین سطح پر آگئیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مہنگائی کے خدشات کو بڑھا دیا اور عالمی سطح پر شرحِ سود میں اضافے کی توقعات کو تقویت دی۔</strong></p>
<p>اسپاٹ گولڈ 2.7 فیصد کمی کے بعد 4,366.94 ڈالر فی اونس پر آگیا، یوں مسلسل نویں سیشن میں بھی اس کی گراوٹ جاری رہی۔</p>
<p>یہ دھات دن کے دوران 2 جنوری کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آگئی جبکہ گزشتہ ہفتے اس کی قیمت میں 10 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اپریل ڈلیوری کیلئے امریکی گولڈ فیوچرز 4.5 فیصد گرکر 4,369.90 ڈالر پر آگئے۔</p>
<p>کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ اینالسٹ ٹم واٹرر نے کہا کہ ایران سے متعلق تنازع اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے اور تیل کی قیمتیں 100 ڈالر کے آس پاس برقرار ہیں جس کے باعث شرحِ سود میں کمی کی توقعات ختم ہوکر ممکنہ اضافے کی طرف مڑ گئی ہیں اور اسی وجہ سے منافع کے اعتبار سے سونے کی کشش متاثر ہوئی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا ایران نے اتوار کو کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ 48 گھنٹوں میں ایران کے بجلی کے نظام کو نشانہ بنانے کی اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہیں تو وہ جوابی کارروائی میں خلیجی ہمسایہ ممالک کے توانائی اور پانی کے نظام کو نشانہ بنائے گا۔</p>
<p>ٹم واٹرر  کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ رسک آف دور کے دوران سونے کی زیادہ لیکویڈٹی الٹا اسے نقصان پہنچا رہی ہے۔ اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کے باعث سونے کی پوزیشنز (سرمایہ کاری) کو ختم کیا جارہا ہے تاکہ دیگر اثاثوں پر مارجن کالز کو پورا کیا جاسکے۔</p>
<p>ایشیا کے حصص بازاروں میں مندی دیکھی گئی اور خام تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہیں، کیونکہ سرمایہ کار توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی امریکی اور ایرانی دھمکیوں کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>تزویراتی لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر رہیں، جس نے ٹرانسپورٹ اور مینوفیکچرنگ کی لاگت میں اضافہ کر کے مہنگائی کے خدشات کو مزید ہوا دی۔</p>
<p>اگرچہ بڑھتی ہوئی مہنگائی عام طور پر سونے کی اہمیت کو ایک ’محفوظ سرمایہ کاری‘ کے طور پر بڑھا دیتی ہے لیکن بلند شرحِ سود اس غیر منافع بخش اثاثے (جس پر سود نہیں ملتا) کی طلب کو کم کر دیتی ہے۔</p>
<p>امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں سال شرحِ سود میں اضافے کے حوالے سے مارکیٹ کی توقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب شرحِ سود میں کمی کے بجائے اضافے کو کہیں زیادہ ممکن سمجھا جارہا ہے۔ سی ایم ای فیڈ واچ ٹول کے مطابق ریٹ فیوچرز کی قیمتیں اب دسمبر تک شرحِ سود میں اضافے کا تقریباً 32 فیصد امکان ظاہر کررہی ہیں۔</p>
<p>اسپاٹ سلور 3.4 فیصد کمی کے بعد 65.45 ڈالر فی اونس رہ گیا۔ اسپاٹ پلاٹینم بھی 3.4 فیصد گر کر 1,857.67 ڈالر پر آ گیا جبکہ پیلیڈیم 1,403.10 ڈالر پر مستحکم رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284174</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Mar 2026 11:28:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/231101434e6dc10.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/231101434e6dc10.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
