<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ کا تنازع: ہماری اقتصادی پالیسی کا ردِعمل کیا ہونا چاہیے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284124/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کی جنگ اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جانی و مالی نقصانات کے علاوہ، اس نے پہلے ہی بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق تاریخ کے بدترین تیل بحران کو جنم دے دیا ہے، جہاں جنگ کے آغاز سے اب تک قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ 17 مارچ کو برینٹ کروڈ کی قیمت فی بیرل 103 امریکی ڈالر سے کچھ زائد رہی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے مارچ 2026 کی اپنی ’آئل مارکیٹ رپورٹ‘ میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے (اور بجا طور پر) نشاندہی کی کہ ”مشرقِ وسطیٰ کی جنگ عالمی تیل منڈی کی تاریخ میں رسد میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل اور تیل مصنوعات کی ترسیل تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ تھی، جو اب سکڑ کر نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ کو بائی پاس کرنے کی محدود گنجائش، اور ذخائر کے بھرنے کے باعث خلیجی ممالک اپنی مجموعی تیل پیداوار میں کم از کم 10 ملین بیرل یومیہ کمی کر چکے ہیں۔ اگر بحری ترسیل جلد بحال نہ ہوئی تو رسد میں یہ کمی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کی عملی بندش کے سنگین اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے، جہاں ایران جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزرتا تھا،17 مارچ کو شائع ہونے والی بلومبرگ کی ایک رپورٹ ’ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے توانائی ڈھانچے کو نشانہ بنانے پر تیل کی قیمتوں میں تیزی‘ کے مطابق، 27 فروری (جنگ سے ایک روز قبل) آبنائے ہرمز میں ‘آؤٹ باؤنڈ’ (خلیج فارس سے باہر جانے والے جہاز) اور ‘ان باؤنڈ’ (خلیج فارس میں داخل ہونے والے جہاز) کی تعداد بالترتیب 51 اور 53 تھی۔ تاہم 28 فروری (جنگ کے آغاز کے دن) یہ تعداد نمایاں طور پر کم ہو کر بالترتیب 43 اور 22 رہ گئی۔ یکم مارچ تک یہ تعداد مزید گر کر 13 (آؤٹ باؤنڈ) اور 5 (ان باؤنڈ) رہ گئی، جبکہ اگلے روز یہ مزید کم ہو کر 3 (آؤٹ باؤنڈ) اور 5 (ان باؤنڈ) ہو گئی۔ اس کے بعد مجموعی طور پر یہی سطح برقرار رہی، حتیٰ کہ 4، 9، 12 اور 16 مارچ کو کوئی بھی ان باؤنڈ جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا، جبکہ 10 مارچ کو 8 اور 15 مارچ کو 7 آؤٹ باؤنڈ جہاز گزرے، جو اس عرصے میں بالترتیب سب سے زیادہ اور دوسری بڑی تعداد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17 مارچ کو شائع ہونے والی بلومبرگ کی ایک اور رپورٹ ’برینٹ آئل مسلسل تیسرے سیشن میں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر بند‘ کے مطابق ”برینٹ تیل مسلسل تیسرے سیشن میں 100 ڈالر سے اوپر بند ہوا، جو اگست 2022 کے بعد طویل ترین سلسلہ ہے… تیل کی منڈیاں اب بھی عالمی برینٹ بینچ مارک کے لیے ریکارڈ کی سب سے غیر مستحکم ہفتے کے اثرات محسوس کر رہی ہیں… ’آبنائے ہرمز کی بندش ایک شپنگ رکاوٹ کو حقیقی عالمی رسدی کمی میں بدل رہی ہے کیونکہ خطے میں ذخائر بھر رہے ہیں اور اپ اسٹریم پیداوار بند کی جا رہی ہے،’ مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں، جن میں مارٹائن ریٹس اور شارلٹ فرکنز شامل ہیں، نے لکھا ہے۔ بینک نے دوسری سہ ماہی کے لیے اپنی قیمت کی پیش گوئی بڑھا کر 110 ڈالر فی بیرل کر دی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ای اے کی جانب سے تاریخ میں سب سے بڑے ذخائر کے اجراء (400 ملین بیرل) کا عندیہ تیل کی رسد کے جھٹکے کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ 172 ملین بیرل جاری کرے گا، جو آئی ای اے کے مجموعی ذخیرہ اجراء کا حصہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق یہ اجراء قرض کی شکل میں ہوگا۔ 