<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تہران کی جوہری پلانٹ پر حملے کی اطلاع کے دوران ایرانیوں نے بھی ”عید“ منائی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284148/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رمضان المبارک کے اختتام پر ہزاروں ایرانیوں نے ہفتے کے روز عید الفطر کی نماز ادا کی، جبکہ تہران نے اس دوران اپنے جوہری افزودگی پلانٹ پر حملے کی رپورٹ اور اسرائیل نے بمباری میں شدت لانے کی دھمکی دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سپریم لیڈر روایتی طور پر عید کی نماز کی امامت کرتے ہیں، لیکن آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو اس ماہ کے اوائل میں اپنے والد کی امریکی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد اقتدار میں آئے، عوام کی نظروں سے اوجھل رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بجائے، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی مرکزی تہران کی امام خمینی جامع مسجد میں نماز کی امامت کرنے پہنچے، جہاں نمازیوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ اطراف کی سڑکیں بھی ان سے بھر گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ شام، فضائی حملوں نے شہر میں نوروز، فارسی نئے سال کے جشن کا مزاج کرکرا کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرید نامی ایک اشتہاری ایگزیکٹو نے آن لائن پیغام کے ذریعے اے ایف پی کو بتایا کہ ”نئے سال کی رونق شہر کے ہر کونے میں محسوس ہو رہی تھی۔ تاجریش یا گلستان شہرک جیسے علاقے، جہاں میں گیا، وہاں حسین اورسجی سنوری خواتین پھول خرید رہی تھیں،“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ”عین نئے سال ( نوروز) کے آغاز پر ہونے والے اسرائیلی حملے انتہائی دل دکھانے والے تھے۔ یہ خیال ہی تکلیف دہ تھا کہ کچھ لوگ نئے سال کے کھانے کی میز پر بیٹھے اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہوں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے اہم اتحادی، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے مجتبیٰ خامنہ ای کو تہنیتی پیغام بھیجا، جس میں انہوں نے ”ایرانی عوام کے لیے ان کڑے امتحانات پر قابو پانے کی قوت کی دعا کی اور اس بات پر زور دیا کہ اس مشکل وقت میں ماسکو تہران کا وفادار دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار بنا رہے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل نے صوبہ اصفہان کے علاقے نطنز میں واقع ایک پلانٹ کو نشانہ بنایا، جہاں زیرِ زمین سینٹری فیوجز کے ذریعے ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے لیے یورینیم افزودہ کیا جاتا ہے، اور یہ تنصیب گزشتہ سال جون کی جنگ میں پہلے ہی نقصان کا شکار ہو چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جوہری تنصیب&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے تسنیم نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں کہا ہے کہ ”امریکہ اور غاصب صہیونی رجیم کی جانب سے ہمارے ملک پر مجرمانہ حملوں کے بعد، آج صبح نطنز افزودگی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جوہری مواد کے کسی قسم کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ( آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے ”کسی بھی جوہری حادثے کے خطرے سے بچنے کے لیے فوجی تحمل“ کی اپیل کی، تاہم اقوامِ متحدہ کے نگران ادارے نے تصدیق کی کہ مقامِ وقوع سے باہر تابکاری کی سطح میں کسی اضافے کی اطلاع نہیں ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نطنز کے حوالے سے سوال پر اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ ” ایسے کسی حملے سے آگاہ نہیں“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تین ہفتوں سے جاری اس تنازع کے بعد، جس نے عالمی توانائی کی قیمتوں کو بلند سطح پر پہنچا دیا ہے، آبنائے ہرمز کے تیل برآمدی راستے کو متاثر کیا اور واشنگٹن کے اپنے قریبی اتحادیوں سے تعلقات کو کشیدہ کر دیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ”ہم اپنے اہداف کے حصول کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بڑی فوجی کارروائیوں کو سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے کہا ہے کہ پینٹاگون اپنے مشن کی تکمیل کے لیے چار سے چھ ہفتوں کا جائزہ لے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں مزید ہزاروں میرینز تعینات کر رہا ہے، جو ممکنہ زمینی کارروائی کا عندیہ ہو سکتا ہے، جبکہ ایران اسرائیل اور اپنے تیل و گیس سے مالا مال خلیجی پڑوسی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل