<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:55:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:55:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284087/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ مارکیٹ کے اختتام پر مقامی کرنسی 0.01 روپے کی بہتری کے بعد 279.25 پر بند ہوئی، جبکہ بدھ کوروپیہ 279.26 پر بند ہوا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر جمعرات کی صبح ایشیائی تجارت کے دوران جاپانی ین دو سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ ایران کے تنازع کے سائے میں بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد ین مضبوط ہوتے ڈالر کے سامنے قدم جمانے کے لیے جدوجہد کرتا رہا۔ ین 0.1 فیصد بہتری کے ساتھ 159.655 فی ڈالر پر رہا، جبکہ بینک آف جاپان نے اپنی شرح سود 0.75 فیصد پر برقرار رکھتے ہوئے معیشت کی معتدل بحالی کا تسلسل ظاہر کیا۔ اس سے قبل جاپانی وزیر خزانہ ستیسوکی کاتایاما نے کہا تھا کہ حکام مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور حالیہ نقل و حرکت میں کچھ حد تک سٹے بازوں کا ہاتھ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف جاپان کا یہ فیصلہ اہم مرکزی بینکوں کے اجلاسوں کے درمیان سامنے آیا ہے، جہاں تاجر اس بات کے اشارے تلاش کر رہے ہیں کہ پالیسی ساز توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے جھٹکے پر کیا ردعمل دیں گے۔جمعرات کو ڈالر کی قیمت دو روزہ بلند ترین سطح سے کچھ نیچے آئی، کیونکہ تاجر مشرق وسطیٰ کے تنازع اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کے نتیجے میں امریکی مہنگائی میں اضافے اور فیڈرل ریزرو کے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر انڈیکس، جو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی طاقت کی پیمائش کرتا ہے، 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 100.07 پر آگیا۔ مالیاتی منڈیوں میں 29 اپریل کو ہونے والے امریکی مرکزی بینک کے اجلاس میں شرح سود برقرار رکھنے کی مکمل توقع کی جا رہی ہے، جبکہ مزید کمی کے امکانات 2027 تک مؤخر کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتیں، جو کرنسیوں کے توازن کا ایک اہم اشارہ ہیں، جمعرات کو تیزی سے بڑھیں۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایران نے مشرق وسطیٰ میں توانائی کی تنصیبات پر جوابی حملے کیے، جس سے جنگ میں شدت آگئی۔ اس صورتحال کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ برینٹ فیوچرز 6.08 ڈالر یا 5.7 فیصد اضافے کے ساتھ 113.46 ڈالر پر رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیوٹی آئی) خام تیل 57 سینٹ کے اضافے کے ساتھ 96.89 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ امریکی اسٹریٹجک ذخائر سے تیل کے اخراج اور مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے ڈبلیوٹی آئی  اور برینٹ کی قیمتوں میں 11 سال کا سب سے بڑا فرق دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انٹر بینک مارکیٹ میں جمعرات کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ مارکیٹ کے اختتام پر مقامی کرنسی 0.01 روپے کی بہتری کے بعد 279.25 پر بند ہوئی، جبکہ بدھ کوروپیہ 279.26 پر بند ہوا تھا۔</strong></p>
<p>بین الاقوامی سطح پر جمعرات کی صبح ایشیائی تجارت کے دوران جاپانی ین دو سال کی کم ترین سطح کے قریب پہنچ گیا۔ ایران کے تنازع کے سائے میں بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد ین مضبوط ہوتے ڈالر کے سامنے قدم جمانے کے لیے جدوجہد کرتا رہا۔ ین 0.1 فیصد بہتری کے ساتھ 159.655 فی ڈالر پر رہا، جبکہ بینک آف جاپان نے اپنی شرح سود 0.75 فیصد پر برقرار رکھتے ہوئے معیشت کی معتدل بحالی کا تسلسل ظاہر کیا۔ اس سے قبل جاپانی وزیر خزانہ ستیسوکی کاتایاما نے کہا تھا کہ حکام مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور حالیہ نقل و حرکت میں کچھ حد تک سٹے بازوں کا ہاتھ ہے۔</p>
<p>بینک آف جاپان کا یہ فیصلہ اہم مرکزی بینکوں کے اجلاسوں کے درمیان سامنے آیا ہے، جہاں تاجر اس بات کے اشارے تلاش کر رہے ہیں کہ پالیسی ساز توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے جھٹکے پر کیا ردعمل دیں گے۔جمعرات کو ڈالر کی قیمت دو روزہ بلند ترین سطح سے کچھ نیچے آئی، کیونکہ تاجر مشرق وسطیٰ کے تنازع اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کے نتیجے میں امریکی مہنگائی میں اضافے اور فیڈرل ریزرو کے شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں۔</p>
<p>ڈالر انڈیکس، جو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی طاقت کی پیمائش کرتا ہے، 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 100.07 پر آگیا۔ مالیاتی منڈیوں میں 29 اپریل کو ہونے والے امریکی مرکزی بینک کے اجلاس میں شرح سود برقرار رکھنے کی مکمل توقع کی جا رہی ہے، جبکہ مزید کمی کے امکانات 2027 تک مؤخر کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>تیل کی قیمتیں، جو کرنسیوں کے توازن کا ایک اہم اشارہ ہیں، جمعرات کو تیزی سے بڑھیں۔ اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر حملے کے بعد ایران نے مشرق وسطیٰ میں توانائی کی تنصیبات پر جوابی حملے کیے، جس سے جنگ میں شدت آگئی۔ اس صورتحال کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔ برینٹ فیوچرز 6.08 ڈالر یا 5.7 فیصد اضافے کے ساتھ 113.46 ڈالر پر رہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیوٹی آئی) خام تیل 57 سینٹ کے اضافے کے ساتھ 96.89 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ امریکی اسٹریٹجک ذخائر سے تیل کے اخراج اور مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے ڈبلیوٹی آئی  اور برینٹ کی قیمتوں میں 11 سال کا سب سے بڑا فرق دیکھا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284087</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Mar 2026 17:05:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/19164121856ddf8.webp" type="image/webp" medium="image" height="360" width="720">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/19164121856ddf8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
