<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران پر پابندیوں میں نرمی اور جنگی خطرات کے درمیان خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284165/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیر کے روز تیل کی قیمتیں اتار چڑھائو کا شکار رہیں کیونکہ سرمایہ کار امریکی اور ایرانی خطرات کا جائزہ لے رہے تھے جبکہ واشنگٹن کی جانب سے عارضی طور پر پابندیاں ہٹانے کے بعد لاکھوں بیرل ایرانی تیل کی بحری ترسیل شروع ہوگئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 65 سینٹ بڑھ کر 112.84 ڈالر فی بیرل ہو گیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 98.75 ڈالر فی بیرل پر 84 سینٹ کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ دونوں کنٹریکٹس سیشن کے آغاز میں ایک ڈالر سے زائد نیچے تھے۔ برینٹ اورڈبلیو ٹی آئی کے درمیان 13 ڈالر فی بیرل سے زیادہ کا فرق سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی مارکیٹ کے ماہر وندنا ہری نے کہا کہ قلیل مدت میں دھمکیاں اور بیان بازی تیل کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہیں لیکن طویل مدتی رجحان مشرق وسطیٰ کے تیل کی ترسیل کی حالت سے طے ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز  کو مکمل طور پر کھول نہیں دیا تو وہ ایران کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دیں گے، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا گیا تو اہم توانائی انفراسٹرکچر بھی تباہ ہو سکتا ہے ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایندھن کے ماہر امریتا سین نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ مزید کشیدگی بڑھے گی اور تیل کی قیمتیں بڑھیں گی۔ وہیں بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا کہ موجودہ بحران بہت سنگین ہے اور 1970 کی دہائی کے دو تیل کے بحران سے بھی بدتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیج میں جنگ نے اہم توانائی کی سہولیات کو نقصان پہنچایا اور آبنائے ہرمز کے راستے شپنگ تقریباً رک گئی، جو عالمی تیل اور ایل این جی کے 20 فیصد بہاؤ کو سنبھالتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں روزانہ 7 سے 10 ملین بیرل تیل کی پیداوار متاثر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراق نے تمام غیر ملکی کمپنیوں آئل فیلڈ پر فورس میجر کا اعلان کیا اور بسرا آئل کمپنی کی پیداوار 3.3 ملین بیرل سے کم کر کے 900,000 بیرل فی دن کر دی گئی۔ ہندوستانی ریفائنرز ایرانی تیل کی خریداری دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ ایشیا کے دیگر ریفائنرز بھی اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وندنا ہری کے مطابق، اگر ایران پڑوسی ریاستوں پر جوابی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو دھمکی کے اثرات محدود رہیں گے، اور اس بحران کا حل آبنائے ہرمز کے راستے کی بحالی میں ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیر کے روز تیل کی قیمتیں اتار چڑھائو کا شکار رہیں کیونکہ سرمایہ کار امریکی اور ایرانی خطرات کا جائزہ لے رہے تھے جبکہ واشنگٹن کی جانب سے عارضی طور پر پابندیاں ہٹانے کے بعد لاکھوں بیرل ایرانی تیل کی بحری ترسیل شروع ہوگئی ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 65 سینٹ بڑھ کر 112.84 ڈالر فی بیرل ہو گیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 98.75 ڈالر فی بیرل پر 84 سینٹ کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ دونوں کنٹریکٹس سیشن کے آغاز میں ایک ڈالر سے زائد نیچے تھے۔ برینٹ اورڈبلیو ٹی آئی کے درمیان 13 ڈالر فی بیرل سے زیادہ کا فرق سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔</p>
<p>تیل کی مارکیٹ کے ماہر وندنا ہری نے کہا کہ قلیل مدت میں دھمکیاں اور بیان بازی تیل کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہیں لیکن طویل مدتی رجحان مشرق وسطیٰ کے تیل کی ترسیل کی حالت سے طے ہوگا۔</p>
<p>ہفتے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز  کو مکمل طور پر کھول نہیں دیا تو وہ ایران کے پاور پلانٹس کو تباہ کر دیں گے، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر ایران کے پاور پلانٹس پر حملہ کیا گیا تو اہم توانائی انفراسٹرکچر بھی تباہ ہو سکتا ہے ۔</p>
<p>ایندھن کے ماہر امریتا سین نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ مزید کشیدگی بڑھے گی اور تیل کی قیمتیں بڑھیں گی۔ وہیں بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا کہ موجودہ بحران بہت سنگین ہے اور 1970 کی دہائی کے دو تیل کے بحران سے بھی بدتر ہے۔</p>
<p>خلیج میں جنگ نے اہم توانائی کی سہولیات کو نقصان پہنچایا اور آبنائے ہرمز کے راستے شپنگ تقریباً رک گئی، جو عالمی تیل اور ایل این جی کے 20 فیصد بہاؤ کو سنبھالتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں روزانہ 7 سے 10 ملین بیرل تیل کی پیداوار متاثر ہوئی۔</p>
<p>عراق نے تمام غیر ملکی کمپنیوں آئل فیلڈ پر فورس میجر کا اعلان کیا اور بسرا آئل کمپنی کی پیداوار 3.3 ملین بیرل سے کم کر کے 900,000 بیرل فی دن کر دی گئی۔ ہندوستانی ریفائنرز ایرانی تیل کی خریداری دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جبکہ ایشیا کے دیگر ریفائنرز بھی اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>وندنا ہری کے مطابق، اگر ایران پڑوسی ریاستوں پر جوابی حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تو دھمکی کے اثرات محدود رہیں گے، اور اس بحران کا حل آبنائے ہرمز کے راستے کی بحالی میں ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284165</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Mar 2026 11:28:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/2311281126f15c7.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/2311281126f15c7.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
