<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:58:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ نے ایران کے میزائل ٹھکانوں پر حملوں کے لیے امریکی افواج کو اپنی فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284129/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاری، برطانیہ نے امریکہ کو برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کی منظوری دے دی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانوی حکومت نے امریکہ کو برطانیہ میں واقع فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی تاکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنانے والے ایرانی میزائل ٹھکانوں پر حملے کیے جا سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاؤننگ اسٹریٹ کے بیان کے مطابق برطانوی وزراء نے جمعہ کو ایران کے ساتھ جنگ اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش پر غور کے لیے اجلاس کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ ”انہوں نے اس بات کی توثیق کی کہ خطے کے اجتماعی دفاع کے لیے امریکہ کو برطانوی اڈوں کے استعمال کی دی گئی اجازت میں وہ دفاعی کارروائیاں بھی شامل ہیں جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والے میزائل ٹھکانوں اور صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس ہفتے کہا تھا کہ برطانیہ ایران کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے ابتدائی طور پر ایران پر حملوں کے لیے برطانوی اڈوں کے استعمال کی امریکی درخواست مسترد کر دی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ انہیں اس بات کا اطمینان ہونا چاہیے کہ کوئی بھی فوجی کارروائی قانونی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں برطانیہ کے اتحادیوں پر حملوں کے بعد اسٹارمر نے اپنا مؤقف تبدیل کیا اور کہا کہ امریکہ آر اے ایف فیئر فورڈ اور ڈیگو گارشیا، جو بحرِ ہند میں امریکہ اور برطانیہ کا مشترکہ فوجی اڈہ ہے،استعمال کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع شروع ہونے کے بعد سے بار بار اسٹارمر پر تنقید کی، یہ شکایت کرتے ہوئے کہ وہ امریکی امداد کے لیے کافی اقدام نہیں کر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوموار کو ٹرمپ نے کہا کہ “کچھ ممالک نے مجھے بہت مایوس کیا” اور اس کے بعد خاص طور پر برطانیہ کو نشانہ بنایا، جسے وہ کبھی “اتحادیوں کا رولز-رائس” قرار دیتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو جاری ڈاؤننگ اسٹریٹ کے بیان میں ’’فوری تناؤ میں کمی اور جنگ کا جلد از جلد حل‘‘ طلب کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں کیے گئے رائے شماری کے مطابق جنگ کے حوالے سے عوام میں بڑے پیمانے پر شبہات پائے جاتے ہیں، جس میں یو گوو کی سروے کے مطابق 59 فیصد افراد نے کہا ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاری، برطانیہ نے امریکہ کو برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کی منظوری دے دی</strong></p>
<p><strong>برطانوی حکومت نے امریکہ کو برطانیہ میں واقع فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی تاکہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کو نشانہ بنانے والے ایرانی میزائل ٹھکانوں پر حملے کیے جا سکیں۔</strong></p>
<p>ڈاؤننگ اسٹریٹ کے بیان کے مطابق برطانوی وزراء نے جمعہ کو ایران کے ساتھ جنگ اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش پر غور کے لیے اجلاس کیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ ”انہوں نے اس بات کی توثیق کی کہ خطے کے اجتماعی دفاع کے لیے امریکہ کو برطانوی اڈوں کے استعمال کی دی گئی اجازت میں وہ دفاعی کارروائیاں بھی شامل ہیں جن کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال ہونے والے میزائل ٹھکانوں اور صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔“</p>
<p>وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اس ہفتے کہا تھا کہ برطانیہ ایران کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے ابتدائی طور پر ایران پر حملوں کے لیے برطانوی اڈوں کے استعمال کی امریکی درخواست مسترد کر دی تھی، یہ کہتے ہوئے کہ انہیں اس بات کا اطمینان ہونا چاہیے کہ کوئی بھی فوجی کارروائی قانونی ہے۔</p>
<p>تاہم، ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں برطانیہ کے اتحادیوں پر حملوں کے بعد اسٹارمر نے اپنا مؤقف تبدیل کیا اور کہا کہ امریکہ آر اے ایف فیئر فورڈ اور ڈیگو گارشیا، جو بحرِ ہند میں امریکہ اور برطانیہ کا مشترکہ فوجی اڈہ ہے،استعمال کر سکتا ہے۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع شروع ہونے کے بعد سے بار بار اسٹارمر پر تنقید کی، یہ شکایت کرتے ہوئے کہ وہ امریکی امداد کے لیے کافی اقدام نہیں کر رہے۔</p>
<p>سوموار کو ٹرمپ نے کہا کہ “کچھ ممالک نے مجھے بہت مایوس کیا” اور اس کے بعد خاص طور پر برطانیہ کو نشانہ بنایا، جسے وہ کبھی “اتحادیوں کا رولز-رائس” قرار دیتے تھے۔</p>
<p>جمعہ کو جاری ڈاؤننگ اسٹریٹ کے بیان میں ’’فوری تناؤ میں کمی اور جنگ کا جلد از جلد حل‘‘ طلب کیا گیا۔</p>
<p>برطانیہ میں کیے گئے رائے شماری کے مطابق جنگ کے حوالے سے عوام میں بڑے پیمانے پر شبہات پائے جاتے ہیں، جس میں یو گوو کی سروے کے مطابق 59 فیصد افراد نے کہا ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے خلاف ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284129</guid>
      <pubDate>Sat, 21 Mar 2026 15:43:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/21001727b09a817.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/21001727b09a817.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
