<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ اب حکومت اٹھائے گی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284115/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بزنس ریکارڈر کی ایک خصوصی رپورٹ میں ایک سرکاری دستاویز کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت 14 مارچ کے بعد پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتوں میں ہونے والے کسی بھی اضافے کا بوجھ خود برداشت کر سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے 23 ارب روپے کی سبسڈی ان فنڈز سے فراہم کی جائے گی جو گزشتہ ہفتے وزیرِ اعظم کے اعلان کردہ کفایت شعاری پیکیج  کے نفاذ سے حاصل ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیکیج میں کئی اقدامات شامل ہیں جن میں درج ذیل نکات نمایاں ہیں:(i)  50 فیصد سرکاری ملازمین باری باری گھر سے کام کریں گے (ساتھ ہی نجی شعبے کو بھی اس کی پیروی کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم بینکنگ جیسے اہم شعبوں کو اس سے استثنیٰ دیا گیا ہے)۔(ii) وفاقی اور صوبائی سطح پر 60 فیصد گاڑیوں کوگراونڈ کر دیا جائے گا (بند کر دیا جائے گا)۔ آپریشنل گاڑیاں (سرکاری بسیں، ایمبولینسز اور موٹر سائیکلیں) اس سے مستثنیٰ ہوں گی، جبکہ باقی گاڑیوں کے ایندھن (فیول) کے کوٹے میں 50 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔(iii)  کابینہ ارکان اور معاونینِ خصوصی دو ماہ کی تنخواہیں نہیں لیں گے، جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 20 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔(iv) سرکاری حکام کے بیرونِ ملک دوروں پر پابندی ہوگی، سوائے ان دوروں کے جو قومی مفاد میں ناگزیر ہوں۔(v) تمام وفاقی اور صوبائی محکموں کے چوتھی سہ ماہی  کے ترقیاتی اخراجات میں 20 فیصد کٹوتی کی جائے گی، جس سے وفاقی سطح پر 22 ارب روپے کی بچت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نفاذ تک، یہ کفایت شعاری پیکیج حکومتی ارادوں کی عکاسی کرتا ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ چونکہ ملک اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایک انتہائی سخت پیشگی شرائط والے پروگرام پر عمل پیرا ہے، اس لیے فنڈ کے عملے کی رضامندی حاصل کرنا لازمی ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں دو دیگر عوامل بھی غور طلب ہیں۔ پہلا یہ کہ حکومت کو 657 ارب روپے سے زائد کے محصولات  کی کمی کا سامنا ہے، جاری پروگرام کے دوسرے جائزے میں پیٹرولیم لیوی کی وصولیوں میں 157 ارب روپے کی کمی نوٹ کی گئی، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیونے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ جولائی تا فروری 2026 کے دوران طے شدہ ہدف کے مقابلے میں وصولیوں میں 430 ارب روپے کی کمی رہی۔ حکام نے اس کمی کو پہلے سے طے شدہ ہنگامی اقدامات  یعنی بعض اشیاء پر ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعے پورا کرنے کا عہد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا یہ کہ ترقیاتی اخراجات میں 20 فیصد کی جو کمی تجویز کی گئی ہے، غالباً بجٹ کے اعلان کے وقت ہی اسے مدنظر رکھ لیا گیا تھا، جیسا کہ ماضی کے بجٹس میں بھی ہوتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حقیقت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ جولائی تا فروری حکومت نے سالانہ بجٹ میں مختص کردہ ایک ٹریلین (ایک ہزار ارب) روپے میں سے 558.12 ارب روپے کی منظوری دی جبکہ حقیقت میں صرف 361.27 ارب روپے جاری کیے گئے۔ دوسرے لفظوں میں اس مد میں پہلے ہی بجٹ کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کی جا چکی تھی اور بلاشبہ کسی بھی صورت میں مزید کٹوتی پہلے سے ہی طے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اپنی تجویز کردہ کفایت شعاری کی ہر ایک تدبیر سے متوقع بچت کی مقدار کا تعین  نہیں کیا، تاہم فنانس ڈویژن نے 27.1 ارب روپے کا کفایت شعاری فنڈ قائم کرنے کے لیے کابینہ سے منظوری حاصل کرلی ہے جو اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تجویز کردہ سبسڈی دستیاب ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ رقم (سبسڈی) اسٹاف لیول معاہدے کے تیسرے جائزے  کی کامیابی میں رکاوٹ نہیں بنے گی جو ابھی تک زیرِ التوا ہے۔ کیونکہ آئی ایم ایف کے سینئر عملے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازع عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کررہا ہے، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں، افراطِ زر (مہنگائی) اور علاقائی انفرااسٹرکچر کے حوالے سے اور پاکستان کے معاملے میں، ایندھن کی قلت کے باعث پیداواری صلاحیت میں کمی سے جی ڈی پی  کی شرحِ نمو بھی متاثر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت سے یہ پرزور مطالبہ کیا جانا چاہیے کہ وہ تیل کی ترسیل کے حصول کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی لائے، چاہے وہ جہاں سے بھی دستیاب ہو، بشمول روس (بشرطیکہ ہماری ریفائنریز اسے صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں)، کیونکہ امریکی پابندیاں ایک ماہ کے لیے اٹھا لی گئی ہیں، اسی طرح ایران کے ساتھ بھی بات چیت کی جائے جس نے ان تمام ممالک کے آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز  استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے جو ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ یا اسرائیل کا ساتھ نہیں دے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈ 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بزنس ریکارڈر کی ایک خصوصی رپورٹ میں ایک سرکاری دستاویز کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ حکومت 14 مارچ کے بعد پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی بین الاقوامی قیمتوں میں ہونے والے کسی بھی اضافے کا بوجھ خود برداشت کر سکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے 23 ارب روپے کی سبسڈی ان فنڈز سے فراہم کی جائے گی جو گزشتہ ہفتے وزیرِ اعظم کے اعلان کردہ کفایت شعاری پیکیج  کے نفاذ سے حاصل ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>اس پیکیج میں کئی اقدامات شامل ہیں جن میں درج ذیل نکات نمایاں ہیں:(i)  50 فیصد سرکاری ملازمین باری باری گھر سے کام کریں گے (ساتھ ہی نجی شعبے کو بھی اس کی پیروی کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم بینکنگ جیسے اہم شعبوں کو اس سے استثنیٰ دیا گیا ہے)۔(ii) وفاقی اور صوبائی سطح پر 60 فیصد گاڑیوں کوگراونڈ کر دیا جائے گا (بند کر دیا جائے گا)۔ آپریشنل گاڑیاں (سرکاری بسیں، ایمبولینسز اور موٹر سائیکلیں) اس سے مستثنیٰ ہوں گی، جبکہ باقی گاڑیوں کے ایندھن (فیول) کے کوٹے میں 50 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔(iii)  کابینہ ارکان اور معاونینِ خصوصی دو ماہ کی تنخواہیں نہیں لیں گے، جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 20 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔(iv) سرکاری حکام کے بیرونِ ملک دوروں پر پابندی ہوگی، سوائے ان دوروں کے جو قومی مفاد میں ناگزیر ہوں۔(v) تمام وفاقی اور صوبائی محکموں کے چوتھی سہ ماہی  کے ترقیاتی اخراجات میں 20 فیصد کٹوتی کی جائے گی، جس سے وفاقی سطح پر 22 ارب روپے کی بچت ہوگی۔</p>
<p>نفاذ تک، یہ کفایت شعاری پیکیج حکومتی ارادوں کی عکاسی کرتا ہے اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ چونکہ ملک اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایک انتہائی سخت پیشگی شرائط والے پروگرام پر عمل پیرا ہے، اس لیے فنڈ کے عملے کی رضامندی حاصل کرنا لازمی ہوگا۔</p>
<p>اس تناظر میں دو دیگر عوامل بھی غور طلب ہیں۔ پہلا یہ کہ حکومت کو 657 ارب روپے سے زائد کے محصولات  کی کمی کا سامنا ہے، جاری پروگرام کے دوسرے جائزے میں پیٹرولیم لیوی کی وصولیوں میں 157 ارب روپے کی کمی نوٹ کی گئی، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیونے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ جولائی تا فروری 2026 کے دوران طے شدہ ہدف کے مقابلے میں وصولیوں میں 430 ارب روپے کی کمی رہی۔ حکام نے اس کمی کو پہلے سے طے شدہ ہنگامی اقدامات  یعنی بعض اشیاء پر ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعے پورا کرنے کا عہد کیا تھا۔</p>
<p>دوسرا یہ کہ ترقیاتی اخراجات میں 20 فیصد کی جو کمی تجویز کی گئی ہے، غالباً بجٹ کے اعلان کے وقت ہی اسے مدنظر رکھ لیا گیا تھا، جیسا کہ ماضی کے بجٹس میں بھی ہوتا رہا ہے۔</p>
<p>اس حقیقت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ جولائی تا فروری حکومت نے سالانہ بجٹ میں مختص کردہ ایک ٹریلین (ایک ہزار ارب) روپے میں سے 558.12 ارب روپے کی منظوری دی جبکہ حقیقت میں صرف 361.27 ارب روپے جاری کیے گئے۔ دوسرے لفظوں میں اس مد میں پہلے ہی بجٹ کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کی جا چکی تھی اور بلاشبہ کسی بھی صورت میں مزید کٹوتی پہلے سے ہی طے تھی۔</p>
<p>حکومت نے اپنی تجویز کردہ کفایت شعاری کی ہر ایک تدبیر سے متوقع بچت کی مقدار کا تعین  نہیں کیا، تاہم فنانس ڈویژن نے 27.1 ارب روپے کا کفایت شعاری فنڈ قائم کرنے کے لیے کابینہ سے منظوری حاصل کرلی ہے جو اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تجویز کردہ سبسڈی دستیاب ہو۔</p>
<p>تاہم یہ امید کی جاسکتی ہے کہ یہ رقم (سبسڈی) اسٹاف لیول معاہدے کے تیسرے جائزے  کی کامیابی میں رکاوٹ نہیں بنے گی جو ابھی تک زیرِ التوا ہے۔ کیونکہ آئی ایم ایف کے سینئر عملے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازع عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرات پیدا کررہا ہے، خاص طور پر توانائی کی قیمتوں، افراطِ زر (مہنگائی) اور علاقائی انفرااسٹرکچر کے حوالے سے اور پاکستان کے معاملے میں، ایندھن کی قلت کے باعث پیداواری صلاحیت میں کمی سے جی ڈی پی  کی شرحِ نمو بھی متاثر ہو سکتی ہے۔</p>
<p>حکومت سے یہ پرزور مطالبہ کیا جانا چاہیے کہ وہ تیل کی ترسیل کے حصول کے لیے سفارتی کوششوں میں تیزی لائے، چاہے وہ جہاں سے بھی دستیاب ہو، بشمول روس (بشرطیکہ ہماری ریفائنریز اسے صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں)، کیونکہ امریکی پابندیاں ایک ماہ کے لیے اٹھا لی گئی ہیں، اسی طرح ایران کے ساتھ بھی بات چیت کی جائے جس نے ان تمام ممالک کے آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز  استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے جو ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ یا اسرائیل کا ساتھ نہیں دے رہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈ 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284115</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Mar 2026 14:33:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/20123638ce63ad2.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/20123638ce63ad2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