15 مارچ کو بلومبرگ کی شائع کردہ رپورٹ ’ایران جنگ کے باعث امریکی تیل ذخائر کے اجراء کو تبادلے کی صورت میں رکھنے کا اعادہ‘ کے مطابق ” امریکی محکمۂ توانائی نے اتوار کو دوبارہ واضح کیا کہ اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو سے 172 ملین بیرل تیل کے مجوزہ اجراء کو ‘ایکسچینج’ کی صورت میں ترتیب دیا جائے گا۔ ادارے نے جمعہ کو مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اس کا آغاز 86 ملین بیرل کے ایک ایکسچینج سے ہوگا، جو دراصل ایک قرض ہوتا ہے جسے کمپنیوں کو بعد میں سود سمیت واپس کرنا ہوتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ تیل آئندہ ہفتے مارکیٹ میں آنا شروع ہو جائے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلے ہی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ کیا گیا۔ تاہم اس فیصلے پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے، کیونکہ جن ذخائر سے تیل فراہم کیا جا رہا ہے وہ ایران جنگ سے قبل کی نسبت کہیں کم قیمت پر خریدا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ردِعمل کے طور پر، اگرچہ تاحال کوئی تیل سبسڈی کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کے متعدد اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد بنیادی طور پر تیل کے استعمال کو محدود کرنا ہے، اور ساتھ ہی مالی گنجائش پیدا کرنا بھی، مثلاً عارضی طور پر سرکاری شعبے میں تنخواہوں میں کمی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;10 مارچ کو الجزیرہ کی شائع کردہ رپورٹ ’ایران جنگ سے پیدا ہونے والے تیل بحران کے باعث پاکستان میں لفایت شعاری کے سخت اقدامات‘ کے مطابق اس ضمن میں کہا گیا ہے کہ ” پورا خطہ اس وقت حالتِ جنگ میں ہے،‘ شریف نے کہا، جب انہوں نے اقدامات کی ایک سیریز کا اعلان کیا، جن میں سرکاری ملازمین کے لیے چار روزہ ورک ویک اور 16 مارچ سے ماہ کے اختتام تک تعلیمی اداروں کے لیے اسپرنگ تعطیلات شامل ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا ہے کہ سرکاری عملے کا 50 فیصد حصہ باری باری گھر سے کام کرے گا، اور نجی شعبے کو بھی اسی نوعیت کے انتظامات کی سفارش کی گئی ہے، تاہم بینکاری جیسے اہم شعبوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ … ان کفایتی اقدامات میں یہ بھی شامل ہے کہ وفاقی اور صوبائی کابینہ کے ارکان آئندہ دو ماہ کے لیے اپنی تنخواہیں اور مراعات نہیں لیں گے، جبکہ وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی تنخواہوں میں اس مدت کے دوران 25 فیصد کمی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس تناظر میں ’کفایت شعاری‘ کا استعمال دراصل اخراجات کو معقول بنانے کے معنی میں کیا گیا ہے، جبکہ مضمون کے بقیہ حصے میں یہ ایک معاشی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے، جو مجموعی طلب کو سکیڑنے والی پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے، اور عموماً پالیسی ریٹ میں اضافے (مالیاتی کفایت شعاری) اور/یا مالیاتی استحکام کی پالیسیوں (فِسکل کفایت شعاری) کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ موجودہ بڑے چیلنج کے پیشِ نظر یہ تمام اقدامات اہم ہیں—خصوصاً اس تناظر میں کہ برسوں سے جاری کفایت شعاری اور پرو سائیکلکل پالیسیوں نے معاشی نمو پر پہلے ہی گہرا منفی اثر ڈالا ہے، تاہم اعلان کردہ پالیسیاں اپنے اثرات کے لحاظ سے خاصی محدود دکھائی دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت، یہ اقدامات دو بڑے بنیادی مسائل کو نظرانداز کرتے ہیں: ایک طرف (غلط طور پر) حد سے زیادہ اختیار کی گئی مالیاتی کفایت شعاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بلند شرح سود کی ادائیگیاں، اور دوسری جانب بلند ٹیکس شرحیں اور ترقیاتی و لچک (ریزیلینس) سے متعلق کم اخراجات، جن کے باعث نہ صرف معاشی ترقی متاثر ہو رہی ہے بلکہ شمولیت کی سطح کم ہو رہی ہے اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کم شرحِ نمو کے نتیجے میں اندرونی وسائل کی فراہمی بھی کمزور رہی ہے۔ چنانچہ اعلان کردہ اقدامات سے حاصل ہونے والی مالیاتی اور زرِمبادلہ بچت، کم ٹیکس وصولی اور برآمدات میں کمی کے باعث ہونے والی زرِمبادلہ آمدن کی کمی کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنی بنیادی معاشی پالیسی سوچ پر نظرِ ثانی کرے، یعنی معاشی لٹریچر میں مستعمل کفایت شعاری پالیسیوں سے ہٹ کر غیر کفایتی پالیسیوں کی جانب آئے، اور پرو سائیکلکل طرزِ عمل کے بجائے کاؤنٹرسائیکلکل پالیسی اپنائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;15 مارچ کو بلومبرگ میں شائع ہونے والے مضمون ’’دیٹ سیونٹیز(70) شو از گیٹنگ این آئل اسپائیک ریٹرن‘‘ یعنی (وہ 70 کی دہائی کا شو تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ لے کر واپس آ رہا ہے) میں ایسے اقدامات کو ’عارضی وقفہ‘ (شارٹ ہولڈنگ پیٹرن) قرار دیتے ہوئے مزید گہرے اقدامات پر زور دیا گیا، اور کہا گیا کہ ” ضرورت اس بات کی ہے کہ بجٹ اور شرحِ سود کے حوالے سے سخت فیصلے کیے جائیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مضمون میں اس حوالے سے نشاندہی کی گئی کہ ”ہم اس صورتحال سے پہلے بھی گزر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1970 کی دہائی میں، صدر جیرالڈ فورڈ نے عرب اسرائیل جنگ کے بعد بڑھتی ہوئی توانائی لاگت سے نمٹنے کے لیے امریکیوں پر زور دیا تھا۔ ان کی ’ وہپ انفلیشن ناؤ یا فوری مہنگائی کنٹرول، مہم کے تحت لوگوں کو گھروں میں سبزیاں اگانے، کار پولنگ کرنے اور کپڑے ٹھنڈے پانی سے دھونے کی ترغیب دی گئی۔ …یہ زیادہ تر سنجیدہ پالیسی کے بجائے عوامی تعلقات کی مشق تھی۔ مگر نصف صدی بعد، ایشیائی رہنما ایک بار پھر لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی عادات میں تبدیلی لائیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث تیل و گیس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں: آدھی آستین کے کپڑے پہنیں، ایئر کنڈیشننگ کم استعمال کریں، لفٹ کے بجائے سیڑھیاں استعمال کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے اُس وقت تھا، ویسے ہی اب بھی یہ اقدامات مؤثر مالی یا مالیاتی پالیسیوں کا متبادل نہیں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ایک عارضی وقفہ فراہم کرتے ہیں۔ اخراجات میں کمی وہ پہلی چیز ہے جس پر انسان قابو پا سکتا ہے، مگر اگر موجودہ تنازع، جو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے سے شروع ہوا، طویل ہو گیا تو ان اقدامات کا کردار محدود ہی رہے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ مخصوص پالیسی سمت کے حوالے سے، اسی مضمون میں نشاندہی کی گئی کہ ”مرکزی بینکوں کو اس لمحے کا درست ادراک ہونا چاہیے۔ اس ہفتے کئی حکام ملاقات کر رہے ہیں، جن میں فیڈرل ریزرو، یورپی سینٹرل بینک اور بینک آف جاپان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی مرحلے میں، مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے مکمل عزم کا اظہار کافی ہونا چاہیے۔ اقدامات بعد میں کیے جا سکتے ہیں، اگر ضرورت ہو۔ گھبراہٹ، پھیلائی گئی تشویش، یا ایسے ردعمل جو سرمایہ کاروں کو فوری اور غیر سوچے سمجھے لگیں، کی کوئی گنجائش نہیں۔ …مرکزی بینکوں اور فنانس منسٹرز کو صرف دکھاوا یا چالاکیوں سے کام نہیں چلنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ہر چیز گزر جائے گی، مگر جو اصل معنی رکھتے ہیں (سبسٹنس)، وہ کبھی اتنے اہم نہیں رہے جتنے آج ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل معنوی اصلاحات (ریفارمز آف ’سبسٹنس‘) نہ صرف موجودہ بحران میں مدد فراہم کریں گی، بلکہ ایک پولی کرائسس کی دنیا میں معیشت کی ریزلیئنس بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔ ساتھ ہی یہ ضروری ہے کہ معیشت کو پائیدار میکرو