<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی کشیدگی اسٹاک مارکیٹ پر اثرانداز، 100 انڈیکس 1500 پوائنٹس گرگیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284064/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک بار پھر فروخت کا شدید دباؤ لوٹ آیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک 100 انڈیکس میں 1500 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا، دن بھر فروخت کا رجحان غالب رہا جس کے باعث ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 150,728.17 پوائنٹس پر آگیا، آخری سیشن میں انڈیکس 153,000 کی سطح کی جانب تیزی سے بحال تو ہوا لیکن یہ بہتری برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,551.88 پوائنٹس یا 1.01 فیصد کی بڑی گراوٹ سے 152,740.37 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج عید اور یومِ پاکستان کی تعطیلات کے باعث جمعہ تا پیر بند رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، فروخت کا یہ رجحان عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے توانائی کے بحران کے خوف کے درمیان سامنے آیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتری کیپٹل نے جمعرات کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ راتوں رات خلیجی خطے میں جاری تنازع ایک خطرناک ترین سطح پر پہنچ گیا، اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارس فیلڈ (جو دنیا کا سب سے بڑا گیس فیلڈ ہے) پر حملے کے بعد، ایران نے جوابی کارروائی میں قطر کے راس لفان ایل این جی حب کو نشانہ بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ قطر پاکستان کو گیس فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اس لیے یہ ہماری توانائی کی سلامتی پر براہِ راست ضرب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس کی گراوٹ میں سب سے نمایآں کردار ایم ای بی ایل، پی پی ایل ،یو بی ایل،اینگرو ہولڈنگ اور ایفرٹ نے ادا کیا جن کے مجوعی اثر سے کے ایس ای 100انڈیکس میں 640 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اہم سیکٹرز میں فروخت کی لہر رہی، جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری شامل ہیں۔ انڈیکس ہیوی اسٹاکس، جیسے  پی او ایل،او جی ڈی سی،ماڑی،حبکو ،اے آر ایل، ایم ای بی ایل، ایم سی بی، ایچ بی ایل پی پئ ایل اور این بی پی منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو زبردست تیزی دیکھی گئی جہاں سرمایہ کاروں کے بہتر ہوتے اعتماد کی بدولت بینچ مارک انڈیکس نے تیزی سے بحالی ریکارڈ کی، اس مثبت رجحان کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور اہم شعبوں میں حصص کی سستی قیمتوں پر خریداری سے بھرپور مدد ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو بینچ مارک 100 انڈیکس 4,276.09 پوائنٹس یا 2.85 فیصد کے نمایاں اضافے سے 154,292.26 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر جمعرات کو حصص کی قیمتوں میں کمی اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔ یہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ میں آنے والی بڑی شدت کے بعد پیدا ہوئی جس نے سرمایہ کاروں کو شدید بے چین کردیا۔ دوسری جانب جاپانی کرنسی ین ڈالر کے مقابلے میں 160 کی اہم ترین سطح کے قریب غیر مستحکم رہی کیونکہ جاپان کے مرکزی بینک نے شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسا کہ وسیع پیمانے پر توقع کی جا رہی تھی، بینک آف جاپان نے اپنی قلیل مدتی پالیسی ریٹ کو 0.75 فیصد پر برقرار رکھا ہے، تاہم جاپانی مرکزی بینک نے امریکی فیڈرل ریزرو اور بینک آف کینیڈا کی طرح محتاط انداز اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ تنازع کے نتیجے میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وسیع تر مارکیٹ کی توجہ اب بھی مشرق وسطیٰ کی جنگ پر مرکوز ہے اور یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ یہ تنازع طویل ہوسکتا ہے جس سے اسٹیگ فلیشن یعنی معاشی جمود کے ساتھ مہنگائی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے بدھ کو اس کی جنوبی پارس گیس فیلڈ کی تنصیبات پر حملہ کیا جس کے جواب میں ایران نے پورے خلیج میں تیل اور گیس کے اہداف کو نشانہ بنانے کا عہد کیا اور قطر اور سعودی عرب پر میزائل داغے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث امریکی خام تیل کے سودے تقریباً 1 فیصد اضافے کے ساتھ 97.07 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ قدرتی گیس کی قیمتوں میں 6 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ برینٹ فیوچرز 4.5 فیصد اضافے کے ساتھ 112.19 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک مارکیٹ کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو جاپان کا نکی انڈیکس 2.5 فیصد گرگیا جبکہ جنوبی کوریا کے حصص میں 1.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس بھی 1.5 فیصد سے زیادہ نیچے رہا۔ یورپی فیوچرز میں بھی 1 فیصد سے زائد کی مندی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، جمعرات کو انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر، مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کے اضافے سے 279.25 پر آ گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو آل شیئرز انڈیکس پر تجارتی حجم گزشتہ سیشن کے 397.47 ملین شیئرز سے کم ہو کر 326.64 ملین رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سیشن کے مقابلے میں حصص کی مالیت بھی 22.35 ارب روپے سے کم ہو کر 19.40 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وصل موبلٹی 40.36 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہی، جس کے بعد بینک آف پنجاب 22.78 ملین شیئرز اور فرسٹ نیشنل ایکویٹیز 22.03 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 474 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 153 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 261 میں کمی اور 60 کمپنیوں کی قیمتوں میں استحکام رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/191433165b1973d.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/191433165b1973d.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ایک بار پھر فروخت کا شدید دباؤ لوٹ آیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک 100 انڈیکس میں 1500 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا، دن بھر فروخت کا رجحان غالب رہا جس کے باعث ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 150,728.17 پوائنٹس پر آگیا، آخری سیشن میں انڈیکس 153,000 کی سطح کی جانب تیزی سے بحال تو ہوا لیکن یہ بہتری برقرار رکھنے میں ناکام رہا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 1,551.88 پوائنٹس یا 1.01 فیصد کی بڑی گراوٹ سے 152,740.37 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج عید اور یومِ پاکستان کی تعطیلات کے باعث جمعہ تا پیر بند رہے گی۔</p>