پر رات بھر ایرانی میزائل حملوں کے بعد، اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے دارالحکومت میں اُن مقامات کو نشانہ بنایا جنہیں اس نے ”رجیم کے اہداف“ قرار دیا، یہ شہر 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے مسلسل بمباری کی زد میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ” رواں ہفتے ایرانی دہشت گرد رجیم  اور اس کے زیرِ انحصار ڈھانچے کے خلاف اسرائیلی فوج اور امریکی فوج کے حملوں کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتوں اور عالمی رسد میں کمی کے خدشات بڑھنے کے درمیان، امریکی محکمۂ خزانہ نے کہا ہے کہ وہ اُن ایرانی تیل بردار کھیپوں پر عائد پابندیاں عارضی طور پر اٹھا رہا ہے جو پہلے ہی جہازوں پر لدی جا چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اجازت کے تحت 20 مارچ سے قبل جہازوں پر لدا ایرانی خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور فروخت ممکن ہوگی، اور یہ رعایت 19 اپریل تک برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ کا اتحادیوں سے اقدام کا مطالبہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب توانائی کے ماہرین اور صارفین خلیج میں تیل و گیس کی تنصیبات، بشمول دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس حب، پر حملوں کی قیمت کا اندازہ لگا رہے ہیں، ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں کو ”بزدل“ قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے اس آبی گزرگاہ کو محدود کر دیا ہے، جو عام حالات میں دنیا کے لگ بھگ پانچویں حصے کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا ہے کہ ”آبنائے ہرمز کی نگرانی اور حفاظت اُن دیگر ممالک کو کرنی ہوگی جو اسے استعمال کرتے ہیں، امریکہ نہیں!“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے اُن ممالک کے جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو ایران کے خلاف حملوں میں شامل ہیں، تاہم دیگر کو سہولت فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں، گزشتہ ایک ماہ کے دوران شمالی سمندر کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے اور یہ اب 105 ڈالر فی بیرل سے نمایاں طور پر تجاوز کر چکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رمضان المبارک کے اختتام پر ہزاروں ایرانیوں نے ہفتے کے روز عید الفطر کی نماز ادا کی، جبکہ تہران نے اس دوران اپنے جوہری افزودگی پلانٹ پر حملے کی رپورٹ اور اسرائیل نے بمباری میں شدت لانے کی دھمکی دی ہے۔</strong></p>
<p>ایران کے سپریم لیڈر روایتی طور پر عید کی نماز کی امامت کرتے ہیں، لیکن آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو اس ماہ کے اوائل میں اپنے والد کی امریکی اسرائیلی حملے میں شہادت کے بعد اقتدار میں آئے، عوام کی نظروں سے اوجھل رہے۔</p>
<p>اس کے بجائے، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی ایجی مرکزی تہران کی امام خمینی جامع مسجد میں نماز کی امامت کرنے پہنچے، جہاں نمازیوں کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ اطراف کی سڑکیں بھی ان سے بھر گئیں۔</p>
<p>گزشتہ شام، فضائی حملوں نے شہر میں نوروز، فارسی نئے سال کے جشن کا مزاج کرکرا کر دیا تھا۔</p>
<p>فرید نامی ایک اشتہاری ایگزیکٹو نے آن لائن پیغام کے ذریعے اے ایف پی کو بتایا کہ ”نئے سال کی رونق شہر کے ہر کونے میں محسوس ہو رہی تھی۔ تاجریش یا گلستان شہرک جیسے علاقے، جہاں میں گیا، وہاں حسین اورسجی سنوری خواتین پھول خرید رہی تھیں،“</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ”عین نئے سال ( نوروز) کے آغاز پر ہونے والے اسرائیلی حملے انتہائی دل دکھانے والے تھے۔ یہ خیال ہی تکلیف دہ تھا کہ کچھ لوگ نئے سال کے کھانے کی میز پر بیٹھے اپنی جان سے ہاتھ دھو رہے ہوں گے۔“</p>
<p>ایران کے اہم اتحادی، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے مجتبیٰ خامنہ ای کو تہنیتی پیغام بھیجا، جس میں انہوں نے ”ایرانی عوام کے لیے ان کڑے امتحانات پر قابو پانے کی قوت کی دعا کی اور اس بات پر زور دیا کہ اس مشکل وقت میں ماسکو تہران کا وفادار دوست اور قابلِ اعتماد شراکت دار بنا رہے گا۔“</p>
<p>ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل نے صوبہ اصفہان کے علاقے نطنز میں واقع ایک پلانٹ کو نشانہ بنایا، جہاں زیرِ زمین سینٹری فیوجز کے ذریعے ایران کے متنازع جوہری پروگرام کے لیے یورینیم افزودہ کیا جاتا ہے، اور یہ تنصیب گزشتہ سال جون کی جنگ میں پہلے ہی نقصان کا شکار ہو چکی تھی۔</p>
<p><strong>جوہری تنصیب</strong></p>
