<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ انتظامیہ اپنی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کھو چکی، عمانی وزیر خارجہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284091/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے دی اکانومسٹ میں شائع اپنے مضمون میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ روکنے کا معاہدہ حقیقت میں ممکن تھا، مگر انہوں نے موجودہ تنازع کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہوں نے اس جنگ کو تباہی قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کھو چکی ہے۔ البوسعیدی جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی، دعویٰ کیا کہ گزشتہ نو ماہ میں دو بار ایٹمی پروگرام پر معاہدہ طے پانے کے قریب تھا لیکن فروری میں جنیوا مذاکرات کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیل اور امریکہ نے غیر قانونی فوجی حملہ کر کے امن کی امیدوں کو ختم کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی قیادت نے صدر ٹرمپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کیا کہ حملے اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران فوری ہتھیار ڈال دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی حکام نے بھی ایرانی تجاویز کو جنگ روکنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی مذاکراتی ٹیم میں ٹیکنیکل ماہرین کے بجائے ٹرمپ کے قریبی رفقاء اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے دی اکانومسٹ میں شائع اپنے مضمون میں انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ روکنے کا معاہدہ حقیقت میں ممکن تھا، مگر انہوں نے موجودہ تنازع کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا ہے۔</strong></p>
<p>سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انہوں نے اس جنگ کو تباہی قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کھو چکی ہے۔ البوسعیدی جنہوں نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی، دعویٰ کیا کہ گزشتہ نو ماہ میں دو بار ایٹمی پروگرام پر معاہدہ طے پانے کے قریب تھا لیکن فروری میں جنیوا مذاکرات کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیل اور امریکہ نے غیر قانونی فوجی حملہ کر کے امن کی امیدوں کو ختم کر دیا۔</p>
<p>انہوں نے الزام لگایا کہ اسرائیلی قیادت نے صدر ٹرمپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کیا کہ حملے اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران فوری ہتھیار ڈال دے گا۔</p>
<p>برطانوی حکام نے بھی ایرانی تجاویز کو جنگ روکنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی مذاکراتی ٹیم میں ٹیکنیکل ماہرین کے بجائے ٹرمپ کے قریبی رفقاء اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284091</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Mar 2026 20:07:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/1919572165d0cac.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/1919572165d0cac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