<p>دریں اثنا، فروخت کا یہ رجحان عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے توانائی کے بحران کے خوف کے درمیان سامنے آیا ہے۔</p>
<p>بہتری کیپٹل نے جمعرات کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ راتوں رات خلیجی خطے میں جاری تنازع ایک خطرناک ترین سطح پر پہنچ گیا، اسرائیل کی جانب سے ایران کے ساؤتھ پارس فیلڈ (جو دنیا کا سب سے بڑا گیس فیلڈ ہے) پر حملے کے بعد، ایران نے جوابی کارروائی میں قطر کے راس لفان ایل این جی حب کو نشانہ بنایا ہے۔</p>
<p>چونکہ قطر پاکستان کو گیس فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اس لیے یہ ہماری توانائی کی سلامتی پر براہِ راست ضرب ہے۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس کی گراوٹ میں سب سے نمایآں کردار ایم ای بی ایل، پی پی ایل ،یو بی ایل،اینگرو ہولڈنگ اور ایفرٹ نے ادا کیا جن کے مجوعی اثر سے کے ایس ای 100انڈیکس میں 640 پوائنٹس کی کمی ہوئی۔</p>
<p>اہم سیکٹرز میں فروخت کی لہر رہی، جن میں آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، کھاد، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری شامل ہیں۔ انڈیکس ہیوی اسٹاکس، جیسے  پی او ایل،او جی ڈی سی،ماڑی،حبکو ،اے آر ایل، ایم ای بی ایل، ایم سی بی، ایچ بی ایل پی پئ ایل اور این بی پی منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کو زبردست تیزی دیکھی گئی جہاں سرمایہ کاروں کے بہتر ہوتے اعتماد کی بدولت بینچ مارک انڈیکس نے تیزی سے بحالی ریکارڈ کی، اس مثبت رجحان کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور اہم شعبوں میں حصص کی سستی قیمتوں پر خریداری سے بھرپور مدد ملی۔</p>
<p>بدھ کو بینچ مارک 100 انڈیکس 4,276.09 پوائنٹس یا 2.85 فیصد کے نمایاں اضافے سے 154,292.26 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر جمعرات کو حصص کی قیمتوں میں کمی اور خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا۔ یہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ میں آنے والی بڑی شدت کے بعد پیدا ہوئی جس نے سرمایہ کاروں کو شدید بے چین کردیا۔ دوسری جانب جاپانی کرنسی ین ڈالر کے مقابلے میں 160 کی اہم ترین سطح کے قریب غیر مستحکم رہی کیونکہ جاپان کے مرکزی بینک نے شرح سود میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>جیسا کہ وسیع پیمانے پر توقع کی جا رہی تھی، بینک آف جاپان نے اپنی قلیل مدتی پالیسی ریٹ کو 0.75 فیصد پر برقرار رکھا ہے، تاہم جاپانی مرکزی بینک نے امریکی فیڈرل ریزرو اور بینک آف کینیڈا کی طرح محتاط انداز اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ تنازع کے نتیجے میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>تاہم وسیع تر مارکیٹ کی توجہ اب بھی مشرق وسطیٰ کی جنگ پر مرکوز ہے اور یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ یہ تنازع طویل ہوسکتا ہے جس سے اسٹیگ فلیشن یعنی معاشی جمود کے ساتھ مہنگائی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔</p>
<p>ایران نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے بدھ کو اس کی جنوبی پارس گیس فیلڈ کی تنصیبات پر حملہ کیا جس کے جواب میں ایران نے پورے خلیج میں تیل اور گیس کے اہداف کو نشانہ بنانے کا عہد کیا اور قطر اور سعودی عرب پر میزائل داغے۔</p>
<p>توانائی کی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات کے باعث امریکی خام تیل کے سودے تقریباً 1 فیصد اضافے کے ساتھ 97.07 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے۔ قدرتی گیس کی قیمتوں میں 6 فیصد سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا جبکہ برینٹ فیوچرز 4.5 فیصد اضافے کے ساتھ 112.19 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔</p>
<p>اسٹاک مارکیٹ کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو جاپان کا نکی انڈیکس 2.5 فیصد گرگیا جبکہ جنوبی کوریا کے حصص میں 1.5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا وسیع تر ایم ایس سی آئی انڈیکس بھی 1.5 فیصد سے زیادہ نیچے رہا۔ یورپی فیوچرز میں بھی 1 فیصد سے زائد کی مندی دیکھی گئی۔</p>
<p>دریں اثنا، جمعرات کو انٹر بینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہوا۔ کاروبار کے اختتام پر، مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کے اضافے سے 279.25 پر آ گئی۔</p>
<p>جمعرات کو آل شیئرز انڈیکس پر تجارتی حجم گزشتہ سیشن کے 397.47 ملین شیئرز سے کم ہو کر 326.64 ملین رہ گیا۔</p>
<p>گزشتہ سیشن کے مقابلے میں حصص کی مالیت بھی 22.35 ارب روپے سے کم ہو کر 19.40 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>وصل موبلٹی 40.36 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہی، جس کے بعد بینک آف پنجاب 22.78 ملین شیئرز اور فرسٹ نیشنل ایکویٹیز 22.03 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر 474 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 153 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 261 میں کمی اور 60 کمپنیوں کی قیمتوں میں استحکام رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/191433165b1973d.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/191433165b1973d.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284064</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Mar 2026 18:27:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/191142539f245f9.webp" type="image/webp" medium="image" height="1330" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/191142539f245f9.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
