<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 13:27:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 13:27:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کی قیمتوں میں کمی لانے کی کوشش، امریکہ نے سمندر میں موجود ایرانی تیل کی فروخت کی اجازت دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284138/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹرمپ انتظامیہ نے جمعہ کو سمندر میں موجود ایرانی تیل کی خریداری پر عائد پابندیاں 30 دنوں کے لیے ختم کردیں جو کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث بڑھی ہوئی تیل کی قیمتوں میں کمی لانے کی تازہ  کوشش ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ پابندیوں میں اس نرمی سے تقریباً 14 کروڑ (140 ملین) بیرل تیل عالمی منڈیوں میں آئے گا، جس سے توانائی کی سپلائی پر موجود دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام وائٹ ہاؤس کے ان خدشات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے تقریباً تین ہفتوں بعد تیل کی قیمتوں میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ نومبر کے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات سے قبل امریکی کاروبار اور صارفین کو نقصان پہنچائے گا، ان انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھی ریپبلکنز کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران جنگ کے دوران پابندیوں میں تیسری بار نرمی کا اعلان&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس لائسنس کو مارکیٹ کے اختتام کے بعد وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا، اور اس میں کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایرانی تیل کو اس چھوٹ کے تحت امریکہ میں درآمد کیا جا سکتا ہے تاکہ اس کی فروخت یا ترسیل مکمل ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن کی جانب سے 1979 کے انقلاب کے بعد پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سے امریکہ نے باقاعدہ طور پر ایرانی تیل درآمد نہیں کیا۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس استثنیٰ کے نتیجے میں کوئی ایرانی تیل امریکی سرزمین تک پہنچے گا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیوبا، شمالی کوریا اور کریمیا ان خطوں میں شامل ہیں جنہیں اس لائسنس سے باہر رکھا گیا ہے، اور یہ رعایت 19 اپریل تک نافذ العمل رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توقع ہے کہ اس اقدام سے ایران سے تیل خریدنے والے سب سے بڑے ملک، چین کو فائدہ پہنچے گا۔ امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ تیل کی سپلائی تین سے چار دنوں کے اندر ایشیا پہنچ سکتی ہے اور اگلے ڈیڑھ ماہ کے دوران ریفائننگ (صاف) ہونے کے بعد مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو ہفتوں سے کچھ زائد عرصے میں یہ تیسرا موقع ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے اپنے مخالف ممالک کے تیل پر عارضی طور پر پابندیاں ختم کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدامات انتظامیہ کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو قابو میں لانا ہے، جو 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر کے 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اس سے قبل روسی تیل پر بھی پابندیاں نرم کر چکا ہے اور جمعہ کو ایک عام لائسنس جاری کیا گیا جس کے تحت جمعہ تک بحری جہازوں پر لدے ہوئے ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ بیسنٹ نے کہا کہ حقیقت میں ہم تہران ہی کے تیل (بیرلز) کو تہران کے خلاف استعمال کریں گے تاکہ آپریشن ایپک فیوری کے تسلسل کے دوران قیمتوں کو کم رکھا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیسنٹ نے جمعرات کو فاکس بزنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس اقدام کا اشارہ دے دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ عالمی سپلائی میں پابندیوں کے شکار ایرانی تیل کی شمولیت سے قیمتوں کو 10 سے 14 دنوں تک کم رکھنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جمعہ کو مزید کہا کہ ایران کے لیے اس اقدام سے حاصل ہونے والی کسی بھی رقم تک رسائی مشکل ہوگی اور واشنگٹن، ایران اور اس کی بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی کی صلاحیت پر اپنا بھرپور دباؤ برقرار رکھے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹرمپ انتظامیہ نے جمعہ کو سمندر میں موجود ایرانی تیل کی خریداری پر عائد پابندیاں 30 دنوں کے لیے ختم کردیں جو کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث بڑھی ہوئی تیل کی قیمتوں میں کمی لانے کی تازہ  کوشش ہے۔</strong></p>
