<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 14:32:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 14:32:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اگر جنگ بندی ہوجائے تو آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے پر غور کر سکتے ہیں، جاپان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284153/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موٹیگی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ میں مکمل جنگ بندی ہو جاتی ہے تو جاپان آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے اپنی فوج تعینات کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو ایک ٹیلی وژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موٹیگی کے مطابق اگر جنگ بندی کے بعد سمندری راستوں میں بارودی سرنگیں جہاز رانی کے لیے رکاوٹ بنیں تو ایسی صورت میں مائن سویپنگ جیسے اقدامات زیر غور آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فی الحال ایک فرضی صورتحال ہے، تاہم اگر مکمل جنگ بندی ہو جائے اور سمندری راستہ غیر محفوظ ہو تو اس مسئلے کے حل پر غور کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کی فوجی سرگرمیاں اس کے جنگ کے بعد بنائے گئے امن پسند آئین کے تحت محدود ہیں۔ تاہم 2015 میں منظور ہونے والی سکیورٹی قانون سازی کے تحت جاپان کو بیرون ملک اپنی سیلف ڈیفنس فورسز استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اگر کسی حملے سے ملک کی بقا کو خطرہ لاحق ہو اور اس کا کوئی دوسرا حل موجود نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز، جسے عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ سمجھا جاتا ہے، دنیا کے تقریباً 20 فیصد حصے کے تیل کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔ جاپان اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد اسی راستے سے حاصل کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو جاپان کے خبر رساں ادارے کیودو نیوز کو بتایا تھا کہ انہوں نے جاپانی وزیر خارجہ توشیمیتسو موٹیگی سے اس امکان پر بات کی ہے کہ جاپان سے وابستہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان کی وزیراعظم سنیے تاکائیچی سے ملاقات میں اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے مزید کردار ادا کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موٹیگی نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ میں مکمل جنگ بندی ہو جاتی ہے تو جاپان آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے لیے اپنی فوج تعینات کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو ایک ٹیلی وژن پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔</strong></p>
<p>موٹیگی کے مطابق اگر جنگ بندی کے بعد سمندری راستوں میں بارودی سرنگیں جہاز رانی کے لیے رکاوٹ بنیں تو ایسی صورت میں مائن سویپنگ جیسے اقدامات زیر غور آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فی الحال ایک فرضی صورتحال ہے، تاہم اگر مکمل جنگ بندی ہو جائے اور سمندری راستہ غیر محفوظ ہو تو اس مسئلے کے حل پر غور کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>جاپان کی فوجی سرگرمیاں اس کے جنگ کے بعد بنائے گئے امن پسند آئین کے تحت محدود ہیں۔ تاہم 2015 میں منظور ہونے والی سکیورٹی قانون سازی کے تحت جاپان کو بیرون ملک اپنی سیلف ڈیفنس فورسز استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے، اگر کسی حملے سے ملک کی بقا کو خطرہ لاحق ہو اور اس کا کوئی دوسرا حل موجود نہ ہو۔</p>
<p>آبنائے ہرمز، جسے عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری راستہ سمجھا جاتا ہے، دنیا کے تقریباً 20 فیصد حصے کے تیل کی ترسیل کا ذریعہ ہے۔ جاپان اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد اسی راستے سے حاصل کرتا ہے۔</p>
<p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کو جاپان کے خبر رساں ادارے کیودو نیوز کو بتایا تھا کہ انہوں نے جاپانی وزیر خارجہ توشیمیتسو موٹیگی سے اس امکان پر بات کی ہے کہ جاپان سے وابستہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپان کی وزیراعظم سنیے تاکائیچی سے ملاقات میں اتحادی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے مزید کردار ادا کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284153</guid>
      <pubDate>Sun, 22 Mar 2026 12:15:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/221214258cf40f2.webp" type="image/webp" medium="image" height="427" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/221214258cf40f2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