اکنامک سٹیبلیٹی اور اقتصادی ترقی کی راہ پر ڈالا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا حکومت کو مجموعی طور پر اپنی پالیسی سمت پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی، خاص طور پر کووڈ-19 وبا اور یوکرین وار کے بعد پیدا ہونے والے سپلائی سائیڈ شاکس کے تجربات کی روشنی میں۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کو پالیسی کی تیاری اور نفاذ کے ڈیزائن میں مزید تخلیقی ہونا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مثال کے طور پر، وزارتِ خزانہ (ایم او ایف) میں جلد از جلد ایک ’اکنامک کرائسس ایسٹیمیشن وِنگ‘ (ای سی ای ڈبلیو) قائم کی جانی چاہیے، جو ممکنہ خطرات کے متعدد سیناریوز کے لیے ڈیٹا تیار کرے، جن میں جنگ، اور موسمیاتی آفات جیسے سیلاب، سموگ، وبائی امراض شامل ہوں۔ ایران وار کے موجودہ حالات کی وجہ سے، ای سی ای ڈبلیو کو فی الحال صرف تنازع سے متعلق خطرات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، لیکن بعد میں یہ تمام خطرات کا احاطہ کرے اور منصوبہ بندی کے لیے مناسب معلومات فراہم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے، وسیع معلومات کے احاطے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ای سی ای ڈبلیو کو معلومات فراہم کرے، جسے ’انٹر منیسیریل رسکس ایسٹیمیشن کمیٹی‘ ( آئی ایم آر ای سی) کہا جائے۔ یہ کمیٹی تمام متعلقہ وزارتوں، ماحولیات، صحت، تعلیم، اور صوبائی فنانس، پلاننگ اور ٹیکس اتھارٹیز، پر مشتمل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، مالیاتی و مالیاتی ہم آہنگی (فِسکل-مانیٹری کوآرڈینیشن) کے مجموعی میکانزم کے تحت، حکومت کو فوراً ایک ’ٹریلیٹرل اسپیشل کمیٹی‘ قائم کرنی چاہیے، جو مجموعی اقتصادی بحران کے تخمینہ اور پالیسی ردعمل کے لیے کام کرے۔ اس کمیٹی کے تین ارکان ہوں گے: وزارتِ خزانہ (یم او ایف)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، اور وزارتِ پلاننگ اینڈ اسپیشل انیشیٹو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی ای ڈبلیو اور دونوں کمیٹیاں مل کر فِسکل اور مانیٹری پالیسی کے ردعمل کو پروسیس اور تقسیم کریں، مثلاً ٹیکس اور سبسڈی سے متعلق پالیسیاں، تاکہ یہ اقتصادی تبادلے کے لیے سگنل فراہم کریں اور بجٹ کے ردعمل میں مددگار ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ، اس ضمن میں آئی ایم ایف کو شامل کیا جانا چاہیے، اور زیر التوا اصلاحات جیسے: ٹیکس بیس کو وسیع کرنا، انرجی سیکٹر میں اصلاحات تاکہ فِسکل بیل آؤٹس کی ضرورت کم ہو، اور غیر تیل کی امپورٹس کو معقول بنانے کے لیے ہدفی ایڈمنسٹریٹو اقدامات، یہ سب خطرات کو کم کرنے کے متبادل اقدامات کے طور پر اہم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہاں ترقی کی اہمیت، اس کی زیادہ شمولیت، اور معیشت کی ریزلیئنس بڑھانے پر زور دینا ضروری ہے، چاہے یہ پالیسی سازوں کے لیے اندرونی طور پر ہو یا آئی ایم ایف کے ساتھ۔ اور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ فِسکل اور مجموعی فنانسنگ کی ضروریات کو ٹارگٹڈ اور پرپز ڈرِوِن سپلائی سائیڈ اقدامات کے ذریعے پورا کیا جائے، یعنی نان نیولیبرل پالیسیز اپنانے کے ذریعے۔ اس کے بجائے اگریگیٹ ڈیمانڈ سکویز پالیسیاں جاری رکھنے سے معیشت میں مزید مشکلات پیدا ہوں گی، جس سے آمدنی، برآمدات، اور ترقی متاثر ہوگی، اور اس کے نتیجے میں غربت اور آمدنی میں عدم مساوات میں اضافہ بھی ہوگا، جو پروسائیکلکل اور کفایتی پالیسیز فراہم کر سکتی ہیں، مگر یہ زیادہ نقصان دہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، حکومت کو یہ معاملہ آئی ایم ایف کے ساتھ اٹھانا چاہیے کہ تیل کی قیمتوں کے شدید جھٹکوں (ڈیپ آئل پرائس شاک) کے لیے آئی ایم ایف کی مداخلت ضروری ہے، اور یہ مداخلت فوری اور مؤثر خصوصی ڈرائنگ رائٹس ( ایس ڈی آرز) کے اجراء کی صورت میں ہونی چاہیے، جیسا کہ اگست 2021 میں کووِڈ-19 وبا کے کساد بازاری اثرات سے نمٹنے کے لیے کیا گیا تھا۔ تاہم اس بار یہ غلطی نہ دہرائی جائے کہ تخصیصات روایتی بنیادوں پر کی جائیں، بلکہ کسی مخصوص ملک کی حقیقی ضروریات کی بنیاد پر کی جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ &lt;strong&gt;بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کی جنگ اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جانی و مالی نقصانات کے علاوہ، اس نے پہلے ہی بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے مطابق تاریخ کے بدترین تیل بحران کو جنم دے دیا ہے، جہاں جنگ کے آغاز سے اب تک قیمتوں میں تقریباً 40 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔ 17 مارچ کو برینٹ کروڈ کی قیمت فی بیرل 103 امریکی ڈالر سے کچھ زائد رہی۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے مارچ 2026 کی اپنی ’آئل مارکیٹ رپورٹ‘ میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے (اور بجا طور پر) نشاندہی کی کہ ”مشرقِ وسطیٰ کی جنگ عالمی تیل منڈی کی تاریخ میں رسد میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے خام تیل اور تیل مصنوعات کی ترسیل تقریباً 20 ملین بیرل یومیہ تھی، جو اب سکڑ کر نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ کو بائی پاس کرنے کی محدود گنجائش، اور ذخائر کے بھرنے کے باعث خلیجی ممالک اپنی مجموعی تیل پیداوار میں کم از کم 10 ملین بیرل یومیہ کمی کر چکے ہیں۔ اگر بحری ترسیل جلد بحال نہ ہوئی تو رسد میں یہ کمی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔“</p>
<p>آبنائے ہرمز کی عملی بندش کے سنگین اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے، جہاں ایران جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزرتا تھا،17 مارچ کو شائع ہونے والی بلومبرگ کی ایک رپورٹ ’ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کے توانائی ڈھانچے کو نشانہ بنانے پر تیل کی قیمتوں میں تیزی‘ کے مطابق، 27 فروری (جنگ سے ایک روز قبل) آبنائے ہرمز میں ‘آؤٹ باؤنڈ’ (خلیج فارس سے باہر جانے والے جہاز) اور ‘ان باؤنڈ’ (خلیج فارس میں داخل ہونے والے جہاز) کی تعداد بالترتیب 51 اور 53 تھی۔ تاہم 28 فروری (جنگ کے آغاز کے دن) یہ تعداد نمایاں طور پر کم ہو کر بالترتیب 43 اور 22 رہ گئی۔ یکم مارچ تک یہ تعداد مزید گر کر 13 (آؤٹ باؤنڈ) اور 5 (ان باؤنڈ) رہ گئی، جبکہ اگلے روز یہ مزید کم ہو کر 3 (آؤٹ باؤنڈ) اور 5 (ان باؤنڈ) ہو گئی۔ اس کے بعد مجموعی طور پر یہی سطح برقرار رہی، حتیٰ کہ 4، 9، 12 اور 16 مارچ کو کوئی بھی ان باؤنڈ جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزرا، جبکہ 10 مارچ کو 8 اور 15 مارچ کو 7 آؤٹ باؤنڈ جہاز گزرے، جو اس عرصے میں بالترتیب سب سے زیادہ اور دوسری بڑی تعداد تھی۔</p>
<p>17 مارچ کو شائع ہونے والی بلومبرگ کی ایک اور رپورٹ ’برینٹ آئل مسلسل تیسرے سیشن میں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر بند‘ کے مطابق ”برینٹ تیل مسلسل تیسرے سیشن میں 100 ڈالر سے اوپر بند ہوا، جو اگست 2022 کے بعد طویل ترین سلسلہ ہے… تیل کی منڈیاں اب بھی عالمی برینٹ بینچ مارک کے لیے ریکارڈ کی سب سے غیر مستحکم ہفتے کے اثرات محسوس کر رہی ہیں… ’آبنائے ہرمز کی بندش ایک شپنگ رکاوٹ کو حقیقی عالمی رسدی کمی میں بدل رہی ہے کیونکہ خطے میں ذخائر بھر رہے ہیں اور اپ اسٹریم پیداوار بند کی جا رہی ہے،’ مورگن اسٹینلے کے تجزیہ کاروں، جن میں مارٹائن ریٹس اور شارلٹ فرکنز شامل ہیں، نے لکھا ہے۔ بینک نے دوسری سہ ماہی کے لیے اپنی قیمت کی پیش گوئی بڑھا کر 110 ڈالر فی بیرل کر دی ہے۔“</p>
