<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:44:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:44:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی کی بندش، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284141/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر بند ہوئیں، کیونکہ عراق نے غیر ملکی کمپنیوں کے زیرِ انتظام تمام آئل فیلڈز پر فورس میجر کا اعلان کردیا ہے اور ایران جنگ میں شدت آگئی ہے جس کے پیشِ نظر امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں مزید میرینز اور ملاح تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مئی کے لیے برینٹ کروڈ کے سودے 3.54 ڈالر یا 3.26 فیصد اضافے کے ساتھ 112.19 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے جو جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اپریل کے لیے امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودے، جن کی مدت جمعہ کو ختم ہو گئی، 2.18 ڈالر یا 2.27 فیصد اضافے کے ساتھ 98.32 ڈالر پر بند ہوئے۔ زیادہ فعال طور پر تجارت کیے جانے والے دوسرے مہینے کے امریکی خام تیل کے سودے 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 98.23 ڈالر پر بند ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیشن کے دوران ایک موقع پر برینٹ کروڈ کے فیوچر سودوں میں 4 ڈالر سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے جس میں ایران کی اہم توانائی کی تنصیبات پر حملے اور اس ملک کی جانب سے اپنے پڑوسی ممالک بشمول سعودی عرب، قطر اور کویت پر جوابی حملے شامل ہیں۔ اگین کیپیٹل کے پارٹنر جان کلڈف نے کہا کہ یہ بدترین صورتحال ہے، نہ صرف یہ کہ ہمارے سامنے عراق میں فورس میجر کی صورتحال ہے، بلکہ امریکہ کی جانب سے خلیج فارس میں فوجیوں کی ایک بڑی تعداد بھی جمع کی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی منڈی کو سپلائی کی جلد بحالی اور اس مسئلے کے فوری حل کی امیدیں ہماری آنکھوں کے سامنے دم توڑ رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں اس ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 8.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ فرنٹ منتھ (موجودہ مہینے کے سودے) ڈبلیو ٹی آئی گزشتہ جمعہ کے اختتام کے مقابلے میں تقریباً 0.4 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوئے۔ بدھ کو برینٹ کے مقابلے میں ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت کا فرق  11 سال کی وسیع ترین سطح پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی منڈی میں اب اس بات کے خدشات اور توقعات جنم لے رہی ہیں کہ رسد کی یہ بندش طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے، کیونکہ ایران پر حملوں کے بعد اہم ترین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلنے میں کم از کم کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکسو بینک میں کموڈٹی اسٹریٹیجی کے سربراہ اولے ہینسن نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں فوری کمی کا امکان نظر نہیں آتا کیونکہ پیداواری عمل کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں اب ایسے کوئی رہنما باقی نہیں رہے جن سے جنگ کے بارے میں بات چیت کی جاسکے جبکہ ایرانی حکام کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی حملے مسلسل جاری ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنے ان مطالبات کو دہرایا کہ ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کویت میں ایک آئل ریفائنری پر حملے کے بعد جمعہ کو اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے پر تازہ حملے کیے۔ اس سے قبل جمعرات کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل توانائی کی تنصیبات پر دوبارہ حملے نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ سمندر میں پھنسے ہوئے ایرانی تیل کے بحری جہازوں سے پابندیاں ہٹانے سے ایشیا کو تین سے چار دنوں میں سپلائی فراہم کی جا سکتی ہے۔ جمعرات کو امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بھی ان منصوبوں کو واضح کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو  سے مزید خام تیل جاری کرنا ممکن ہے۔ دوسری جانب وزیرِ توانائی کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ محفوظ ذخائر سے تیل کے یہ اخراج اگلے چند مہینوں کے دوران کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آبنائے ہرمزعالمی توجہ کا مرکز&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز کے ذریعے آمد و رفت منقطع رہے گی، تیل کی قیمتیں بلند رہیں گی اور ممکنہ طور پر اس کے بعد بھی یہ رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے کل تیل اور ایل این جی کا تقریباً 20 فیصد اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونوو کا کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی روانی محدود رہے گی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان ہی غالب رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی  کے سربراہ فاتح بیرول نے جمعہ کو فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی خلیج سے تیل اور گیس کی سپلائی بحال کرنے میں چھ ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسیس نے جمعہ کو رپورٹ دی  کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر مجبور کرنے کے لیے اس کے جزیرے پر قبضہ کرنے یا اس کی ناکہ بندی کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے، جس سے سپلائی پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خام تیل کی قیمتوں میں جمعہ کو زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ تقریباً چار سال کی بلند ترین سطح پر بند ہوئیں، کیونکہ عراق نے غیر ملکی کمپنیوں کے زیرِ انتظام تمام آئل فیلڈز پر فورس میجر کا اعلان کردیا ہے اور ایران جنگ میں شدت آگئی ہے جس کے پیشِ نظر امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں ہزاروں مزید میرینز اور ملاح تعینات کرنے کے لیے تیار ہے۔</strong></p>
