<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ کا نیا مرحلہ، امریکہ کا اضافی فوجی تعینات کرنے پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284052/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے اگلے مرحلے کے لیے ہزاروں اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے آگاہ تین افراد کے مطابق امریکی فوج ممکنہ آئندہ اقدامات کی تیاری کر رہی ہے جبکہ ایران کے خلاف جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ممکنہ تعیناتی سے صدر ٹرمپ کو فوجی کارروائی کو وسعت دینے کے لیے مزید اختیارات مل سکتے ہیں۔ ان اختیارات میں اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانا بھی شامل ہے۔ یہ مشن بنیادی طور پر فضائی اور بحری قوت کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے، تاہم بعض منصوبوں میں ایران کے ساحلی علاقوں پر امریکی فوجی تعینات کرنے کا امکان بھی زیر غور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ پر زمینی افواج بھیجنے کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ اس جزیرے سے ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات ہوتی ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایسی کارروائی انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ ایران میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جزیرے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے 13 مارچ کو جزیرے پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا تھا جبکہ صدر ٹرمپ ایران کے اہم تیل کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملوں کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم معاشی مرکز کو تباہ کرنے کے بجائے اس پر کنٹرول حاصل کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی سمجھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق امریکی حکام ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری مواد کو محفوظ کرنا ایک پیچیدہ اور خطرناک عمل ہو گا، حتیٰ کہ امریکی خصوصی افواج کے لیے بھی مشکل ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام کے مطابق فی الحال ایران میں زمینی افواج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ تمام ممکنہ آپشنز کو زیر غور رکھے ہوئے ہیں اور ان کا مقصد ایران کی میزائل صلاحیت کو ختم کرنا، اس کی بحریہ کو ناکارہ بنانا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی کے اگلے مرحلے کے لیے ہزاروں اضافی امریکی فوجیوں کی تعیناتی پر غور کر رہی ہے۔ ایک امریکی عہدیدار اور معاملے سے آگاہ تین افراد کے مطابق امریکی فوج ممکنہ آئندہ اقدامات کی تیاری کر رہی ہے جبکہ ایران کے خلاف جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق ممکنہ تعیناتی سے صدر ٹرمپ کو فوجی کارروائی کو وسعت دینے کے لیے مزید اختیارات مل سکتے ہیں۔ ان اختیارات میں اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے لیے محفوظ راستہ یقینی بنانا بھی شامل ہے۔ یہ مشن بنیادی طور پر فضائی اور بحری قوت کے ذریعے انجام دیا جا سکتا ہے، تاہم بعض منصوبوں میں ایران کے ساحلی علاقوں پر امریکی فوجی تعینات کرنے کا امکان بھی زیر غور ہے۔</p>
<p>امریکی حکام نے یہ بھی بتایا کہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ پر زمینی افواج بھیجنے کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ اس جزیرے سے ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات ہوتی ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایسی کارروائی انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ ایران میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے جزیرے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>
<p>امریکہ نے 13 مارچ کو جزیرے پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا تھا جبکہ صدر ٹرمپ ایران کے اہم تیل کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملوں کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اہم معاشی مرکز کو تباہ کرنے کے بجائے اس پر کنٹرول حاصل کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی سمجھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق امریکی حکام ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری مواد کو محفوظ کرنا ایک پیچیدہ اور خطرناک عمل ہو گا، حتیٰ کہ امریکی خصوصی افواج کے لیے بھی مشکل ہوگا۔</p>
<p>امریکی حکام کے مطابق فی الحال ایران میں زمینی افواج بھیجنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ تمام ممکنہ آپشنز کو زیر غور رکھے ہوئے ہیں اور ان کا مقصد ایران کی میزائل صلاحیت کو ختم کرنا، اس کی بحریہ کو ناکارہ بنانا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284052</guid>
      <pubDate>Thu, 19 Mar 2026 09:04:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/190901077f9c130.webp" type="image/webp" medium="image" height="683" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/190901077f9c130.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