<p>آئی ای اے کی جانب سے تاریخ میں سب سے بڑے ذخائر کے اجراء (400 ملین بیرل) کا عندیہ تیل کی رسد کے جھٹکے کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ 172 ملین بیرل جاری کرے گا، جو آئی ای اے کے مجموعی ذخیرہ اجراء کا حصہ ہوگا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق یہ اجراء قرض کی شکل میں ہوگا۔ 15 مارچ کو بلومبرگ کی شائع کردہ رپورٹ ’ایران جنگ کے باعث امریکی تیل ذخائر کے اجراء کو تبادلے کی صورت میں رکھنے کا اعادہ‘ کے مطابق ” امریکی محکمۂ توانائی نے اتوار کو دوبارہ واضح کیا کہ اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو سے 172 ملین بیرل تیل کے مجوزہ اجراء کو ‘ایکسچینج’ کی صورت میں ترتیب دیا جائے گا۔ ادارے نے جمعہ کو مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اس کا آغاز 86 ملین بیرل کے ایک ایکسچینج سے ہوگا، جو دراصل ایک قرض ہوتا ہے جسے کمپنیوں کو بعد میں سود سمیت واپس کرنا ہوتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ تیل آئندہ ہفتے مارکیٹ میں آنا شروع ہو جائے گا۔“</p>
<p>اس پیش رفت کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلے ہی نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے اضافہ کیا گیا۔ تاہم اس فیصلے پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے، کیونکہ جن ذخائر سے تیل فراہم کیا جا رہا ہے وہ ایران جنگ سے قبل کی نسبت کہیں کم قیمت پر خریدا گیا تھا۔</p>
<p>ردِعمل کے طور پر، اگرچہ تاحال کوئی تیل سبسڈی کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کے متعدد اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد بنیادی طور پر تیل کے استعمال کو محدود کرنا ہے، اور ساتھ ہی مالی گنجائش پیدا کرنا بھی، مثلاً عارضی طور پر سرکاری شعبے میں تنخواہوں میں کمی۔</p>
<p>10 مارچ کو الجزیرہ کی شائع کردہ رپورٹ ’ایران جنگ سے پیدا ہونے والے تیل بحران کے باعث پاکستان میں لفایت شعاری کے سخت اقدامات‘ کے مطابق اس ضمن میں کہا گیا ہے کہ ” پورا خطہ اس وقت حالتِ جنگ میں ہے،‘ شریف نے کہا، جب انہوں نے اقدامات کی ایک سیریز کا اعلان کیا، جن میں سرکاری ملازمین کے لیے چار روزہ ورک ویک اور 16 مارچ سے ماہ کے اختتام تک تعلیمی اداروں کے لیے اسپرنگ تعطیلات شامل ہیں۔“</p>
<p>شہباز شریف نے کہا ہے کہ سرکاری عملے کا 50 فیصد حصہ باری باری گھر سے کام کرے گا، اور نجی شعبے کو بھی اسی نوعیت کے انتظامات کی سفارش کی گئی ہے، تاہم بینکاری جیسے اہم شعبوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ … ان کفایتی اقدامات میں یہ بھی شامل ہے کہ وفاقی اور صوبائی کابینہ کے ارکان آئندہ دو ماہ کے لیے اپنی تنخواہیں اور مراعات نہیں لیں گے، جبکہ وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی تنخواہوں میں اس مدت کے دوران 25 فیصد کمی کی جائے گی۔</p>
<p>یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس تناظر میں ’کفایت شعاری‘ کا استعمال دراصل اخراجات کو معقول بنانے کے معنی میں کیا گیا ہے، جبکہ مضمون کے بقیہ حصے میں یہ ایک معاشی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوا ہے، جو مجموعی طلب کو سکیڑنے والی پالیسیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے، اور عموماً پالیسی ریٹ میں اضافے (مالیاتی کفایت شعاری) اور/یا مالیاتی استحکام کی پالیسیوں (فِسکل کفایت شعاری) کے ذریعے نافذ کی جاتی ہے۔</p>
<p>اگرچہ موجودہ بڑے چیلنج کے پیشِ نظر یہ تمام اقدامات اہم ہیں—خصوصاً اس تناظر میں کہ برسوں سے جاری کفایت شعاری اور پرو سائیکلکل پالیسیوں نے معاشی نمو پر پہلے ہی گہرا منفی اثر ڈالا ہے، تاہم اعلان کردہ پالیسیاں اپنے اثرات کے لحاظ سے خاصی محدود دکھائی دیتی ہیں۔</p>
<p>درحقیقت، یہ اقدامات دو بڑے بنیادی مسائل کو نظرانداز کرتے ہیں: ایک طرف (غلط طور پر) حد سے زیادہ اختیار کی گئی مالیاتی کفایت شعاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بلند شرح سود کی ادائیگیاں، اور دوسری جانب بلند ٹیکس شرحیں اور ترقیاتی و لچک (ریزیلینس) سے متعلق کم اخراجات، جن کے باعث نہ صرف معاشی ترقی متاثر ہو رہی ہے بلکہ شمولیت کی سطح کم ہو رہی ہے اور غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
