<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بندرگاہوں اور کسٹمز کے مسائل، اپٹما کا ہنگامی ٹاسک فورس بنانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284114/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے بندرگاہوں اور کسٹمز سے متعلقہ مسائل کو 30 دنوں کے اندر حل کرنے کیلئے ایک ہنگامی ٹاسک فورس قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اس مجوزہ ٹاسک فورس میں ایف بی آر، وزارتِ تجارت، وزارتِ خزانہ اور اپٹما سمیت تجارتی برادری کے نمائندے شامل ہونگے۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ بندرگاہوں پر تاخیر کی وجہ سے برآمد کنندگان کو روزانہ کی بنیاد پر آرڈرز کا نقصان ہورہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر حسین شاہ کے نام لکھے گئے ایک خط میں، اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے بندرگاہوں اور کسٹمز حکام کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک اور تیزی سے بگڑتی ہوئی قرار دیتے ہوئے اس پر وزیراعظم کی فوری توجہ مبذول کرائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نظامی رکاوٹیں پاکستان کی صنعتی مسابقت کو شدید نقصان پہنچارہی ہیں، کاروبار کرنے کی لاگت کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھارہی ہیں اور ملک کی برآمدی ترقی کے اس مشکل سے حاصل کردہ تسلسل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ جو ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے، قومی برآمدات کے تقریباً 60 فیصد حصے پر مشتمل ہے اور اس سے 1.5 کروڑ (15 ملین) سے زائد مزدور براہِ راست وابستہ ہیں جبکہ مزید کروڑوں افراد بالواسطہ طور پر اس پر انحصار کرتے ہیں۔ اس شعبے کی مسابقت کا دارومدار درآمدی خام مال، مشینری اور دیگر ضروری اشیاء کی بروقت کلیئرنس پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی مرحلے پر کسی بھی قسم کی تاخیر پیداواری لاگت میں اضافے، سپلائی چین کی معطلی اور برآمد کنندگان کی بین الاقوامی وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنے کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے نشاندہی کی کہ پاکستان کسٹمز میں نئے اور پرانے چیلنجز کے ملاپ سے غیر معمولی تاخیر ہورہی ہے جس کے باعث اب شپمنٹس کی کلیئرنس میں اوسطاً 10 دن لگ رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس بین الاقوامی معیار صرف دو سے تین دن کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن کے مطابق، ویبوک سسٹم اب نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) کے تحت اسکیننگ کے لیے کنٹینرز کے ایک بڑے حصے کی نشاندہی کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں کلیئرنس کا عمل کئی مراحل پر محیط ہو گیا ہے اور ہر شپمنٹ میں کئی دنوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس عمل میں کئی دنوں کے بعد اسکیننگ، پھر فزیکل ایگزامنیشن، کنٹینرز کی گراؤنڈنگ، اسیسمنٹ (مالیت کا تعین) اور آخر میں ریلیز شامل ہے جس سے کلیئرنس کا کل وقت بڑھ کر کم از کم 10 دن تک پہنچ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے موقف اختیار کیا کہ رسک کی بنیاد پر فرق کیے بغیر، تمام قانونی تقاضے پورے کرنے والے درآمد کنندگان پر اسکیننگ اور معائنے کا بلاامتیاز اطلاق، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے تجارتی سہولت کاری کے معاہدے  کے تحت پاکستان کے وعدوں کے مقصد کو ہی ختم کردیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے مجوزہ سپر آڈیٹرسسٹم پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جس کے تحت تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کو کسٹمز حکام کے ساتھ ملکر درآمدی سامان کے معائنے کا اختیار دیا جائے گا۔ احتساب اور محصولات کے تحفظ کی حمایت کرتے ہوئے اپٹما  نے خبردار کیا  کہ انفورسمنٹ (نفاذ) کے معاملات میں نجی آڈیٹرز کو شامل کرنے سے سنگین قانونی، شفافیت اور مفادات کے ٹکراؤ کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے کلیئرنس کے وقت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، سامان کی خرابی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور  درآمد کنندگان کے لیے رشوت ستانی  اور ہراساں کیے جانے کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا کوئی بھی نظام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مکمل مشاورت کے بعد ہی متعارف کرایا جانا چاہیے جس کے پیچھے ایک واضح قانونی ڈھانچہ اور غلط استعمال کے خلاف حفاظتی اقدامات موجود ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں درآمد کنندگان کو کلیئرنس کے عمل کے مختلف مراحل پر متعدد اداروں بشمول کسٹمز انٹیلی جنس، کسٹمز انفورسمنٹ (پریونٹو)، اور پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی جانب سے گڈز ڈیکلریشن (جی ڈیز) کی بار بار اور اوور لیپنگ جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق، اس صورتحال نے انتہائی ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کی وجہ سے کاروباری اداروں کے لیے پیداواری منصوبہ بندی کرنا، برآمدات کی ڈیڈ لائنز کو پورا کرنا اور ڈیمرج و ڈیٹینشن  کے بھاری چارجز سے بچنا مشکل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے مزید نشاندہی کی کہ حکومت کا فیس لیس اسیسمنٹ سسٹم (بغیر کسی انسانی مداخلت کے جانچ کا نظام) جو انسانی مداخلت کو کم کرنے اور کرپشن روکنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، مطلوبہ سہولت فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ارکان نے رپورٹ کیا ہے کہ اس نظام میں سامان کی مالیت میں من مانا اضافہ ، درجہ بندی کے تنازعات، احتساب کی کمی اور وی بوک سسٹم میں تکنیکی خرابیوں جیسے مسائل درپیش ہیں، جن کی وجہ سے کنسائنمنٹس کئی کئی دن تک بندرگاہوں پر پھنسی رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمینلز پر آپریشنل نااہلی، خاص طور پر کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل  اور ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز  بھی ان تاخیرات کی بڑی وجہ بن رہے ہیں۔ کسٹمز کی جانب سے معائنے کے لیے کنٹینرز کو گراؤنڈ کرنے (نیچے اتارنے) کے احکامات کے باوجود، ٹرمینلز اکثر رش اور آلات کی کمی کی وجہ سے فوری تعمیل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جبکہ اس دوران درآمد کنندگان پر مسلسل ڈیمرج  اور ڈیٹینشن چارجز لاگو ہوتے رہتے ہیں۔ اپٹما نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ٹرمینلز پر لازمی سروس ٹائم لائنز نافذ کرے اور تعمیل نہ کرنے کی صورت میں جرمانے عائد کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل کے خام مال مثلاً کپاس، جوٹ (پٹ سن) اور قدرتی ریشوں کے لیے محکمہ تحفظِ نباتات  سے کلیئرنس حاصل کرنا لازمی ہے۔ تاہم اپٹما  کے ارکان نے پی پی ڈی کے عملے کی محدود دستیابی اور مرحلہ وار پروسیسنگ  کی وجہ سے ہونے والی مسلسل تاخیر کی اطلاع دی ہے جس سے کلیئرنس کے مجموعی وقت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ ان مسائل کے مجموعی اثرات تباہ کن ہیں، جس کی وجہ سے اس شعبے کو ڈیمرج، پیداواری تعطل، بین الاقوامی خریداروں کی جانب سے جرمانوں اور بڑھتے ہوئے مالیاتی اخراجات کی مد میں ماہانہ لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ پاکستان کو بنگلہ دیش، بھارت، ویتنام اور ترکیہ جیسے حریف ممالک کے ہاتھوں اپنے برآمدی آرڈرز مستقل طور پر گنوانے کا خطرہ لاحق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامران ارشد نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ہماری بندرگاہوں پر غیر ضروری تاخیر کا ہر ایک دن ہمارے برآمد کنندگان کے آرڈرز، ہمارے مزدوروں کے روزگار اور ملک کے قیمتی زرمبادلہ کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپٹما نے وزیراعظم سے ان مسائل کو 30 دنوں کے اندر حل کرنے کے لیے ایک ہنگامی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے، اور ملک کے سب سے بڑے برآمدی شعبے کو ہونے والے ناقابلِ تلافی نقصان سے بچانے کے لیے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے بندرگاہوں اور کسٹمز سے متعلقہ مسائل کو 30 دنوں کے اندر حل کرنے کیلئے ایک ہنگامی ٹاسک فورس قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اس مجوزہ ٹاسک فورس میں ایف بی آر، وزارتِ تجارت، وزارتِ خزانہ اور اپٹما سمیت تجارتی برادری کے نمائندے شامل ہونگے۔ ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ بندرگاہوں پر تاخیر کی وجہ سے برآمد کنندگان کو روزانہ کی بنیاد پر آرڈرز کا نقصان ہورہا ہے۔</strong></p>