<p>تنظیم نے تسنیم نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں کہا ہے کہ ”امریکہ اور غاصب صہیونی رجیم کی جانب سے ہمارے ملک پر مجرمانہ حملوں کے بعد، آج صبح نطنز افزودگی کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔“</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جوہری مواد کے کسی قسم کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
<p>انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی ( آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے ”کسی بھی جوہری حادثے کے خطرے سے بچنے کے لیے فوجی تحمل“ کی اپیل کی، تاہم اقوامِ متحدہ کے نگران ادارے نے تصدیق کی کہ مقامِ وقوع سے باہر تابکاری کی سطح میں کسی اضافے کی اطلاع نہیں ملی۔</p>
<p>نطنز کے حوالے سے سوال پر اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ ” ایسے کسی حملے سے آگاہ نہیں“۔</p>
<p>تین ہفتوں سے جاری اس تنازع کے بعد، جس نے عالمی توانائی کی قیمتوں کو بلند سطح پر پہنچا دیا ہے، آبنائے ہرمز کے تیل برآمدی راستے کو متاثر کیا اور واشنگٹن کے اپنے قریبی اتحادیوں سے تعلقات کو کشیدہ کر دیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ پیچھے ہٹنے پر غور کر رہے ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ”ہم اپنے اہداف کے حصول کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی بڑی فوجی کارروائیوں کو سمیٹنے پر غور کر رہے ہیں“۔</p>
<p>وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے کہا ہے کہ پینٹاگون اپنے مشن کی تکمیل کے لیے چار سے چھ ہفتوں کا جائزہ لے رہا ہے۔</p>
<p>تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن مشرقِ وسطیٰ میں مزید ہزاروں میرینز تعینات کر رہا ہے، جو ممکنہ زمینی کارروائی کا عندیہ ہو سکتا ہے، جبکہ ایران اسرائیل اور اپنے تیل و گیس سے مالا مال خلیجی پڑوسی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔</p>
<p>اسرائیل پر رات بھر ایرانی میزائل حملوں کے بعد، اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے دارالحکومت میں اُن مقامات کو نشانہ بنایا جنہیں اس نے ”رجیم کے اہداف“ قرار دیا، یہ شہر 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے مسلسل بمباری کی زد میں ہے۔</p>
<p>وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ” رواں ہفتے ایرانی دہشت گرد رجیم  اور اس کے زیرِ انحصار ڈھانچے کے خلاف اسرائیلی فوج اور امریکی فوج کے حملوں کی شدت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔“</p>
<p>تیل کی قیمتوں اور عالمی رسد میں کمی کے خدشات بڑھنے کے درمیان، امریکی محکمۂ خزانہ نے کہا ہے کہ وہ اُن ایرانی تیل بردار کھیپوں پر عائد پابندیاں عارضی طور پر اٹھا رہا ہے جو پہلے ہی جہازوں پر لدی جا چکی ہیں۔</p>
<p>اس اجازت کے تحت 20 مارچ سے قبل جہازوں پر لدا ایرانی خام تیل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی ترسیل اور فروخت ممکن ہوگی، اور یہ رعایت 19 اپریل تک برقرار رہے گی۔</p>
<p><strong>ٹرمپ کا اتحادیوں سے اقدام کا مطالبہ</strong></p>
<p>جب توانائی کے ماہرین اور صارفین خلیج میں تیل و گیس کی تنصیبات، بشمول دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس حب، پر حملوں کی قیمت کا اندازہ لگا رہے ہیں، ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں کو ”بزدل“ قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
<p>ایران نے اس آبی گزرگاہ کو محدود کر دیا ہے، جو عام حالات میں دنیا کے لگ بھگ پانچویں حصے کے خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا ہے کہ ”آبنائے ہرمز کی نگرانی اور حفاظت اُن دیگر ممالک کو کرنی ہوگی جو اسے استعمال کرتے ہیں، امریکہ نہیں!“</p>
<p>ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران نے اُن ممالک کے جہازوں پر پابندیاں عائد کی ہیں جو ایران کے خلاف حملوں میں شامل ہیں، تاہم دیگر کو سہولت فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>اس کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ گئی ہیں، گزشتہ ایک ماہ کے دوران شمالی سمندر کے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے اور یہ اب 105 ڈالر فی بیرل سے نمایاں طور پر تجاوز کر چکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284148</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Mar 2026 20:56:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے پی پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/21200822de8d4bb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/21200822de8d4bb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