<p>کم شرحِ نمو کے نتیجے میں اندرونی وسائل کی فراہمی بھی کمزور رہی ہے۔ چنانچہ اعلان کردہ اقدامات سے حاصل ہونے والی مالیاتی اور زرِمبادلہ بچت، کم ٹیکس وصولی اور برآمدات میں کمی کے باعث ہونے والی زرِمبادلہ آمدن کی کمی کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ حکومت اپنی بنیادی معاشی پالیسی سوچ پر نظرِ ثانی کرے، یعنی معاشی لٹریچر میں مستعمل کفایت شعاری پالیسیوں سے ہٹ کر غیر کفایتی پالیسیوں کی جانب آئے، اور پرو سائیکلکل طرزِ عمل کے بجائے کاؤنٹرسائیکلکل پالیسی اپنائے۔</p>
<p>15 مارچ کو بلومبرگ میں شائع ہونے والے مضمون ’’دیٹ سیونٹیز(70) شو از گیٹنگ این آئل اسپائیک ریٹرن‘‘ یعنی (وہ 70 کی دہائی کا شو تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ لے کر واپس آ رہا ہے) میں ایسے اقدامات کو ’عارضی وقفہ‘ (شارٹ ہولڈنگ پیٹرن) قرار دیتے ہوئے مزید گہرے اقدامات پر زور دیا گیا، اور کہا گیا کہ ” ضرورت اس بات کی ہے کہ بجٹ اور شرحِ سود کے حوالے سے سخت فیصلے کیے جائیں۔“</p>
<p>مضمون میں اس حوالے سے نشاندہی کی گئی کہ ”ہم اس صورتحال سے پہلے بھی گزر چکے ہیں۔</p>
<p>1970 کی دہائی میں، صدر جیرالڈ فورڈ نے عرب اسرائیل جنگ کے بعد بڑھتی ہوئی توانائی لاگت سے نمٹنے کے لیے امریکیوں پر زور دیا تھا۔ ان کی ’ وہپ انفلیشن ناؤ یا فوری مہنگائی کنٹرول، مہم کے تحت لوگوں کو گھروں میں سبزیاں اگانے، کار پولنگ کرنے اور کپڑے ٹھنڈے پانی سے دھونے کی ترغیب دی گئی۔ …یہ زیادہ تر سنجیدہ پالیسی کے بجائے عوامی تعلقات کی مشق تھی۔ مگر نصف صدی بعد، ایشیائی رہنما ایک بار پھر لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنی عادات میں تبدیلی لائیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے باعث تیل و گیس کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں: آدھی آستین کے کپڑے پہنیں، ایئر کنڈیشننگ کم استعمال کریں، لفٹ کے بجائے سیڑھیاں استعمال کریں۔</p>
<p>جیسے اُس وقت تھا، ویسے ہی اب بھی یہ اقدامات مؤثر مالی یا مالیاتی پالیسیوں کا متبادل نہیں ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ایک عارضی وقفہ فراہم کرتے ہیں۔ اخراجات میں کمی وہ پہلی چیز ہے جس پر انسان قابو پا سکتا ہے، مگر اگر موجودہ تنازع، جو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے سے شروع ہوا، طویل ہو گیا تو ان اقدامات کا کردار محدود ہی رہے گا۔“</p>
<p>مزید یہ کہ مخصوص پالیسی سمت کے حوالے سے، اسی مضمون میں نشاندہی کی گئی کہ ”مرکزی بینکوں کو اس لمحے کا درست ادراک ہونا چاہیے۔ اس ہفتے کئی حکام ملاقات کر رہے ہیں، جن میں فیڈرل ریزرو، یورپی سینٹرل بینک اور بینک آف جاپان شامل ہیں۔</p>
<p>ابتدائی مرحلے میں، مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے مکمل عزم کا اظہار کافی ہونا چاہیے۔ اقدامات بعد میں کیے جا سکتے ہیں، اگر ضرورت ہو۔ گھبراہٹ، پھیلائی گئی تشویش، یا ایسے ردعمل جو سرمایہ کاروں کو فوری اور غیر سوچے سمجھے لگیں، کی کوئی گنجائش نہیں۔ …مرکزی بینکوں اور فنانس منسٹرز کو صرف دکھاوا یا چالاکیوں سے کام نہیں چلنا چاہیے۔</p>
<p>اگرچہ ہر چیز گزر جائے گی، مگر جو اصل معنی رکھتے ہیں (سبسٹنس)، وہ کبھی اتنے اہم نہیں رہے جتنے آج ہیں۔“</p>
<p>اصل معنوی اصلاحات (ریفارمز آف ’سبسٹنس‘) نہ صرف موجودہ بحران میں مدد فراہم کریں گی، بلکہ ایک پولی کرائسس کی دنیا میں معیشت کی ریزلیئنس بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔ ساتھ ہی یہ ضروری ہے کہ معیشت کو پائیدار میکرو اکنامک سٹیبلیٹی اور اقتصادی ترقی کی راہ پر ڈالا جائے۔</p>
<p>لہٰذا حکومت کو مجموعی طور پر اپنی پالیسی سمت پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی، خاص طور پر کووڈ-19 وبا اور یوکرین وار کے بعد پیدا ہونے والے سپلائی سائیڈ شاکس کے تجربات کی روشنی میں۔ اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کو پالیسی کی تیاری اور نفاذ کے ڈیزائن میں مزید تخلیقی ہونا ہوگا۔</p>