<p>وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر حسین شاہ کے نام لکھے گئے ایک خط میں، اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد نے بندرگاہوں اور کسٹمز حکام کی موجودہ صورتحال کو انتہائی تشویشناک اور تیزی سے بگڑتی ہوئی قرار دیتے ہوئے اس پر وزیراعظم کی فوری توجہ مبذول کرائی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نظامی رکاوٹیں پاکستان کی صنعتی مسابقت کو شدید نقصان پہنچارہی ہیں، کاروبار کرنے کی لاگت کو ناقابلِ برداشت حد تک بڑھارہی ہیں اور ملک کی برآمدی ترقی کے اس مشکل سے حاصل کردہ تسلسل کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔</p>
<p>پاکستان کا ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا شعبہ جو ملک کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے، قومی برآمدات کے تقریباً 60 فیصد حصے پر مشتمل ہے اور اس سے 1.5 کروڑ (15 ملین) سے زائد مزدور براہِ راست وابستہ ہیں جبکہ مزید کروڑوں افراد بالواسطہ طور پر اس پر انحصار کرتے ہیں۔ اس شعبے کی مسابقت کا دارومدار درآمدی خام مال، مشینری اور دیگر ضروری اشیاء کی بروقت کلیئرنس پر ہے۔</p>
<p>درآمدی مرحلے پر کسی بھی قسم کی تاخیر پیداواری لاگت میں اضافے، سپلائی چین کی معطلی اور برآمد کنندگان کی بین الاقوامی وعدوں کو پورا کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنے کا باعث بنتی ہے۔</p>
<p>اپٹما نے نشاندہی کی کہ پاکستان کسٹمز میں نئے اور پرانے چیلنجز کے ملاپ سے غیر معمولی تاخیر ہورہی ہے جس کے باعث اب شپمنٹس کی کلیئرنس میں اوسطاً 10 دن لگ رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس بین الاقوامی معیار صرف دو سے تین دن کا ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن کے مطابق، ویبوک سسٹم اب نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) کے تحت اسکیننگ کے لیے کنٹینرز کے ایک بڑے حصے کی نشاندہی کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں کلیئرنس کا عمل کئی مراحل پر محیط ہو گیا ہے اور ہر شپمنٹ میں کئی دنوں کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس عمل میں کئی دنوں کے بعد اسکیننگ، پھر فزیکل ایگزامنیشن، کنٹینرز کی گراؤنڈنگ، اسیسمنٹ (مالیت کا تعین) اور آخر میں ریلیز شامل ہے جس سے کلیئرنس کا کل وقت بڑھ کر کم از کم 10 دن تک پہنچ جاتا ہے۔</p>
<p>اپٹما نے موقف اختیار کیا کہ رسک کی بنیاد پر فرق کیے بغیر، تمام قانونی تقاضے پورے کرنے والے درآمد کنندگان پر اسکیننگ اور معائنے کا بلاامتیاز اطلاق، ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے تجارتی سہولت کاری کے معاہدے  کے تحت پاکستان کے وعدوں کے مقصد کو ہی ختم کردیتا ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے مجوزہ سپر آڈیٹرسسٹم پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جس کے تحت تھرڈ پارٹی آڈیٹرز کو کسٹمز حکام کے ساتھ ملکر درآمدی سامان کے معائنے کا اختیار دیا جائے گا۔ احتساب اور محصولات کے تحفظ کی حمایت کرتے ہوئے اپٹما  نے خبردار کیا  کہ انفورسمنٹ (نفاذ) کے معاملات میں نجی آڈیٹرز کو شامل کرنے سے سنگین قانونی، شفافیت اور مفادات کے ٹکراؤ کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے کلیئرنس کے وقت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، سامان کی خرابی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور  درآمد کنندگان کے لیے رشوت ستانی  اور ہراساں کیے جانے کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>اپٹما نے اس بات پر زور دیا کہ ایسا کوئی بھی نظام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مکمل مشاورت کے بعد ہی متعارف کرایا جانا چاہیے جس کے پیچھے ایک واضح قانونی ڈھانچہ اور غلط استعمال کے خلاف حفاظتی اقدامات موجود ہوں۔</p>
