<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:45:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایرانی حملے میں حیفہ کی اسرائیلی آئل ریفائنری متاثر، نقصان کی اطلاعات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284096/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے میزائل حملے میں اسرائیل کے شمالی ساحلی شہر حیفہ میں واقع آئل ریفائنریز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ یہ بات جمعرات کو اسرائیل کی وزارت توانائی نے بتائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن کے مطابق حملے کے باعث کچھ وقت کے لیے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی، لیکن متاثرہ علاقوں میں جلد ہی بجلی بحال کر دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی علاقے میں بجلی کے نظام کو پہنچنے والا نقصان محدود نوعیت کا ہے اور اسرائیلی انفراسٹرکچر کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے حیفہ اور جنوبی شہر اشدود میں موجود ریفائنریز کے ساتھ ساتھ اسرائیلی سکیورٹی تنصیبات اور فوجی معاونت کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا۔ ایرانی بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے انتہائی درست نشانہ بنانے والے میزائلوں کے ذریعے کیے گئے۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اشدود کی ریفائنری کو نقصان پہنچا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کی وزارت تحفظ ماحولیات کے مطابق مار گرائے گئے ایک میزائل کا ملبہ حیفہ میں گرا جس کا جائزہ خطرناک مواد کے واقعے کے طور پر لیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل الیکٹرک کارپوریشن کے مطابق میزائل کے ٹکڑوں سے حیفہ کے علاقے میں ایک بجلی کی لائن متاثر ہوئی جس کے باعث مختصر وقت کے لیے بجلی بند رہی، تاہم تقریباً 45 منٹ کے اندر تمام صارفین کو بجلی دوبارہ فراہم کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فائر اینڈ ریسکیو سروس کے مطابق ریفائنری کے دو مقامات پر ملبہ گرنے سے آگ لگی جس کے باعث سپلائی کے کچھ ذرائع عارضی طور پر منقطع ہو گئے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ گزشتہ سال جون میں بھی حیفہ کی اسی ریفائنری پر ایرانی میزائل حملہ ہوا تھا جس میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے اور تنصیب کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل ہو گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے میزائل حملے میں اسرائیل کے شمالی ساحلی شہر حیفہ میں واقع آئل ریفائنریز کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔ یہ بات جمعرات کو اسرائیل کی وزارت توانائی نے بتائی۔</strong></p>
<p>اسرائیلی وزیر توانائی ایلی کوہن کے مطابق حملے کے باعث کچھ وقت کے لیے بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی، لیکن متاثرہ علاقوں میں جلد ہی بجلی بحال کر دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ شمالی علاقے میں بجلی کے نظام کو پہنچنے والا نقصان محدود نوعیت کا ہے اور اسرائیلی انفراسٹرکچر کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔</p>
<p>دوسری جانب ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے حیفہ اور جنوبی شہر اشدود میں موجود ریفائنریز کے ساتھ ساتھ اسرائیلی سکیورٹی تنصیبات اور فوجی معاونت کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا۔ ایرانی بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے انتہائی درست نشانہ بنانے والے میزائلوں کے ذریعے کیے گئے۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اشدود کی ریفائنری کو نقصان پہنچا یا نہیں۔</p>
<p>اسرائیل کی وزارت تحفظ ماحولیات کے مطابق مار گرائے گئے ایک میزائل کا ملبہ حیفہ میں گرا جس کا جائزہ خطرناک مواد کے واقعے کے طور پر لیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اسرائیل الیکٹرک کارپوریشن کے مطابق میزائل کے ٹکڑوں سے حیفہ کے علاقے میں ایک بجلی کی لائن متاثر ہوئی جس کے باعث مختصر وقت کے لیے بجلی بند رہی، تاہم تقریباً 45 منٹ کے اندر تمام صارفین کو بجلی دوبارہ فراہم کر دی گئی۔</p>
<p>اسرائیلی فائر اینڈ ریسکیو سروس کے مطابق ریفائنری کے دو مقامات پر ملبہ گرنے سے آگ لگی جس کے باعث سپلائی کے کچھ ذرائع عارضی طور پر منقطع ہو گئے، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ گزشتہ سال جون میں بھی حیفہ کی اسی ریفائنری پر ایرانی میزائل حملہ ہوا تھا جس میں تین افراد ہلاک ہو گئے تھے اور تنصیب کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل ہو گئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284096</guid>
      <pubDate>Fri, 20 Mar 2026 09:12:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/200910264b20560.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/200910264b20560.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
