<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرنٹ اکاؤنٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284075/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہبازشریف نے کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ملک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ تیل کی قلت کے حوالے سے خدشات اس وقت کم ہوئے جب پاکستان آنے والے ایک آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی گئی جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع میں پاکستان کی حمایت پر اظہارِ تشکر کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد انہوں نے معیشت کا جائزہ لیا اور استحکام کے حصول میں حکومت کے بروقت فیصلوں کو کلیدی عنصر قرار دیا۔ ان کے اس دعوے کی تصدیق 2 اہم میکرو اکنامک اعدادوشمار میں ہونے والی بہتری سے بھی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا اشاریہ کرنٹ اکاؤنٹ کا سرپلس (بچت) ہے جو فروری 2026 میں 427 ملین ڈالر رہا جبکہ جنوری 2026 میں یہ محض 68 ملین ڈالر تھا۔ اس بہتری کی بنیادی وجہ ترسیلاتِ زر  میں مسلسل ماہانہ اضافہ ہے جو فروری 2026 میں 3,288 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ حجم 3,127 ملین ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ فروری کی معاشی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک کے مطابق مالی سال کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری) کا مجموعی خسارہ 1.1 بلین ڈالر رہا جس کے بعد رواں مالی سال کے پہلے8 ماہ کا مجموعی خسارہ 673 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ دوسرا اہم اشاریہ غیر ملکی زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کا 17,164 ملین ڈالر (17.16 ارب ڈالر) تک مستحکم ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کے اجزاء کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ اس میں جاری مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بیرونی عوامل کا بڑا ہاتھ ہے۔ چنانچہ اگرچہ فروری 2026 میں برآمدات سکڑ کر 2,482 ملین ڈالر رہ گئیں (جو جنوری 2026 میں 2,745 ملین ڈالر اور فروری 2025 میں 2,609 ملین ڈالر تھیں)، تاہم اسی دوران درآمدات بھی جنوری 2026 کے 5,346 ملین ڈالر کے مقابلے میں فروری میں کم ہو کر 5,152 ملین ڈالر رہ گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری 2025 میں درآمدات 5,050 ملین ڈالر کی نچلی سطح پر تھیں، تاہم اس کی وجہ درآمدات کو روکنے کے لیے کیے گئے انتظامی اقدامات کا نفاذ تھا۔ اگرچہ حکومت نے بعد ازاں ان اقدامات میں نرمی کردی تھی کیونکہ یہ معاشی شرحِ نمو کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع اور غربت کی سطح پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی زرمبادلہ  جسے اسٹیٹ بینک  کے پاس موجود کل غیر ملکی اثاثوں سے تعبیر کیا جاتا ہے، اسے خالص زرمبادلہ ذخائر سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے، جن کا حساب قلیل مدتی غیرملکی واجبات یا کرنسی کو سہارا دینے کیلئے دستیاب آزاد لیکویڈٹی کو منہا کرکے لگایا جاتا ہے، بہر کیف فروری کی معاشی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک کے مطابق 13 فروری 2026 کو زرمبادلہ ذخائر 16.2 ارب ڈالر کی نچلی سطح پر تھے، تاہم شرحِ تبادلہ  کے مستحکم رہنے پر کچھ سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں کیونکہ 14 فروری 2025 کو ذخائر اس سے بھی کم یعنی 11.2 ارب ڈالر تھے، جبکہ ڈالر کی قدر فروری 2025 میں 279.6 روپے سے معمولی تبدیلی کے ساتھ 26 فروری 2026 کو 279.5 روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ان دو دیگر اشاریوں پر بھی غور کرے جن کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے: پہلا، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں جولائی تا جنوری 2026 کے دوران ہونے والی کمی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 1,660.7 ملین ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر محض 981.4 ملین ڈالر رہ گئی ہے، جو کہ 40.9 فیصد کی تشویشناک گراوٹ ہے۔ دوسرا پورٹ فولیو انویسٹمنٹ (حصص کی سرمایہ کاری) جس میں رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران منفی 463.9 ملین ڈالر ریکارڈ کیے گئے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ منفی 177 ملین ڈالر تھی، یعنی اس میں 162 فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے اور یہ سب اس حقیقت کے باوجود ہوا ہے کہ ہماری پالیسی ریٹ  خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ کابینہ محض ان اعداد و شمار کا حوالہ دینے کے بجائے جو بظاہر بہتری کی عکاسی کرتے ہیں، میکرو اکنامک بنیادی عوامل کا مجموعی جائزہ لے اور ان کے اجزاء کی گہرائی میں جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہبازشریف نے کابینہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ملک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر ملکی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ تیل کی قلت کے حوالے سے خدشات اس وقت کم ہوئے جب پاکستان آنے والے ایک آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی گئی جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع میں پاکستان کی حمایت پر اظہارِ تشکر کیا ہے۔</strong></p>