<p>مئی کے لیے برینٹ کروڈ کے سودے 3.54 ڈالر یا 3.26 فیصد اضافے کے ساتھ 112.19 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے جو جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اپریل کے لیے امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کے سودے، جن کی مدت جمعہ کو ختم ہو گئی، 2.18 ڈالر یا 2.27 فیصد اضافے کے ساتھ 98.32 ڈالر پر بند ہوئے۔ زیادہ فعال طور پر تجارت کیے جانے والے دوسرے مہینے کے امریکی خام تیل کے سودے 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 98.23 ڈالر پر بند ہوئے۔</p>
<p>سیشن کے دوران ایک موقع پر برینٹ کروڈ کے فیوچر سودوں میں 4 ڈالر سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے جس میں ایران کی اہم توانائی کی تنصیبات پر حملے اور اس ملک کی جانب سے اپنے پڑوسی ممالک بشمول سعودی عرب، قطر اور کویت پر جوابی حملے شامل ہیں۔ اگین کیپیٹل کے پارٹنر جان کلڈف نے کہا کہ یہ بدترین صورتحال ہے، نہ صرف یہ کہ ہمارے سامنے عراق میں فورس میجر کی صورتحال ہے، بلکہ امریکہ کی جانب سے خلیج فارس میں فوجیوں کی ایک بڑی تعداد بھی جمع کی جا رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی منڈی کو سپلائی کی جلد بحالی اور اس مسئلے کے فوری حل کی امیدیں ہماری آنکھوں کے سامنے دم توڑ رہی ہیں۔</p>
<p>برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں اس ہفتے کے دوران مجموعی طور پر 8.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ فرنٹ منتھ (موجودہ مہینے کے سودے) ڈبلیو ٹی آئی گزشتہ جمعہ کے اختتام کے مقابلے میں تقریباً 0.4 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوئے۔ بدھ کو برینٹ کے مقابلے میں ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت کا فرق  11 سال کی وسیع ترین سطح پر پہنچ گیا۔</p>
<p>تیل کی منڈی میں اب اس بات کے خدشات اور توقعات جنم لے رہی ہیں کہ رسد کی یہ بندش طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے، کیونکہ ایران پر حملوں کے بعد اہم ترین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلنے میں کم از کم کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔</p>
<p>سیکسو بینک میں کموڈٹی اسٹریٹیجی کے سربراہ اولے ہینسن نے کہا کہ توانائی کی قیمتوں میں فوری کمی کا امکان نظر نہیں آتا کیونکہ پیداواری عمل کو پہلے ہی نقصان پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>جمعہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں اب ایسے کوئی رہنما باقی نہیں رہے جن سے جنگ کے بارے میں بات چیت کی جاسکے جبکہ ایرانی حکام کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی حملے مسلسل جاری ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اپنے ان مطالبات کو دہرایا کہ ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔</p>
<p>کویت میں ایک آئل ریفائنری پر حملے کے بعد جمعہ کو اسرائیل اور ایران نے ایک دوسرے پر تازہ حملے کیے۔ اس سے قبل جمعرات کو ٹرمپ نے کہا تھا کہ اسرائیل توانائی کی تنصیبات پر دوبارہ حملے نہیں کرے گا۔</p>
<p>جمعہ کو امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے کہا کہ سمندر میں پھنسے ہوئے ایرانی تیل کے بحری جہازوں سے پابندیاں ہٹانے سے ایشیا کو تین سے چار دنوں میں سپلائی فراہم کی جا سکتی ہے۔ جمعرات کو امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے بھی ان منصوبوں کو واضح کیا تھا۔</p>
<p>امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا تھا کہ امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو  سے مزید خام تیل جاری کرنا ممکن ہے۔ دوسری جانب وزیرِ توانائی کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ محفوظ ذخائر سے تیل کے یہ اخراج اگلے چند مہینوں کے دوران کیے جائیں گے۔</p>
<p><strong>آبنائے ہرمزعالمی توجہ کا مرکز</strong></p>
<p>تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز کے ذریعے آمد و رفت منقطع رہے گی، تیل کی قیمتیں بلند رہیں گی اور ممکنہ طور پر اس کے بعد بھی یہ رجحان برقرار رہ سکتا ہے۔</p>
<p>دنیا کے کل تیل اور ایل این جی کا تقریباً 20 فیصد اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔</p>
<p>یو بی ایس کے تجزیہ کار جیوانی اسٹاونوو کا کہنا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی روانی محدود رہے گی، خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان ہی غالب رہے گا۔</p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی  کے سربراہ فاتح بیرول نے جمعہ کو فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کی خلیج سے تیل اور گیس کی سپلائی بحال کرنے میں چھ ماہ تک کا وقت لگ سکتا ہے۔</p>
<p>ایکسیس نے جمعہ کو رپورٹ دی  کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر مجبور کرنے کے لیے اس کے جزیرے پر قبضہ کرنے یا اس کی ناکہ بندی کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے، جس سے سپلائی پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284141</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Mar 2026 15:57:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/21155427f19a02c.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/21155427f19a02c.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