<p>سیکریٹری خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ پابندیوں میں اس نرمی سے تقریباً 14 کروڑ (140 ملین) بیرل تیل عالمی منڈیوں میں آئے گا، جس سے توانائی کی سپلائی پر موجود دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>یہ اقدام وائٹ ہاؤس کے ان خدشات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے تقریباً تین ہفتوں بعد تیل کی قیمتوں میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ نومبر کے وسط مدتی (مڈ ٹرم) انتخابات سے قبل امریکی کاروبار اور صارفین کو نقصان پہنچائے گا، ان انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھی ریپبلکنز کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔</p>
<p><strong>ایران جنگ کے دوران پابندیوں میں تیسری بار نرمی کا اعلان</strong></p>
<p>اس لائسنس کو مارکیٹ کے اختتام کے بعد وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا، اور اس میں کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایرانی تیل کو اس چھوٹ کے تحت امریکہ میں درآمد کیا جا سکتا ہے تاکہ اس کی فروخت یا ترسیل مکمل ہو سکے۔</p>
<p>واشنگٹن کی جانب سے 1979 کے انقلاب کے بعد پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سے امریکہ نے باقاعدہ طور پر ایرانی تیل درآمد نہیں کیا۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اس استثنیٰ کے نتیجے میں کوئی ایرانی تیل امریکی سرزمین تک پہنچے گا یا نہیں۔</p>
<p>کیوبا، شمالی کوریا اور کریمیا ان خطوں میں شامل ہیں جنہیں اس لائسنس سے باہر رکھا گیا ہے، اور یہ رعایت 19 اپریل تک نافذ العمل رہے گی۔</p>
<p>توقع ہے کہ اس اقدام سے ایران سے تیل خریدنے والے سب سے بڑے ملک، چین کو فائدہ پہنچے گا۔ امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ کا کہنا ہے کہ تیل کی سپلائی تین سے چار دنوں کے اندر ایشیا پہنچ سکتی ہے اور اگلے ڈیڑھ ماہ کے دوران ریفائننگ (صاف) ہونے کے بعد مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔</p>
<p>دو ہفتوں سے کچھ زائد عرصے میں یہ تیسرا موقع ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ نے اپنے مخالف ممالک کے تیل پر عارضی طور پر پابندیاں ختم کی ہیں۔</p>
<p>یہ اقدامات انتظامیہ کی ان کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد توانائی کی قیمتوں کو قابو میں لانا ہے، جو 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر کے 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔</p>
<p>امریکہ اس سے قبل روسی تیل پر بھی پابندیاں نرم کر چکا ہے اور جمعہ کو ایک عام لائسنس جاری کیا گیا جس کے تحت جمعہ تک بحری جہازوں پر لدے ہوئے ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دی گئی ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ بیسنٹ نے کہا کہ حقیقت میں ہم تہران ہی کے تیل (بیرلز) کو تہران کے خلاف استعمال کریں گے تاکہ آپریشن ایپک فیوری کے تسلسل کے دوران قیمتوں کو کم رکھا جاسکے۔</p>
<p>بیسنٹ نے جمعرات کو فاکس بزنس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اس اقدام کا اشارہ دے دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ عالمی سپلائی میں پابندیوں کے شکار ایرانی تیل کی شمولیت سے قیمتوں کو 10 سے 14 دنوں تک کم رکھنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>انہوں نے جمعہ کو مزید کہا کہ ایران کے لیے اس اقدام سے حاصل ہونے والی کسی بھی رقم تک رسائی مشکل ہوگی اور واشنگٹن، ایران اور اس کی بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی کی صلاحیت پر اپنا بھرپور دباؤ برقرار رکھے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284138</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Mar 2026 14:49:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/21144736c530956.webp" type="image/webp" medium="image" height="320" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/21144736c530956.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