<p>اس کے بعد انہوں نے معیشت کا جائزہ لیا اور استحکام کے حصول میں حکومت کے بروقت فیصلوں کو کلیدی عنصر قرار دیا۔ ان کے اس دعوے کی تصدیق 2 اہم میکرو اکنامک اعدادوشمار میں ہونے والی بہتری سے بھی ہوتی ہے۔</p>
<p>پہلا اشاریہ کرنٹ اکاؤنٹ کا سرپلس (بچت) ہے جو فروری 2026 میں 427 ملین ڈالر رہا جبکہ جنوری 2026 میں یہ محض 68 ملین ڈالر تھا۔ اس بہتری کی بنیادی وجہ ترسیلاتِ زر  میں مسلسل ماہانہ اضافہ ہے جو فروری 2026 میں 3,288 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ گزشتہ سال اسی مہینے میں یہ حجم 3,127 ملین ڈالر تھا۔</p>
<p>تاہم وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ فروری کی معاشی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک کے مطابق مالی سال کے پہلے 7 ماہ (جولائی تا جنوری) کا مجموعی خسارہ 1.1 بلین ڈالر رہا جس کے بعد رواں مالی سال کے پہلے8 ماہ کا مجموعی خسارہ 673 ملین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ دوسرا اہم اشاریہ غیر ملکی زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کا 17,164 ملین ڈالر (17.16 ارب ڈالر) تک مستحکم ہونا ہے۔</p>
<p>کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کے اجزاء کا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ اس میں جاری مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بیرونی عوامل کا بڑا ہاتھ ہے۔ چنانچہ اگرچہ فروری 2026 میں برآمدات سکڑ کر 2,482 ملین ڈالر رہ گئیں (جو جنوری 2026 میں 2,745 ملین ڈالر اور فروری 2025 میں 2,609 ملین ڈالر تھیں)، تاہم اسی دوران درآمدات بھی جنوری 2026 کے 5,346 ملین ڈالر کے مقابلے میں فروری میں کم ہو کر 5,152 ملین ڈالر رہ گئیں۔</p>
<p>فروری 2025 میں درآمدات 5,050 ملین ڈالر کی نچلی سطح پر تھیں، تاہم اس کی وجہ درآمدات کو روکنے کے لیے کیے گئے انتظامی اقدامات کا نفاذ تھا۔ اگرچہ حکومت نے بعد ازاں ان اقدامات میں نرمی کردی تھی کیونکہ یہ معاشی شرحِ نمو کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع اور غربت کی سطح پر منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔</p>
<p>مجموعی زرمبادلہ  جسے اسٹیٹ بینک  کے پاس موجود کل غیر ملکی اثاثوں سے تعبیر کیا جاتا ہے، اسے خالص زرمبادلہ ذخائر سے خلط ملط نہیں کرنا چاہیے، جن کا حساب قلیل مدتی غیرملکی واجبات یا کرنسی کو سہارا دینے کیلئے دستیاب آزاد لیکویڈٹی کو منہا کرکے لگایا جاتا ہے، بہر کیف فروری کی معاشی اپ ڈیٹ اور آؤٹ لک کے مطابق 13 فروری 2026 کو زرمبادلہ ذخائر 16.2 ارب ڈالر کی نچلی سطح پر تھے، تاہم شرحِ تبادلہ  کے مستحکم رہنے پر کچھ سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں کیونکہ 14 فروری 2025 کو ذخائر اس سے بھی کم یعنی 11.2 ارب ڈالر تھے، جبکہ ڈالر کی قدر فروری 2025 میں 279.6 روپے سے معمولی تبدیلی کے ساتھ 26 فروری 2026 کو 279.5 روپے رہی۔</p>
<p>حکومت کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ان دو دیگر اشاریوں پر بھی غور کرے جن کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے: پہلا، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں جولائی تا جنوری 2026 کے دوران ہونے والی کمی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے 1,660.7 ملین ڈالر کے مقابلے میں کم ہو کر محض 981.4 ملین ڈالر رہ گئی ہے، جو کہ 40.9 فیصد کی تشویشناک گراوٹ ہے۔ دوسرا پورٹ فولیو انویسٹمنٹ (حصص کی سرمایہ کاری) جس میں رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران منفی 463.9 ملین ڈالر ریکارڈ کیے گئے جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ منفی 177 ملین ڈالر تھی، یعنی اس میں 162 فیصد کی بڑی کمی واقع ہوئی ہے اور یہ سب اس حقیقت کے باوجود ہوا ہے کہ ہماری پالیسی ریٹ  خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ لہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ کابینہ محض ان اعداد و شمار کا حوالہ دینے کے بجائے جو بظاہر بہتری کی عکاسی کرتے ہیں، میکرو اکنامک بنیادی عوامل کا مجموعی جائزہ لے اور ان کے اجزاء کی گہرائی میں جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284075</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Mar 2026 13:51:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/19135015681d582.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/19135015681d582.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
