<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیفا کا بڑا فیصلہ: خواتین کے تمام عالمی مقابلوں میں خاتون کوچز لازمی قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284118/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیفا نے خواتین کی فٹبال میں صنفی برابری اور خواتین کوچز کی حوصلہ افزائی کے لیے اہم ضوابط متعارف کرائے ہیں، جس کے تحت اب تمام بین الاقوامی خواتین ٹورنامنٹس میں حصہ لینے والی ٹیموں کے لیے کم از کم ایک خاتون ہیڈ کوچ یا اسسٹنٹ کوچ کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو فیفا کونسل سے منظور شدہ یہ ضوابط رواں سال ہونے والے انڈر-17  اور انڈر-20 ویمنز ورلڈ کپ اور ویمنز چیمپئنز کپ سے نافذ العمل ہوں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ اگلے سال برازیل میں ہونے والا ویمنز ورلڈ کپ بھی ان قوانین کے دائرہ کار میں شامل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کی چیف فٹ بال آفیسر جل ایلس نے کہا کہ آج کوچنگ کے شعبے میں خواتین کی تعداد کافی نہیں ہے، ہمیں تبدیلی کی رفتار تیز کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے جس میں واضح راستے بنانا، مواقع فراہم کرنا اور سائیڈ لائنز (کھیل کے میدان کے ساتھ) پر خواتین کی موجودگی کو نمایاں کرنا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”فیفا کے یہ نئے ضوابط، مخصوص ترقیاتی پروگراموں کے ساتھ مل کر، خواتین کوچز کی موجودہ اور مستقبل کی نسل میں ایک اہم سرمایہ کاری ثابت ہوں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا میں ہونے والے 2023 کے ویمنز ورلڈ کپ میں 32 ہیڈ کوچز میں سے صرف 12 خواتین تھیں۔ فیفا کے مطابق یہ تناسب عالمی سطح پر خواتین کے فٹ بال میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کی عکاسی نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کی سرینا ویگمین وہ واحد خاتون کوچ تھیں جو راؤنڈ آف 16 کے بعد بھی مقابلے میں موجود رہیں اور انہوں نے لائنسز (انگلینڈ کی ٹیم) کی فائنل تک رہنمائی کی جہاں وہ دوسرے نمبر پر رہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیفا نے خواتین کی فٹبال میں صنفی برابری اور خواتین کوچز کی حوصلہ افزائی کے لیے اہم ضوابط متعارف کرائے ہیں، جس کے تحت اب تمام بین الاقوامی خواتین ٹورنامنٹس میں حصہ لینے والی ٹیموں کے لیے کم از کم ایک خاتون ہیڈ کوچ یا اسسٹنٹ کوچ کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>جمعرات کو فیفا کونسل سے منظور شدہ یہ ضوابط رواں سال ہونے والے انڈر-17  اور انڈر-20 ویمنز ورلڈ کپ اور ویمنز چیمپئنز کپ سے نافذ العمل ہوں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ اگلے سال برازیل میں ہونے والا ویمنز ورلڈ کپ بھی ان قوانین کے دائرہ کار میں شامل ہوگا۔</p>
<p>فیفا کی چیف فٹ بال آفیسر جل ایلس نے کہا کہ آج کوچنگ کے شعبے میں خواتین کی تعداد کافی نہیں ہے، ہمیں تبدیلی کی رفتار تیز کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے ہوں گے جس میں واضح راستے بنانا، مواقع فراہم کرنا اور سائیڈ لائنز (کھیل کے میدان کے ساتھ) پر خواتین کی موجودگی کو نمایاں کرنا شامل ہے۔</p>
<p>”فیفا کے یہ نئے ضوابط، مخصوص ترقیاتی پروگراموں کے ساتھ مل کر، خواتین کوچز کی موجودہ اور مستقبل کی نسل میں ایک اہم سرمایہ کاری ثابت ہوں گے۔“</p>
<p>آسٹریلیا میں ہونے والے 2023 کے ویمنز ورلڈ کپ میں 32 ہیڈ کوچز میں سے صرف 12 خواتین تھیں۔ فیفا کے مطابق یہ تناسب عالمی سطح پر خواتین کے فٹ بال میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کی عکاسی نہیں کرتا۔</p>
<p>انگلینڈ کی سرینا ویگمین وہ واحد خاتون کوچ تھیں جو راؤنڈ آف 16 کے بعد بھی مقابلے میں موجود رہیں اور انہوں نے لائنسز (انگلینڈ کی ٹیم) کی فائنل تک رہنمائی کی جہاں وہ دوسرے نمبر پر رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284118</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Mar 2026 14:51:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/20144718dfd9fd9.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/20144718dfd9fd9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
