<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:00:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:00:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے بڑے خلیجی گیس فیلڈ پر حملہ، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں شدید اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284045/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی اسرائیل جنگ کے دوران خلیج میں ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے پہلے مبینہ حملوں میں بدھ کے روز ایران کا بہت بڑا پارس گیس فیلڈ متاثر ہوا، یہ ایک بڑی پیشرفت ہے جس نے تہران کو اپنے پڑوسیوں کو انتباہ کرنے پر مجبور کیا کہ وہ اپنی توانائی کی تنصیبات کو خالی کر دیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارس دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر کا ایرانی شعبہ ہے، جسے ایران خلیج میں قطر کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔ ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ گیس ٹینک اور ایک ریفائنری کے کچھ حصے متاثر ہوئے ہیں، کارکنوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور ہنگامی عملہ آگ بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ حملہ اسرائیلی میڈیا میں بڑے پیمانے پر بتایا گیا کہ یہ حملہ اسرائیل نے امریکہ کی رضامندی سے کیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطر، ایک قریبی امریکی اتحادی جو خطے میں سب سے بڑے امریکی ایئربیس کی میزبانی کرتا ہے، نے کسی امریکی کردار کا ذکر کیے بغیر اسے اسرائیلی حملہ قرار دیا۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسے ”خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ“ اقدام قرار دیا جس نے عالمی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے پاسداران انقلاب نے فوری ردعمل کے طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کو توانائی کی متعدد تنصیبات خالی کرنے کے لیے کہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور اسرائیل نے اس سے قبل خلیج میں ایران کی توانائی کی پیداواری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے باز رکھا تھا، یہ ایک ایسا اقدام ہے جو دوسرے پروڈیوسروں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کو دعوت دے سکتا ہے اور عالمی منڈیوں کے لیے توانائی کی سپلائی میں اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ سے باز آنا مشکل بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن جنگ کے تقریباً تین ہفتے گزرنے کے باوجود کشیدگی میں کمی کا کوئی نشان نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ہر کوئی کراس ہیئرز میں ہے‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے دو دنوں میں اعلیٰ قیادت کی شخصیت پر دوسرے حملے میں ایران کے انٹیلی جنس وزیر کو ہلاک کر دیا ہے، اور فوج کو اختیار دیا ہے کہ وہ کسی بھی اعلیٰ ایرانی اہلکار کو نشانہ بنا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے وسطی بیروت کو بھی نشانہ بنایا، کئی دہائیوں سے لبنانی دارالحکومت پر کچھ شدید ترین فضائی حملوں میں اپارٹمنٹ کی عمارتوں کو تباہ کر دیا، اس جنگ میں اسرائیل کے دوسرے محاذ پر جو اس نے امریکہ کے ساتھ ایران کے خلاف شروع کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ”ایران میں کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہے اور سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں،“ جس نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے سیکورٹی چیف علی لاریجانی کو قتل کرنے کے ایک دن بعد ایران کے انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کو قتل کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے وزیرِ اعظم  بنیامین نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام نے اسرائیلی دفاعی فورسز کو اختیار دیا ہے کہ وہ کسی بھی سینئر ایرانی اہلکار کو ہدف بنا سکیں، بشرطیکہ خفیہ معلومات اور آپریشنل موقع موجود ہو، اور اس کے لیے اضافی سیاسی منظوری کی ضرورت نہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ اسرائیل نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ فوج کو دشمن اہلکاروں کو ہدف بنانے کے لیے خصوصی اجازت کے بغیر کارروائی کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تہران میں ہزاروں افراد نے لاریجانی اور دیگر شہداء کے جنازے میں شرکت کی، جو ایرانی جھنڈے لہرا رہے تھے اور شہیدوں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے، جبکہ ایک خطیب نے کہا کہ ”شہداء رہنمائی کر رہے ہیں، وہ مزید زندہ ہیں، محبت کی آگ میں جل رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے لاریجانی کے قتل کے ردعمل میں اسرائیل پر میزائل داغے، جس کے نتیجے میں تل ابیب کے قریب دو افراد ہلاک ہوئے۔ تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب، حیفہ اور بیئرشیبہ کے ساتھ ساتھ بحرین، عراق، اردن، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایک مضبوط سیاسی نظام ہے جو کسی ایک فرد پر منحصر نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;توانائی کی قیمتوں میں اضافہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی توانائی کی فراہمی میں غیرمعمولی خلل کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سیاسی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکہ میں ڈیزل کی قیمت پہلی بار 2022 کی مہنگائی کے بعد 5 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے لبنان میں حملے اور جنوبی علاقے میں زمینی کارروائی بڑھائی ہے تاکہ ایران نواز حزب اللہ کو کنٹرول کیا جا سکے، جس نے تہران کے ساتھ یکجہتی میں سرحد پار فائر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیروت کے مرکزی علاقے باچورا میں اسرائیل نے رہائشیوں کو عمارت خالی کرنے کی وارننگ دی جو حزب اللہ کے استعمال میں تھی، اور پھر اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ عینی شاہدین نے روئٹرز کو بتایا کہ عمارت صبح کے وقت گرتی ہوئی مٹی میں بدل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رہائشی ابو خلیل نے بتایا کہ اسرائیلی وارننگ کے بعد انہوں نے لوگوں کو قریبی گھروں سے نکلنے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ صرف خوفزدہ کرنے اور بچوں کو ڈرانے کے لیے ایک کارروائی ہے، قریب میں کوئی فوجی ہدف نہیں تھا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لبنان کے دیگر دو مرکزی علاقوں میں اپارٹمنٹ پر حملے کے دوران کم از کم 10 افراد جاں بحق ہوئے، اور رہائشی ملبے ہٹاتے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل میں بھی ایک ایرانی میزائل نے ہولون کے رہائشی علاقے میں زمین پر گڑھا کھودا اور گاڑیوں میں آگ لگا دی۔ رہائشی لیا پالٹیئل نے بتایا کہ ”الارم بجا، ہم پناہ گاہ میں گئے اور ایک خوفناک دھماکہ سنا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی انسانی حقوق کی تنظیم ” ہرانا“ (ایچ آر اے این اے) کے مطابق 28 فروری سے جاری امریکی اوراسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں تین ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ لبنان میں 900 جاں بحق اور 8 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ عراق اور خلیجی ریاستوں میں بھی ایرانی حملوں میں کئی لوگ مارے گئے ہیں، جبکہ اسرائیل میں 14 افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی اسرائیل جنگ کے دوران خلیج میں ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے پہلے مبینہ حملوں میں بدھ کے روز ایران کا بہت بڑا پارس گیس فیلڈ متاثر ہوا، یہ ایک بڑی پیشرفت ہے جس نے تہران کو اپنے پڑوسیوں کو انتباہ کرنے پر مجبور کیا کہ وہ اپنی توانائی کی تنصیبات کو خالی کر دیں۔</strong></p>
<p>پارس دنیا کے سب سے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر کا ایرانی شعبہ ہے، جسے ایران خلیج میں قطر کے ساتھ شیئر کرتا ہے۔ ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے اطلاع دی ہے کہ گیس ٹینک اور ایک ریفائنری کے کچھ حصے متاثر ہوئے ہیں، کارکنوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور ہنگامی عملہ آگ بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔</p>
<p>یہ حملہ اسرائیلی میڈیا میں بڑے پیمانے پر بتایا گیا کہ یہ حملہ اسرائیل نے امریکہ کی رضامندی سے کیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>قطر، ایک قریبی امریکی اتحادی جو خطے میں سب سے بڑے امریکی ایئربیس کی میزبانی کرتا ہے، نے کسی امریکی کردار کا ذکر کیے بغیر اسے اسرائیلی حملہ قرار دیا۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسے ”خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ“ اقدام قرار دیا جس نے عالمی توانائی کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔</p>
<p>ایران کے پاسداران انقلاب نے فوری ردعمل کے طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کو توانائی کی متعدد تنصیبات خالی کرنے کے لیے کہا ہے۔</p>
<p>امریکہ اور اسرائیل نے اس سے قبل خلیج میں ایران کی توانائی کی پیداواری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے باز رکھا تھا، یہ ایک ایسا اقدام ہے جو دوسرے پروڈیوسروں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کو دعوت دے سکتا ہے اور عالمی منڈیوں کے لیے توانائی کی سپلائی میں اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ سے باز آنا مشکل بنا سکتا ہے۔</p>
