<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے غزہ سے متعلق آسکر کیلئے نامزد فلم کی نمائش روک دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284152/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت میں ایک دستاویزی فلم کی نمائش روک دی گئی ہے جس میں غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کے دوران ایک پانچ سالہ فلسطینی بچی کی ہلاکت کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ فلم کے تقسیم کار کے مطابق حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس فلم کی ریلیز سے بھارت اور اسرائیل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی نژاد تیونسی کے ہدایت کار کاؤتھر بن ہانیہ کا آسکر کے لیے نامزد کردہ دستاویزی ڈرامہ گزشتہ سال غزہ میں ہند رجب کی حقیقی زندگی کی موت کو بیان کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم میں گزشتہ سال غزہ میں پیش آنے والے اس واقعے کو دکھایا گیا ہے جس میں ہند رجب نامی پانچ سالہ بچی اپنے خاندان کے ساتھ جنگ کے دوران محفوظ مقام کی طرف نقل مکانی کی کوشش کر رہی تھی اور اسی دوران اسرائیلی فوج کی کارروائی میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلم کے بھارتی تقسیم کار جئے ویراٹرا انٹرٹینمنٹ کے منوج نندوانا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے فلم کو سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کے سامنے پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق بورڈ کے ایک رکن نے انہیں غیر رسمی طور پر بتایا کہ اگر اس فلم کو بھارت میں سنیما گھروں میں نمائش کی اجازت دی گئی تو اس سے اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منوج نندوانا کا کہنا تھا کہ انہیں فلم کی ریلیز روکنے کے بارے میں باضابطہ تحریری اطلاع نہیں دی گئی، تاہم بورڈ کے ردعمل سے انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ فلم کو منظوری نہیں ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فلم دنیا کے کئی ممالک میں ریلیز ہو چکی ہے اور اسرائیل میں بھی دکھائی جا چکی ہے، اس لیے یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اسے بھارت میں حساس کیوں قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تقسیم کار کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں مشرقی بھارتی شہر کولکتہ میں ہونے والے ایک بین الاقوامی فلمی میلے میں اس فلم کی نمائش بھی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ShashiTharoor/status/2034831960892481894?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ShashiTharoor/status/2034831960892481894?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے فلم کی نمائش روکنے کے فیصلے کو قابل افسوس قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں کسی فلم کی نمائش آزادی اظہار کی عکاسی ہوتی ہے اور اسے حکومتوں کے باہمی تعلقات سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق غیر ملکی ممالک کے ممکنہ ردعمل کے خوف سے فلموں یا کتابوں پر پابندی لگانے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فلم رواں سال آسکر ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے میں نامزد بھی ہوئی تھی، تاہم یہ اعزاز ناروے کی فیملی ڈراما فلم سینٹی مینٹل ویلیو کو ملا۔ گزشتہ سال وینس فلم فیسٹیول میں اس فلم کو سلور لائن گرینڈ جیوری پرائز بھی دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت میں ایک دستاویزی فلم کی نمائش روک دی گئی ہے جس میں غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائی کے دوران ایک پانچ سالہ فلسطینی بچی کی ہلاکت کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ فلم کے تقسیم کار کے مطابق حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس فلم کی ریلیز سے بھارت اور اسرائیل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔</strong></p>
<p>فرانسیسی نژاد تیونسی کے ہدایت کار کاؤتھر بن ہانیہ کا آسکر کے لیے نامزد کردہ دستاویزی ڈرامہ گزشتہ سال غزہ میں ہند رجب کی حقیقی زندگی کی موت کو بیان کرتا ہے۔</p>
<p>فلم میں گزشتہ سال غزہ میں پیش آنے والے اس واقعے کو دکھایا گیا ہے جس میں ہند رجب نامی پانچ سالہ بچی اپنے خاندان کے ساتھ جنگ کے دوران محفوظ مقام کی طرف نقل مکانی کی کوشش کر رہی تھی اور اسی دوران اسرائیلی فوج کی کارروائی میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔</p>
<p>فلم کے بھارتی تقسیم کار جئے ویراٹرا انٹرٹینمنٹ کے منوج نندوانا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے فلم کو سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن کے سامنے پیش کیا تھا۔ ان کے مطابق بورڈ کے ایک رکن نے انہیں غیر رسمی طور پر بتایا کہ اگر اس فلم کو بھارت میں سنیما گھروں میں نمائش کی اجازت دی گئی تو اس سے اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>منوج نندوانا کا کہنا تھا کہ انہیں فلم کی ریلیز روکنے کے بارے میں باضابطہ تحریری اطلاع نہیں دی گئی، تاہم بورڈ کے ردعمل سے انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ فلم کو منظوری نہیں ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فلم دنیا کے کئی ممالک میں ریلیز ہو چکی ہے اور اسرائیل میں بھی دکھائی جا چکی ہے، اس لیے یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اسے بھارت میں حساس کیوں قرار دیا جا رہا ہے۔</p>
<p>تقسیم کار کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں مشرقی بھارتی شہر کولکتہ میں ہونے والے ایک بین الاقوامی فلمی میلے میں اس فلم کی نمائش بھی کی گئی تھی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/ShashiTharoor/status/2034831960892481894?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ShashiTharoor/status/2034831960892481894?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>دوسری جانب اپوزیشن جماعت کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے فلم کی نمائش روکنے کے فیصلے کو قابل افسوس قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری معاشرے میں کسی فلم کی نمائش آزادی اظہار کی عکاسی ہوتی ہے اور اسے حکومتوں کے باہمی تعلقات سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق غیر ملکی ممالک کے ممکنہ ردعمل کے خوف سے فلموں یا کتابوں پر پابندی لگانے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔</p>
<p>یہ فلم رواں سال آسکر ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے میں نامزد بھی ہوئی تھی، تاہم یہ اعزاز ناروے کی فیملی ڈراما فلم سینٹی مینٹل ویلیو کو ملا۔ گزشتہ سال وینس فلم فیسٹیول میں اس فلم کو سلور لائن گرینڈ جیوری پرائز بھی دیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284152</guid>
      <pubDate>Sun, 22 Mar 2026 11:19:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/221117047729472.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/221117047729472.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
