<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے میزائل صلاحیتوں سے ممکنہ خطرے سے متعلق امریکی دعوے کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284108/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے  امریکی انٹیلی جنس کے ایک سینئر عہدیدار کے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کردیا جن میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ ملک کی میزائل صلاحیتیں امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ پاکستان نے اس طرح کے دعوؤں کی بنیاد اور وقت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا کے سوالات کے جواب میں دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ  پاکستان کی تزویراتی صلاحیتیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی حامل ہیں جن کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ریمارکس امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ کے اس بیان کے بعد سامنے آئے جنہوں نے بدھ کو سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے ’2026 کی سالانہ تھریٹ اسیسمنٹ‘ (سالانہ خطرات کا جائزہ) رپورٹ پیش کرتے ہوئے پاکستان کا نام ان ممالک میں شامل کیا تھا جو اپنی میزائل ترقی کی وجہ سے امریکی سرزمین کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گبارڈ نے قانون سازوں کو بتایا کہ پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکی حدود تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک ہتھیاروں کا ذخیرہ صرف دفاعی نوعیت کا ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کا میزائل پروگرام، جو بین البراعظمیٰ حدِ مار سے کہیں کم ہے، بھارت کے مقابلے میں قابلِ اعتبار کم از کم بازدار قوت  کے نظریے پر مضبوطی سے قائم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس بھارت کی جانب سے 12,000 کلومیٹر سے زائد حدِ مار رکھنے والی میزائل صلاحیتوں کی ترقی ایک ایسے رجحان کی عکاس ہے جو علاقائی سلامتی کے تقاضوں سے آگے بڑھتا ہے اور بلاشبہ خطے اور اس سے باہر کے لئے تشویش کا باعث ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعمیری تعلقات کے لیے پُرعزم ہے، جو باہمی احترام، غیر امتیازی اور حقائق پر مبنی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واشنگٹن سے اپیل کی کہ وہ جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن اور سوچ سمجھ کر طرز عمل اختیار کرے تاکہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ ملے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے  امریکی انٹیلی جنس کے ایک سینئر عہدیدار کے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کردیا جن میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ ملک کی میزائل صلاحیتیں امریکہ کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ پاکستان نے اس طرح کے دعوؤں کی بنیاد اور وقت پر بھی سوال اٹھایا ہے۔</strong></p>
<p>میڈیا کے سوالات کے جواب میں دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ  پاکستان کی تزویراتی صلاحیتیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی حامل ہیں جن کا مقصد قومی خودمختاری کا تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔</p>
<p>یہ ریمارکس امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ کے اس بیان کے بعد سامنے آئے جنہوں نے بدھ کو سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے ’2026 کی سالانہ تھریٹ اسیسمنٹ‘ (سالانہ خطرات کا جائزہ) رپورٹ پیش کرتے ہوئے پاکستان کا نام ان ممالک میں شامل کیا تھا جو اپنی میزائل ترقی کی وجہ سے امریکی سرزمین کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔</p>
<p>گبارڈ نے قانون سازوں کو بتایا کہ پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی امریکی حدود تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک ہتھیاروں کا ذخیرہ صرف دفاعی نوعیت کا ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کا میزائل پروگرام، جو بین البراعظمیٰ حدِ مار سے کہیں کم ہے، بھارت کے مقابلے میں قابلِ اعتبار کم از کم بازدار قوت  کے نظریے پر مضبوطی سے قائم ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس بھارت کی جانب سے 12,000 کلومیٹر سے زائد حدِ مار رکھنے والی میزائل صلاحیتوں کی ترقی ایک ایسے رجحان کی عکاس ہے جو علاقائی سلامتی کے تقاضوں سے آگے بڑھتا ہے اور بلاشبہ خطے اور اس سے باہر کے لئے تشویش کا باعث ہے۔</p>
<p>ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعمیری تعلقات کے لیے پُرعزم ہے، جو باہمی احترام، غیر امتیازی اور حقائق پر مبنی ہوں۔</p>
<p>انہوں نے واشنگٹن سے اپیل کی کہ وہ جنوبی ایشیا کے اسٹریٹجک تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک متوازن اور سوچ سمجھ کر طرز عمل اختیار کرے تاکہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ ملے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284108</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Mar 2026 11:21:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/201117148c8b67b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/201117148c8b67b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
