<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:06:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:06:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیش لیس معیشت: 2025 کے اختتام تک ڈیجیٹل ذرائع سے ریٹیل ادائیگیاں 92 فیصد تک پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284106/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کا ڈیجیٹل ادائیگی نظام تیزی سے ترقی کررہا ہے اور اکتوبر سے دسمبر 2025 کی سہ ماہی کے دوران تقریباً 92 فیصد ریٹیل لین دین ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے انجام دی گئی جو کیش لیس معیشت کی جانب نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک دولت پاکستان نے رواں مالی سال ادائیگیوں کے نظام پر اپنی دوسری سہ ماہی رپورٹ اکتوبر تا دسمبر 26-2025 جاری کر دی جس میں باضابطہ بینکاری اور ادائیگی کے چینلوں کے ذریعے کم مالیت کے اوربڑی مالیت کے (آر ٹی جی ایس) دونوں طرح کے لین دین کے اہم رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کم مالیت ادائیگیوں کی تعداد 3.4 ارب ٹرانزیکشن رہی جس میں سے 92 فیصد ٹرانزیکشن ڈجیٹل چینلز سے انجام دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تناسب گزشتہ سہ ماہی میں 88 فیصد تھا۔ اس طرح ٹرانزیکشنز کی تعداد گذشتہ سہ ماہی سے 8 فیصد زائد رہی جبکہ خردہ ادائیگیوں کی مالیت 7 فیصد اضافے سے 167 ٹریلین پاکستانی روپے تک پہنچ گئی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگی کی 3.1 ارب ٹرانزیکشن انجام پائیں جن کی مجموعی مالیت بڑھ کر 64 ٹریلین روپے ہو گئی۔ یہ ملکی معیشت میں ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی ہے۔ڈیجیٹل منظرنامے میں موبائل ایپ سے ادائیگیوں کا حصہ بدستور سب سے زیادہ رہا جن میں بینکوں، برانچ لیس بینکاری فراہم کرنے والے اور الیکٹرانک منی اداروں (ای ایم آئی) کی ایپس سے 2.6 ارب ٹرانزیکشن انجام دی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ٹرانزیکشن مجموعی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 83 فیصد تھیں اور ان کی مالیت 40 ٹریلین روپے رہی۔ یہ چینل مختلف اقسام کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوا، جن میں فرد سے فرد کو ادائیگی، بلوں کی ادائیگی، اور اکاؤنٹ والٹ پر مبنی مرچنٹ ادائیگیاں شامل ہیں، جو آن لائن پلیٹ فارم اور خردہ فروش مراکز دونوں پر کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ بینکاری میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں ٹرانزیکشن کی تعداد 11 فیصد اور مالیت 22 فیصد بڑھی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیرِ جائزہ سہ ماہی کے دوران فوری ادائیگی کے نظام ’راست‘ نے اپنی نمو کی مستحکم رفتار برقرار رکھی۔ ’راست‘ نے پہلے سے زیادہ یعنی 645.7 ملین ٹرانزیکشن انجام دیں جن کی مجموعی مالیت 18.5 پریلین روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دورانِ سہ ماہی فرد سے فرد (پی 2 پی) ٹرانزیکشن کی تعداد بڑھ کر 603 ملین ہو گئی (13 فیصد اضافہ) جن کی مالیت 15.7 ٹریلین روپے رہی۔ راست کی فرد سے مرچنٹ (پی 2 ایم) ٹرانزیکشن بڑھ کر 33.6 ملین تک پہنچ گئیں، جن کی مجموعی مالیت 167.6 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;راست استعمال کرتے ہوئے حکومت اور کارپوریٹ اداروں نے 2.6 ٹریلین روپے کی 9 ملین سے زائد ٹرانزیکشن انجام دیں جو کاروباری اور سرکاری ادائیگیوں کے لیے ’راست‘ کی مقبولیت کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زیرِ گردش پیمنٹ کارڈز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا، اور یہ 66.7 ملین تک پہنچ گئی، جن میں سے 87 فیصد ڈیبٹ کارڈ جبکہ صرف 5 فیصد کریڈٹ کارڈ ہیں۔بقیہ سماجی بہبود کے کارڈ اور پری پیڈ کارڈ ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کارڈز کے ذریعے پی او ایس ٹرمینلز اور ای کامرس کی سرگرمیوں میں اضافہ جاری رہا، یومیہ 1.7 ملین ٹرانزیکشن درج کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بھر میں 20,976 اے ٹی ایم کے نیٹ ورک سے 277 ملین ٹرانزیکشن انجام پائیں ، جن کی مالیت اس مدت کے دوران 4.9 ٹریلین روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ 20,143بینک برانچوں اور 763,262بینکاری ایجنٹوں نے نقد ڈپازٹس، رقوم نکلوانے اور منتقلی، اور بل ادائیگیوں جیسی اوور-دی-کاؤنٹرخدمات فراہم کیں۔ بینک برانچوں نے 138 ملین ٹرانزیکشن پر کارروائی کی ، جن کی مجموعی مالیت 102 ٹریلین روپے تھی، جبکہ بینکاری ایجنٹوں نے 135 ملین ٹرانزیکشن میں سہولت دی، جن کی مجموعی مالیت 0.9 ٹریلین روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحیثیتِ مجموعی، یہ رجحانات زیادہ شمولیتی، موثر، ، اور ڈجیٹل ادائیگیوں کے منظرنامے کی جانب پاکستان کی مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;br&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈ 2026&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;&lt;/h3&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کا ڈیجیٹل ادائیگی نظام تیزی سے ترقی کررہا ہے اور اکتوبر سے دسمبر 2025 کی سہ ماہی کے دوران تقریباً 92 فیصد ریٹیل لین دین ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے انجام دی گئی جو کیش لیس معیشت کی جانب نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔</strong></p>