<p>مزید برآں درآمد کنندگان کو کلیئرنس کے عمل کے مختلف مراحل پر متعدد اداروں بشمول کسٹمز انٹیلی جنس، کسٹمز انفورسمنٹ (پریونٹو)، اور پوسٹ کلیئرنس آڈٹ کی جانب سے گڈز ڈیکلریشن (جی ڈیز) کی بار بار اور اوور لیپنگ جانچ پڑتال کا سامنا ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق، اس صورتحال نے انتہائی ریگولیٹری غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کی وجہ سے کاروباری اداروں کے لیے پیداواری منصوبہ بندی کرنا، برآمدات کی ڈیڈ لائنز کو پورا کرنا اور ڈیمرج و ڈیٹینشن  کے بھاری چارجز سے بچنا مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p>اپٹما نے مزید نشاندہی کی کہ حکومت کا فیس لیس اسیسمنٹ سسٹم (بغیر کسی انسانی مداخلت کے جانچ کا نظام) جو انسانی مداخلت کو کم کرنے اور کرپشن روکنے کے لیے متعارف کرایا گیا تھا، مطلوبہ سہولت فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ارکان نے رپورٹ کیا ہے کہ اس نظام میں سامان کی مالیت میں من مانا اضافہ ، درجہ بندی کے تنازعات، احتساب کی کمی اور وی بوک سسٹم میں تکنیکی خرابیوں جیسے مسائل درپیش ہیں، جن کی وجہ سے کنسائنمنٹس کئی کئی دن تک بندرگاہوں پر پھنسی رہتی ہیں۔</p>
<p>ٹرمینلز پر آپریشنل نااہلی، خاص طور پر کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل  اور ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز  بھی ان تاخیرات کی بڑی وجہ بن رہے ہیں۔ کسٹمز کی جانب سے معائنے کے لیے کنٹینرز کو گراؤنڈ کرنے (نیچے اتارنے) کے احکامات کے باوجود، ٹرمینلز اکثر رش اور آلات کی کمی کی وجہ سے فوری تعمیل کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جبکہ اس دوران درآمد کنندگان پر مسلسل ڈیمرج  اور ڈیٹینشن چارجز لاگو ہوتے رہتے ہیں۔ اپٹما نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ٹرمینلز پر لازمی سروس ٹائم لائنز نافذ کرے اور تعمیل نہ کرنے کی صورت میں جرمانے عائد کیے جائیں۔</p>
<p>ٹیکسٹائل کے خام مال مثلاً کپاس، جوٹ (پٹ سن) اور قدرتی ریشوں کے لیے محکمہ تحفظِ نباتات  سے کلیئرنس حاصل کرنا لازمی ہے۔ تاہم اپٹما  کے ارکان نے پی پی ڈی کے عملے کی محدود دستیابی اور مرحلہ وار پروسیسنگ  کی وجہ سے ہونے والی مسلسل تاخیر کی اطلاع دی ہے جس سے کلیئرنس کے مجموعی وقت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ ان مسائل کے مجموعی اثرات تباہ کن ہیں، جس کی وجہ سے اس شعبے کو ڈیمرج، پیداواری تعطل، بین الاقوامی خریداروں کی جانب سے جرمانوں اور بڑھتے ہوئے مالیاتی اخراجات کی مد میں ماہانہ لاکھوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ انتباہ بھی کیا گیا کہ پاکستان کو بنگلہ دیش، بھارت، ویتنام اور ترکیہ جیسے حریف ممالک کے ہاتھوں اپنے برآمدی آرڈرز مستقل طور پر گنوانے کا خطرہ لاحق ہے۔</p>
<p>کامران ارشد نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ہماری بندرگاہوں پر غیر ضروری تاخیر کا ہر ایک دن ہمارے برآمد کنندگان کے آرڈرز، ہمارے مزدوروں کے روزگار اور ملک کے قیمتی زرمبادلہ کے ضیاع کا باعث بن رہا ہے۔</p>
<p>اپٹما نے وزیراعظم سے ان مسائل کو 30 دنوں کے اندر حل کرنے کے لیے ایک ہنگامی ٹاسک فورس تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے، اور ملک کے سب سے بڑے برآمدی شعبے کو ہونے والے ناقابلِ تلافی نقصان سے بچانے کے لیے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284114</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Mar 2026 12:22:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/201204088cdef62.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/201204088cdef62.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
