<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:18:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت کا توانائی صورتحال کا جائزہ، ڈیزل کے ذخائر 24 دن کے لیے کافی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284054/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت نے ملک میں ایندھن کی فراہمی کو مستحکم قرار دیتے ہوئے درآمدی عمل کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے مالیاتی اداروں کے درمیان فوری رابطہ کاری کی ہدایت دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر بینکوں کے ساتھ مل کر لیٹر آف کریڈٹ کے حجم میں اضافے سے پیدا ہونے والی عملی مشکلات کو کم کرنے کے لیے عارضی سہولتیں اور کنسورشیم بنیادوں پر فنانسنگ جیسے اقدامات پر غور کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ڈیزل کے ذخائر تقریباً 24 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں جبکہ پیٹرول کے ذخائر بھی تسلی بخش سطح پر موجود ہیں۔ درآمدات اور ریفائنریوں کی جاری پیداوار کے باعث ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی معمول کے مطابق برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کی۔ یہ اجلاس خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں توانائی کے شعبے کی صورتحال کا روزانہ جائزہ لینے کے حکومتی عمل کا حصہ تھا۔ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی توانائی منڈیوں میں شدید غیر یقینی صورتحال کے باوجود ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر مناسب سطح پر موجود ہیں اور سپلائی میں کسی رکاوٹ کا خدشہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ خام تیل کا ایک جہاز بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے اور اس سے تیل اتارا جا رہا ہے جبکہ ایک اور جہاز چند گھنٹوں میں کراچی پہنچنے کی توقع ہے۔ مزید کھیپیں راستے میں ہیں اور مارچ اور اپریل کے لیے اضافی درآمدی انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ قومی ذخائر کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ حکام کے مطابق نئے کارگو کی پروسیسنگ کے بعد ریفائنریوں کی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بتایا گیا کہ عالمی پیٹرولیم منڈی اس وقت سخت دباؤ کا شکار ہے اور بینچ مارک قیمتوں کے ساتھ ساتھ کارگو پریمیم میں بھی حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے باعث درآمدی لاگت میں اضافہ ہوا ہے جس سے لین دین کے حجم بڑے ہو گئے ہیں اور موجودہ فنانسنگ انتظامات پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ نے ہدایت دی کہ اس معاملے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے ساتھ فوری رابطہ کیا جائے تاکہ بینکنگ سہولتوں میں لچک پیدا کی جا سکے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مارکیٹ میں قیاس آرائی پر مبنی ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کے لیے نگرانی مزید سخت کی جائے اور صوبائی انتظامیہ معائنوں اور کارروائیوں کو تیز کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئندہ عید کی تعطیلات اور فصل کی کٹائی کے موسم کے دوران طلب میں اضافے کے پیش نظر آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مکمل طور پر تیار ہیں اور ڈپو معمول کے مطابق فعال رہیں گے۔ اجلاس میں پیٹرولیم سپلائی کی نگرانی کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے قیام پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جس کے ذریعے ذخائر اور فراہمی کی صورتحال پر حقیقی وقت میں نظر رکھی جا سکے گی۔ وزیر خزانہ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ معلومات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ مؤثر فیصلے کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت نے ملک میں ایندھن کی فراہمی کو مستحکم قرار دیتے ہوئے درآمدی عمل کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے مالیاتی اداروں کے درمیان فوری رابطہ کاری کی ہدایت دی ہے۔</strong></p>
<p>پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کابینہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دیگر بینکوں کے ساتھ مل کر لیٹر آف کریڈٹ کے حجم میں اضافے سے پیدا ہونے والی عملی مشکلات کو کم کرنے کے لیے عارضی سہولتیں اور کنسورشیم بنیادوں پر فنانسنگ جیسے اقدامات پر غور کیا جائے۔</p>
<p>اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت ڈیزل کے ذخائر تقریباً 24 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں جبکہ پیٹرول کے ذخائر بھی تسلی بخش سطح پر موجود ہیں۔ درآمدات اور ریفائنریوں کی جاری پیداوار کے باعث ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی معمول کے مطابق برقرار ہے۔</p>
<p>اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کی۔ یہ اجلاس خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں توانائی کے شعبے کی صورتحال کا روزانہ جائزہ لینے کے حکومتی عمل کا حصہ تھا۔ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ عالمی توانائی منڈیوں میں شدید غیر یقینی صورتحال کے باوجود ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر مناسب سطح پر موجود ہیں اور سپلائی میں کسی رکاوٹ کا خدشہ نہیں۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ خام تیل کا ایک جہاز بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے اور اس سے تیل اتارا جا رہا ہے جبکہ ایک اور جہاز چند گھنٹوں میں کراچی پہنچنے کی توقع ہے۔ مزید کھیپیں راستے میں ہیں اور مارچ اور اپریل کے لیے اضافی درآمدی انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ قومی ذخائر کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ حکام کے مطابق نئے کارگو کی پروسیسنگ کے بعد ریفائنریوں کی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔</p>
<p>اجلاس میں بتایا گیا کہ عالمی پیٹرولیم منڈی اس وقت سخت دباؤ کا شکار ہے اور بینچ مارک قیمتوں کے ساتھ ساتھ کارگو پریمیم میں بھی حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے باعث درآمدی لاگت میں اضافہ ہوا ہے جس سے لین دین کے حجم بڑے ہو گئے ہیں اور موجودہ فنانسنگ انتظامات پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ نے ہدایت دی کہ اس معاملے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے ساتھ فوری رابطہ کیا جائے تاکہ بینکنگ سہولتوں میں لچک پیدا کی جا سکے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مارکیٹ میں قیاس آرائی پر مبنی ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کے لیے نگرانی مزید سخت کی جائے اور صوبائی انتظامیہ معائنوں اور کارروائیوں کو تیز کرے۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئندہ عید کی تعطیلات اور فصل کی کٹائی کے موسم کے دوران طلب میں اضافے کے پیش نظر آئل مارکیٹنگ کمپنیاں مکمل طور پر تیار ہیں اور ڈپو معمول کے مطابق فعال رہیں گے۔ اجلاس میں پیٹرولیم سپلائی کی نگرانی کے لیے ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے قیام پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا جس کے ذریعے ذخائر اور فراہمی کی صورتحال پر حقیقی وقت میں نظر رکھی جا سکے گی۔ وزیر خزانہ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ معلومات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ مؤثر فیصلے کیے جا سکیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284054</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Mar 2026 09:36:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/190932555dc4e2e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/190932555dc4e2e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