<p>مثال کے طور پر، وزارتِ خزانہ (ایم او ایف) میں جلد از جلد ایک ’اکنامک کرائسس ایسٹیمیشن وِنگ‘ (ای سی ای ڈبلیو) قائم کی جانی چاہیے، جو ممکنہ خطرات کے متعدد سیناریوز کے لیے ڈیٹا تیار کرے، جن میں جنگ، اور موسمیاتی آفات جیسے سیلاب، سموگ، وبائی امراض شامل ہوں۔ ایران وار کے موجودہ حالات کی وجہ سے، ای سی ای ڈبلیو کو فی الحال صرف تنازع سے متعلق خطرات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے، لیکن بعد میں یہ تمام خطرات کا احاطہ کرے اور منصوبہ بندی کے لیے مناسب معلومات فراہم کرے۔</p>
<p>اس کے لیے، وسیع معلومات کے احاطے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو ای سی ای ڈبلیو کو معلومات فراہم کرے، جسے ’انٹر منیسیریل رسکس ایسٹیمیشن کمیٹی‘ ( آئی ایم آر ای سی) کہا جائے۔ یہ کمیٹی تمام متعلقہ وزارتوں، ماحولیات، صحت، تعلیم، اور صوبائی فنانس، پلاننگ اور ٹیکس اتھارٹیز، پر مشتمل ہوگی۔</p>
<p>مزید برآں، مالیاتی و مالیاتی ہم آہنگی (فِسکل-مانیٹری کوآرڈینیشن) کے مجموعی میکانزم کے تحت، حکومت کو فوراً ایک ’ٹریلیٹرل اسپیشل کمیٹی‘ قائم کرنی چاہیے، جو مجموعی اقتصادی بحران کے تخمینہ اور پالیسی ردعمل کے لیے کام کرے۔ اس کمیٹی کے تین ارکان ہوں گے: وزارتِ خزانہ (یم او ایف)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، اور وزارتِ پلاننگ اینڈ اسپیشل انیشیٹو۔</p>
<p>ای سی ای ڈبلیو اور دونوں کمیٹیاں مل کر فِسکل اور مانیٹری پالیسی کے ردعمل کو پروسیس اور تقسیم کریں، مثلاً ٹیکس اور سبسڈی سے متعلق پالیسیاں، تاکہ یہ اقتصادی تبادلے کے لیے سگنل فراہم کریں اور بجٹ کے ردعمل میں مددگار ہوں۔</p>
<p>اس کے علاوہ، اس ضمن میں آئی ایم ایف کو شامل کیا جانا چاہیے، اور زیر التوا اصلاحات جیسے: ٹیکس بیس کو وسیع کرنا، انرجی سیکٹر میں اصلاحات تاکہ فِسکل بیل آؤٹس کی ضرورت کم ہو، اور غیر تیل کی امپورٹس کو معقول بنانے کے لیے ہدفی ایڈمنسٹریٹو اقدامات، یہ سب خطرات کو کم کرنے کے متبادل اقدامات کے طور پر اہم ہیں۔</p>
<p>یہاں ترقی کی اہمیت، اس کی زیادہ شمولیت، اور معیشت کی ریزلیئنس بڑھانے پر زور دینا ضروری ہے، چاہے یہ پالیسی سازوں کے لیے اندرونی طور پر ہو یا آئی ایم ایف کے ساتھ۔ اور بنیادی نکتہ یہ ہے کہ فِسکل اور مجموعی فنانسنگ کی ضروریات کو ٹارگٹڈ اور پرپز ڈرِوِن سپلائی سائیڈ اقدامات کے ذریعے پورا کیا جائے، یعنی نان نیولیبرل پالیسیز اپنانے کے ذریعے۔ اس کے بجائے اگریگیٹ ڈیمانڈ سکویز پالیسیاں جاری رکھنے سے معیشت میں مزید مشکلات پیدا ہوں گی، جس سے آمدنی، برآمدات، اور ترقی متاثر ہوگی، اور اس کے نتیجے میں غربت اور آمدنی میں عدم مساوات میں اضافہ بھی ہوگا، جو پروسائیکلکل اور کفایتی پالیسیز فراہم کر سکتی ہیں، مگر یہ زیادہ نقصان دہ ہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>آخر میں، حکومت کو یہ معاملہ آئی ایم ایف کے ساتھ اٹھانا چاہیے کہ تیل کی قیمتوں کے شدید جھٹکوں (ڈیپ آئل پرائس شاک) کے لیے آئی ایم ایف کی مداخلت ضروری ہے، اور یہ مداخلت فوری اور مؤثر خصوصی ڈرائنگ رائٹس ( ایس ڈی آرز) کے اجراء کی صورت میں ہونی چاہیے، جیسا کہ اگست 2021 میں کووِڈ-19 وبا کے کساد بازاری اثرات سے نمٹنے کے لیے کیا گیا تھا۔ تاہم اس بار یہ غلطی نہ دہرائی جائے کہ تخصیصات روایتی بنیادوں پر کی جائیں، بلکہ کسی مخصوص ملک کی حقیقی ضروریات کی بنیاد پر کی جائیں۔</p>
</blockquote>
<p>کاپی رائٹ <strong>بزنس ریکارڈر، 2026</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284124</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Mar 2026 17:59:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر عمر جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/201649266a4ab5e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/201649266a4ab5e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