<p>بینک دولت پاکستان نے رواں مالی سال ادائیگیوں کے نظام پر اپنی دوسری سہ ماہی رپورٹ اکتوبر تا دسمبر 26-2025 جاری کر دی جس میں باضابطہ بینکاری اور ادائیگی کے چینلوں کے ذریعے کم مالیت کے اوربڑی مالیت کے (آر ٹی جی ایس) دونوں طرح کے لین دین کے اہم رجحانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق کم مالیت ادائیگیوں کی تعداد 3.4 ارب ٹرانزیکشن رہی جس میں سے 92 فیصد ٹرانزیکشن ڈجیٹل چینلز سے انجام دی گئی۔</p>
<p>یہ تناسب گزشتہ سہ ماہی میں 88 فیصد تھا۔ اس طرح ٹرانزیکشنز کی تعداد گذشتہ سہ ماہی سے 8 فیصد زائد رہی جبکہ خردہ ادائیگیوں کی مالیت 7 فیصد اضافے سے 167 ٹریلین پاکستانی روپے تک پہنچ گئی ۔</p>
<p>ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگی کی 3.1 ارب ٹرانزیکشن انجام پائیں جن کی مجموعی مالیت بڑھ کر 64 ٹریلین روپے ہو گئی۔ یہ ملکی معیشت میں ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی ہے۔ڈیجیٹل منظرنامے میں موبائل ایپ سے ادائیگیوں کا حصہ بدستور سب سے زیادہ رہا جن میں بینکوں، برانچ لیس بینکاری فراہم کرنے والے اور الیکٹرانک منی اداروں (ای ایم آئی) کی ایپس سے 2.6 ارب ٹرانزیکشن انجام دی گئیں۔</p>
<p>یہ ٹرانزیکشن مجموعی ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 83 فیصد تھیں اور ان کی مالیت 40 ٹریلین روپے رہی۔ یہ چینل مختلف اقسام کی ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے استعمال ہوا، جن میں فرد سے فرد کو ادائیگی، بلوں کی ادائیگی، اور اکاؤنٹ والٹ پر مبنی مرچنٹ ادائیگیاں شامل ہیں، جو آن لائن پلیٹ فارم اور خردہ فروش مراکز دونوں پر کی جاتی ہیں۔</p>
<p>انٹرنیٹ بینکاری میں بھی مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا جہاں ٹرانزیکشن کی تعداد 11 فیصد اور مالیت 22 فیصد بڑھی ۔</p>
<p>زیرِ جائزہ سہ ماہی کے دوران فوری ادائیگی کے نظام ’راست‘ نے اپنی نمو کی مستحکم رفتار برقرار رکھی۔ ’راست‘ نے پہلے سے زیادہ یعنی 645.7 ملین ٹرانزیکشن انجام دیں جن کی مجموعی مالیت 18.5 پریلین روپے رہی۔</p>
<p>دورانِ سہ ماہی فرد سے فرد (پی 2 پی) ٹرانزیکشن کی تعداد بڑھ کر 603 ملین ہو گئی (13 فیصد اضافہ) جن کی مالیت 15.7 ٹریلین روپے رہی۔ راست کی فرد سے مرچنٹ (پی 2 ایم) ٹرانزیکشن بڑھ کر 33.6 ملین تک پہنچ گئیں، جن کی مجموعی مالیت 167.6 ارب روپے تھی۔</p>
<p>راست استعمال کرتے ہوئے حکومت اور کارپوریٹ اداروں نے 2.6 ٹریلین روپے کی 9 ملین سے زائد ٹرانزیکشن انجام دیں جو کاروباری اور سرکاری ادائیگیوں کے لیے ’راست‘ کی مقبولیت کی علامت ہے۔</p>
<p>زیرِ گردش پیمنٹ کارڈز کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا، اور یہ 66.7 ملین تک پہنچ گئی، جن میں سے 87 فیصد ڈیبٹ کارڈ جبکہ صرف 5 فیصد کریڈٹ کارڈ ہیں۔بقیہ سماجی بہبود کے کارڈ اور پری پیڈ کارڈ ہیں ۔</p>
<p>کارڈز کے ذریعے پی او ایس ٹرمینلز اور ای کامرس کی سرگرمیوں میں اضافہ جاری رہا، یومیہ 1.7 ملین ٹرانزیکشن درج کی گئیں۔</p>
<p>ملک بھر میں 20,976 اے ٹی ایم کے نیٹ ورک سے 277 ملین ٹرانزیکشن انجام پائیں ، جن کی مالیت اس مدت کے دوران 4.9 ٹریلین روپے رہی۔</p>
<p>اس کے علاوہ 20,143بینک برانچوں اور 763,262بینکاری ایجنٹوں نے نقد ڈپازٹس، رقوم نکلوانے اور منتقلی، اور بل ادائیگیوں جیسی اوور-دی-کاؤنٹرخدمات فراہم کیں۔ بینک برانچوں نے 138 ملین ٹرانزیکشن پر کارروائی کی ، جن کی مجموعی مالیت 102 ٹریلین روپے تھی، جبکہ بینکاری ایجنٹوں نے 135 ملین ٹرانزیکشن میں سہولت دی، جن کی مجموعی مالیت 0.9 ٹریلین روپے رہی۔</p>
<p>بحیثیتِ مجموعی، یہ رجحانات زیادہ شمولیتی، موثر، ، اور ڈجیٹل ادائیگیوں کے منظرنامے کی جانب پاکستان کی مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں ۔</p>
<p><br>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈ 2026</p>
<h3><a id="" href="#" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a></h3>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284106</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Mar 2026 10:53:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/20104845f658cce.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/20104845f658cce.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
