<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:09:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:09:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیجیٹل ذرائع سے مجموعی ریٹیل ادائیگیاں 92 فیصد تک پہنچ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284083/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق مالی سال 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران پاکستان کی کیش لیس (نقدی سے پاک) معیشت کی جانب منتقلی میں تیزی آئی ہے جہاں تمام ریٹیل لین دین میں ڈیجیٹل ذرائع کا حصہ بڑھ کر 92 فیصد ہو گیا جو گزشتہ سال اسی مدت میں 88 فیصد تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی اکتوبر سے دسمبر 2025ء کی ادائیگی کے نظام سے متعلق سہ ماہی رپورٹ کے مطابق اس مدت کے دوران مجموعی طور پر 3.4 ارب ریٹیل لین دین کیے گئے جن میں سے 92 فیصد ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے سرانجام پائے جبکہ گزشتہ سال اسی سہ ماہی میں یہ تناسب 88 فیصد تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا ریٹیل لین دین کی تعداد میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ہوا جب کہ ان کی مالیت 7 فیصد اضافے کے ساتھ 167 ٹریلین (کھرب) روپے تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو جاری کی گئی اسٹیٹ بینک  کی رپورٹ میں باضابطہ بینکاری اور ادائیگی کے ذرائع سے کیے گئے کم مالیت کے (ریٹیل) اور زیادہ مالیت کے  لین دین کے اہم رجحانات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل ذرائع سے کی جانے والی ادائیگیوں کی تعداد 3.1 ارب تک پہنچ گئی جن کی مجموعی مالیت 64 ٹریلین (کھرب) روپے رہی، جو معیشت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل منظر نامے میں موبائل ایپ پر مبنی ادائیگیوں کا غلبہ برقرار رہا جہاں برانچ لیس بینکنگ، بینکوں اور ای ایم آئیز  کی ایپس کے ذریعے مجموعی طور پر 2.6 ارب ٹرانزیکشنز کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ٹرانزیکشنز تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 83 فیصد تھیں جن کی مجموعی مالیت 40 ٹریلین (کھرب) روپے رہی۔ ان ادائیگیوں نے خدمات کے ایک وسیع دائرے کو سہارا دیا، جن میں افراد کے درمیان براہِ راست رقم کی منتقلی ، بلوں کی ادائیگی اور آن لائن پلیٹ فارمز سمیت فزیکل ریٹیل اسٹورز پر اکاؤنٹ اور والٹ پر مبنی مرچنٹ ادائگیاں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب انٹرنیٹ بینکنگ میں بھی مستحکم ترقی ریکارڈ کی گئی، جہاں ٹرانزیکشنز کے حجم  اور مالیت  میں بالترتیب 11 فیصد اور 22 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق زیرِ جائزہ سہ ماہی کے دوران راست انسٹنٹ پیمنٹ سسٹم نے اپنی تیز رفتار ترقی کا تسلسل برقرار رکھا جس کے ذریعے مجموعی طور پر 18.5 ٹریلین (کھرب) روپے مالیت کی 645.7 ملین ٹرانزیکشنز کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افراد کے درمیان رقم کی منتقلی کے حجم میں 13 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 603 ملین تک پہنچ گئی، جن کی مالیت 15.7 ٹریلین روپے رہی۔ دوسری جانب راست کے ذریعے مرچنٹ ادائیگیوں میں بھی تیزی دیکھی گئی جو بڑھ کر 33.6 ملین ہو گئیں اور ان کی مالیت 167.6 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ حکومت اور کارپوریٹ اداروں نے راست بلک سروس کے ذریعے 2.6 ٹریلین روپے مالیت کی 9 ملین سے زائد ادائیگیاں کیں جو کاروباری اور سرکاری سطح پر راست کے بڑھتے ہوئے استعمال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکولیشن میں موجود پیمنٹ کارڈز  کی تعداد بڑھ کر 66.7 ملین ہو گئی ہے، جس میں ڈیبٹ کارڈز مجموعی تعداد کا 87 فیصد ہیں جبکہ کریڈٹ کارڈز کا حصہ صرف 5 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بقیہ کارڈز میں سوشل ویلفیئر کارڈز (جیسے بینظیر انکم سپورٹ کارڈ وغیرہ) اور پری پیڈ کارڈز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز اور کارڈز کے ذریعے ای کامرس کی سرگرمیوں میں توسیع کا سلسلہ جاری رہا جن کے ذریعے روزانہ اوسطاً 1.7 ملین کارڈ پر مبنی ٹرانزیکشنز کی گئیں۔ اس کے ساتھ  ملک بھر میں 20,976 اے ٹی ایمز  کے نیٹ ورک نے زیرِ جائزہ مدت کے دوران 4.9 ٹریلین (کھرب) روپے مالیت کی 277 ملین ٹرانزیکشنز میں سہولت فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، 20,143 بینک برانچز اور 763,262 بینکنگ ایجنٹس نے اوور دی کاؤنٹر خدمات فراہم کیں جن میں نقدی جمع کروانا، نکلوانا، فنڈز کی منتقلی اور بلوں کی ادائیگی شامل ہے۔ بینک برانچوں نے 102 ٹریلین روپے مالیت کی 138 ملین ٹرانزیکشنز کیں جبکہ بینکنگ ایجنٹس نے 0.9 ٹریلین روپے مالیت کی 135 ملین ٹرانزیکشنز میں مدد فراہم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر یہ رجحانات پاکستان کے ایک زیادہ جامع، فعال اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار ادائیگیوں کے نظام کی جانب جاری منتقلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے مطابق مالی سال 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران پاکستان کی کیش لیس (نقدی سے پاک) معیشت کی جانب منتقلی میں تیزی آئی ہے جہاں تمام ریٹیل لین دین میں ڈیجیٹل ذرائع کا حصہ بڑھ کر 92 فیصد ہو گیا جو گزشتہ سال اسی مدت میں 88 فیصد تھا۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک کی اکتوبر سے دسمبر 2025ء کی ادائیگی کے نظام سے متعلق سہ ماہی رپورٹ کے مطابق اس مدت کے دوران مجموعی طور پر 3.4 ارب ریٹیل لین دین کیے گئے جن میں سے 92 فیصد ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے سرانجام پائے جبکہ گزشتہ سال اسی سہ ماہی میں یہ تناسب 88 فیصد تھا۔</p>
<p>دریں اثنا ریٹیل لین دین کی تعداد میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ہوا جب کہ ان کی مالیت 7 فیصد اضافے کے ساتھ 167 ٹریلین (کھرب) روپے تک پہنچ گئی۔</p>
<p>جمعرات کو جاری کی گئی اسٹیٹ بینک  کی رپورٹ میں باضابطہ بینکاری اور ادائیگی کے ذرائع سے کیے گئے کم مالیت کے (ریٹیل) اور زیادہ مالیت کے  لین دین کے اہم رجحانات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>ڈیجیٹل ذرائع سے کی جانے والی ادائیگیوں کی تعداد 3.1 ارب تک پہنچ گئی جن کی مجموعی مالیت 64 ٹریلین (کھرب) روپے رہی، جو معیشت میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>ڈیجیٹل منظر نامے میں موبائل ایپ پر مبنی ادائیگیوں کا غلبہ برقرار رہا جہاں برانچ لیس بینکنگ، بینکوں اور ای ایم آئیز  کی ایپس کے ذریعے مجموعی طور پر 2.6 ارب ٹرانزیکشنز کی گئیں۔</p>
