<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی جج نے پینٹاگون کی میڈیا پر پابندیاں غیر آئینی قرار دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284131/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی پینٹاگون تک میڈیا کی رسائی سے متعلق سخت گیر پالیسی کو روک دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ان صحافیوں کو سیکیورٹی رسک (سیکیورٹی کے لیے خطرہ) قرار دینے کی دھمکی دی گئی تھی جو ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں عوامی سطح پر جاری کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی عدالت میں &lt;strong&gt;نیویارک ٹائمز&lt;/strong&gt; کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ گزشتہ سال محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے کی جانے والی پالیسی تبدیلیوں نے اسے من مانی چھوٹ دے دی تھی کہ وہ ان رپورٹرز اور خبر رساں اداروں کا بائیکاٹ کرسکے جن کی کوریج محکمے کو پسند نہ ہو۔ مقدمے کے مطابق یہ عمل اظہارِ رائے کی آزادی اور قانونی تقاضوں سے متعلق آئینی تحفظات کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اس موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی معقول ہے اور قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی ڈسٹرکٹ جج پال فریڈمین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وہ فوجیوں اور جنگی منصوبوں کے تحفظ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن صدرٹرمپ کی جانب سے وینزویلا میں حالیہ مداخلت اور ایران کے ساتھ جنگ کے پیش نظر یہ بات پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ عوام کو مختلف زاویوں سے اس بارے میں معلومات تک رسائی حاصل ہو کہ ان کی حکومت کیا کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پر کہا کہ حکومت اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتی اور اس کے خلاف فوری اپیل دائر کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیویارک ٹائمز کے ترجمان چارلی اسٹیٹ لینڈر نے کہا کہ یہ عدالتی فیصلہ آزاد صحافت کے لیے آئینی طور پر محفوظ حقوق کا نفاذ کرتا ہے اور نیویارک ٹائمز اور دیگر آزاد میڈیا کے اس حق کی توثیق کرتا ہے کہ وہ عوام کی جانب سے سوالات پوچھنے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں اسٹیٹ لینڈر نے کہا کہ امریکی عوام اس بات کی وضاحت دیکھنے کے حقدار ہیں کہ ان کی حکومت کیسے چلائی جارہی ہے اور فوج ان کے نام پر اور ان کے ٹیکس کے پیسوں سے کیا اقدامات کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی پینٹاگون تک میڈیا کی رسائی سے متعلق سخت گیر پالیسی کو روک دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ان صحافیوں کو سیکیورٹی رسک (سیکیورٹی کے لیے خطرہ) قرار دینے کی دھمکی دی گئی تھی جو ایسی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں عوامی سطح پر جاری کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔</strong></p>
<p>واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی عدالت میں <strong>نیویارک ٹائمز</strong> کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ گزشتہ سال محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی جانب سے کی جانے والی پالیسی تبدیلیوں نے اسے من مانی چھوٹ دے دی تھی کہ وہ ان رپورٹرز اور خبر رساں اداروں کا بائیکاٹ کرسکے جن کی کوریج محکمے کو پسند نہ ہو۔ مقدمے کے مطابق یہ عمل اظہارِ رائے کی آزادی اور قانونی تقاضوں سے متعلق آئینی تحفظات کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>حکومت نے اس موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی معقول ہے اور قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔</p>
<p>امریکی ڈسٹرکٹ جج پال فریڈمین نے اپنے فیصلے میں کہا کہ وہ فوجیوں اور جنگی منصوبوں کے تحفظ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن صدرٹرمپ کی جانب سے وینزویلا میں حالیہ مداخلت اور ایران کے ساتھ جنگ کے پیش نظر یہ بات پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ عوام کو مختلف زاویوں سے اس بارے میں معلومات تک رسائی حاصل ہو کہ ان کی حکومت کیا کررہی ہے۔</p>
<p>پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سوشل میڈیا پر کہا کہ حکومت اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتی اور اس کے خلاف فوری اپیل دائر کرے گی۔</p>
<p>نیویارک ٹائمز کے ترجمان چارلی اسٹیٹ لینڈر نے کہا کہ یہ عدالتی فیصلہ آزاد صحافت کے لیے آئینی طور پر محفوظ حقوق کا نفاذ کرتا ہے اور نیویارک ٹائمز اور دیگر آزاد میڈیا کے اس حق کی توثیق کرتا ہے کہ وہ عوام کی جانب سے سوالات پوچھنے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔</p>
<p>ایک بیان میں اسٹیٹ لینڈر نے کہا کہ امریکی عوام اس بات کی وضاحت دیکھنے کے حقدار ہیں کہ ان کی حکومت کیسے چلائی جارہی ہے اور فوج ان کے نام پر اور ان کے ٹیکس کے پیسوں سے کیا اقدامات کررہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284131</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Mar 2026 12:28:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/21122605c63e832.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/21122605c63e832.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
