<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹریڈنگ کارپوریشن کی چینی کی درآمد پر ٹیکس و ڈیوٹی کی چھوٹ کی مدت میں اضافہ کردیا، ایف بی آر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284169/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے چینی کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں دی گئی چھوٹ اور کم شرحوں کی مدت مزید بڑھا کر 28 فروری 2026 تک کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 500,000 میٹرک ٹن چینی کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی سے استثنا کی مدت 28 فروری 2026 تک بڑھا دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس درآمد پر سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد اور ودہولڈنگ ٹیکس بھی کم کر کے 0.25 فیصد کر دیا گیا ہے، جو ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے درآمد کی جانے والی چینی پر لاگو ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ترامیم کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے کی آخری تاریخ 30 نومبر 2025 سے بڑھا کر 28 فروری 2026 کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کے نتیجے میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے چینی کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں مجموعی طور پر تقریباً 47 فیصد تک رعایت فراہم کی گئی ہے۔ عام طور پر چینی کی درآمد پر مجموعی طور پر تقریباً 47.5 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے جس میں 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی، 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس، 3 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور 6.5 فیصد انکم ٹیکس شامل ہوتے ہیں۔ تاہم حکومت نے سرکاری سطح پر کی جانے والی چینی کی درآمد کو ان ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے اور اب صرف تقریباً 5 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ کے فیصلے کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 148 کے تحت سفید کرسٹل چینی کی تجارتی درآمد پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد مقرر کی گئی ہے، بشرطیکہ مجموعی درآمدی مقدار 500,000 میٹرک ٹن تک محدود ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ چینی کی درآمد کامرس ڈویژن کے ذریعے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان یا نجی شعبے کے ذریعے مقررہ شرائط، حدود اور کوٹہ الاٹمنٹ کے تحت کی جائے گی تاکہ موجودہ اور آئندہ ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامرس ڈویژن اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ درآمد کی جانے والی چینی کے معیار کی جانچ ایک بین الاقوامی انسپیکشن کمپنی کے ذریعے کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس نوٹیفکیشن کے تحت ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے کے لیے چینی کی درآمد کی آخری تاریخ پہلے 30 ستمبر 2025 مقرر تھی جسے اب بڑھا کر 28 فروری 2026 کر دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے چینی کی درآمد پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں دی گئی چھوٹ اور کم شرحوں کی مدت مزید بڑھا کر 28 فروری 2026 تک کر دی ہے۔</strong></p>
<p>اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں۔</p>
<p>تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 500,000 میٹرک ٹن چینی کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی سے استثنا کی مدت 28 فروری 2026 تک بڑھا دی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس درآمد پر سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد اور ودہولڈنگ ٹیکس بھی کم کر کے 0.25 فیصد کر دیا گیا ہے، جو ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے درآمد کی جانے والی چینی پر لاگو ہوگا۔</p>
<p>ان ترامیم کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے کی آخری تاریخ 30 نومبر 2025 سے بڑھا کر 28 فروری 2026 کر دی ہے۔</p>
<p>اس اقدام کے نتیجے میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے ذریعے چینی کی درآمد پر ٹیکس اور ڈیوٹی میں مجموعی طور پر تقریباً 47 فیصد تک رعایت فراہم کی گئی ہے۔ عام طور پر چینی کی درآمد پر مجموعی طور پر تقریباً 47.5 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے جس میں 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی، 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس، 3 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس اور 6.5 فیصد انکم ٹیکس شامل ہوتے ہیں۔ تاہم حکومت نے سرکاری سطح پر کی جانے والی چینی کی درآمد کو ان ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے اور اب صرف تقریباً 5 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔</p>
<p>کابینہ کے فیصلے کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 148 کے تحت سفید کرسٹل چینی کی تجارتی درآمد پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد مقرر کی گئی ہے، بشرطیکہ مجموعی درآمدی مقدار 500,000 میٹرک ٹن تک محدود ہو۔</p>
<p>اس کے علاوہ چینی کی درآمد کامرس ڈویژن کے ذریعے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان یا نجی شعبے کے ذریعے مقررہ شرائط، حدود اور کوٹہ الاٹمنٹ کے تحت کی جائے گی تاکہ موجودہ اور آئندہ ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔</p>
<p>کامرس ڈویژن اس بات کو بھی یقینی بنائے گا کہ درآمد کی جانے والی چینی کے معیار کی جانچ ایک بین الاقوامی انسپیکشن کمپنی کے ذریعے کی جائے۔</p>
<p>اس نوٹیفکیشن کے تحت ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے کے لیے چینی کی درآمد کی آخری تاریخ پہلے 30 ستمبر 2025 مقرر تھی جسے اب بڑھا کر 28 فروری 2026 کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284169</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Mar 2026 10:14:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/231012397e12b87.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/231012397e12b87.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