<p>یہ ٹرانزیکشنز تمام ڈیجیٹل ادائیگیوں کا 83 فیصد تھیں جن کی مجموعی مالیت 40 ٹریلین (کھرب) روپے رہی۔ ان ادائیگیوں نے خدمات کے ایک وسیع دائرے کو سہارا دیا، جن میں افراد کے درمیان براہِ راست رقم کی منتقلی ، بلوں کی ادائیگی اور آن لائن پلیٹ فارمز سمیت فزیکل ریٹیل اسٹورز پر اکاؤنٹ اور والٹ پر مبنی مرچنٹ ادائگیاں شامل ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب انٹرنیٹ بینکنگ میں بھی مستحکم ترقی ریکارڈ کی گئی، جہاں ٹرانزیکشنز کے حجم  اور مالیت  میں بالترتیب 11 فیصد اور 22 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق زیرِ جائزہ سہ ماہی کے دوران راست انسٹنٹ پیمنٹ سسٹم نے اپنی تیز رفتار ترقی کا تسلسل برقرار رکھا جس کے ذریعے مجموعی طور پر 18.5 ٹریلین (کھرب) روپے مالیت کی 645.7 ملین ٹرانزیکشنز کی گئیں۔</p>
<p>افراد کے درمیان رقم کی منتقلی کے حجم میں 13 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 603 ملین تک پہنچ گئی، جن کی مالیت 15.7 ٹریلین روپے رہی۔ دوسری جانب راست کے ذریعے مرچنٹ ادائیگیوں میں بھی تیزی دیکھی گئی جو بڑھ کر 33.6 ملین ہو گئیں اور ان کی مالیت 167.6 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>اس کے علاوہ حکومت اور کارپوریٹ اداروں نے راست بلک سروس کے ذریعے 2.6 ٹریلین روپے مالیت کی 9 ملین سے زائد ادائیگیاں کیں جو کاروباری اور سرکاری سطح پر راست کے بڑھتے ہوئے استعمال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔</p>
<p>سرکولیشن میں موجود پیمنٹ کارڈز  کی تعداد بڑھ کر 66.7 ملین ہو گئی ہے، جس میں ڈیبٹ کارڈز مجموعی تعداد کا 87 فیصد ہیں جبکہ کریڈٹ کارڈز کا حصہ صرف 5 فیصد ہے۔</p>
<p>بقیہ کارڈز میں سوشل ویلفیئر کارڈز (جیسے بینظیر انکم سپورٹ کارڈ وغیرہ) اور پری پیڈ کارڈز شامل ہیں۔</p>
<p>پوائنٹ آف سیل ٹرمینلز اور کارڈز کے ذریعے ای کامرس کی سرگرمیوں میں توسیع کا سلسلہ جاری رہا جن کے ذریعے روزانہ اوسطاً 1.7 ملین کارڈ پر مبنی ٹرانزیکشنز کی گئیں۔ اس کے ساتھ  ملک بھر میں 20,976 اے ٹی ایمز  کے نیٹ ورک نے زیرِ جائزہ مدت کے دوران 4.9 ٹریلین (کھرب) روپے مالیت کی 277 ملین ٹرانزیکشنز میں سہولت فراہم کی۔</p>
<p>علاوہ ازیں، 20,143 بینک برانچز اور 763,262 بینکنگ ایجنٹس نے اوور دی کاؤنٹر خدمات فراہم کیں جن میں نقدی جمع کروانا، نکلوانا، فنڈز کی منتقلی اور بلوں کی ادائیگی شامل ہے۔ بینک برانچوں نے 102 ٹریلین روپے مالیت کی 138 ملین ٹرانزیکشنز کیں جبکہ بینکنگ ایجنٹس نے 0.9 ٹریلین روپے مالیت کی 135 ملین ٹرانزیکشنز میں مدد فراہم کی۔</p>
<p>مجموعی طور پر یہ رجحانات پاکستان کے ایک زیادہ جامع، فعال اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار ادائیگیوں کے نظام کی جانب جاری منتقلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284083</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Mar 2026 16:00:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/191547519a3e6c4.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/191547519a3e6c4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