<p>لیکن جنگ کے تقریباً تین ہفتے گزرنے کے باوجود کشیدگی میں کمی کا کوئی نشان نہیں ہے۔</p>
<p>’ہر کوئی کراس ہیئرز میں ہے‘</p>
<p>اسرائیل نے بدھ کو کہا ہے کہ اس نے دو دنوں میں اعلیٰ قیادت کی شخصیت پر دوسرے حملے میں ایران کے انٹیلی جنس وزیر کو ہلاک کر دیا ہے، اور فوج کو اختیار دیا ہے کہ وہ کسی بھی اعلیٰ ایرانی اہلکار کو نشانہ بنا سکتا ہے۔</p>
<p>اسرائیل نے وسطی بیروت کو بھی نشانہ بنایا، کئی دہائیوں سے لبنانی دارالحکومت پر کچھ شدید ترین فضائی حملوں میں اپارٹمنٹ کی عمارتوں کو تباہ کر دیا، اس جنگ میں اسرائیل کے دوسرے محاذ پر جو اس نے امریکہ کے ساتھ ایران کے خلاف شروع کیا تھا۔</p>
<p>وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ ”ایران میں کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہے اور سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں،“ جس نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے سیکورٹی چیف علی لاریجانی کو قتل کرنے کے ایک دن بعد ایران کے انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کو قتل کر دیا تھا۔</p>
<p>اسرائیل کے وزیرِ اعظم  بنیامین نیتن یاہو اور دیگر اعلیٰ حکام نے اسرائیلی دفاعی فورسز کو اختیار دیا ہے کہ وہ کسی بھی سینئر ایرانی اہلکار کو ہدف بنا سکیں، بشرطیکہ خفیہ معلومات اور آپریشنل موقع موجود ہو، اور اس کے لیے اضافی سیاسی منظوری کی ضرورت نہیں۔ یہ پہلی بار ہے کہ اسرائیل نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ فوج کو دشمن اہلکاروں کو ہدف بنانے کے لیے خصوصی اجازت کے بغیر کارروائی کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔</p>
<p>تہران میں ہزاروں افراد نے لاریجانی اور دیگر شہداء کے جنازے میں شرکت کی، جو ایرانی جھنڈے لہرا رہے تھے اور شہیدوں کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے، جبکہ ایک خطیب نے کہا کہ ”شہداء رہنمائی کر رہے ہیں، وہ مزید زندہ ہیں، محبت کی آگ میں جل رہے ہیں۔“</p>
<p>ایران نے لاریجانی کے قتل کے ردعمل میں اسرائیل پر میزائل داغے، جس کے نتیجے میں تل ابیب کے قریب دو افراد ہلاک ہوئے۔ تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب، حیفہ اور بیئرشیبہ کے ساتھ ساتھ بحرین، عراق، اردن، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔</p>
<p>ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل یہ سمجھنے میں ناکام رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایک مضبوط سیاسی نظام ہے جو کسی ایک فرد پر منحصر نہیں۔</p>
<p><strong>توانائی کی قیمتوں میں اضافہ</strong></p>
<p>عالمی توانائی کی فراہمی میں غیرمعمولی خلل کی وجہ سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر سیاسی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکہ میں ڈیزل کی قیمت پہلی بار 2022 کی مہنگائی کے بعد 5 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی۔</p>
<p>اسرائیل نے لبنان میں حملے اور جنوبی علاقے میں زمینی کارروائی بڑھائی ہے تاکہ ایران نواز حزب اللہ کو کنٹرول کیا جا سکے، جس نے تہران کے ساتھ یکجہتی میں سرحد پار فائر کیا۔</p>
<p>بیروت کے مرکزی علاقے باچورا میں اسرائیل نے رہائشیوں کو عمارت خالی کرنے کی وارننگ دی جو حزب اللہ کے استعمال میں تھی، اور پھر اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ عینی شاہدین نے روئٹرز کو بتایا کہ عمارت صبح کے وقت گرتی ہوئی مٹی میں بدل گئی۔</p>
<p>رہائشی ابو خلیل نے بتایا کہ اسرائیلی وارننگ کے بعد انہوں نے لوگوں کو قریبی گھروں سے نکلنے میں مدد کی۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ صرف خوفزدہ کرنے اور بچوں کو ڈرانے کے لیے ایک کارروائی ہے، قریب میں کوئی فوجی ہدف نہیں تھا۔“</p>
<p>لبنان کے دیگر دو مرکزی علاقوں میں اپارٹمنٹ پر حملے کے دوران کم از کم 10 افراد جاں بحق ہوئے، اور رہائشی ملبے ہٹاتے رہے۔</p>
<p>اسرائیل میں بھی ایک ایرانی میزائل نے ہولون کے رہائشی علاقے میں زمین پر گڑھا کھودا اور گاڑیوں میں آگ لگا دی۔ رہائشی لیا پالٹیئل نے بتایا کہ ”الارم بجا، ہم پناہ گاہ میں گئے اور ایک خوفناک دھماکہ سنا۔“</p>
<p>امریکہ کی انسانی حقوق کی تنظیم ” ہرانا“ (ایچ آر اے این اے) کے مطابق 28 فروری سے جاری امریکی اوراسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں تین ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔ لبنان میں 900 جاں بحق اور 8 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ عراق اور خلیجی ریاستوں میں بھی ایرانی حملوں میں کئی لوگ مارے گئے ہیں، جبکہ اسرائیل میں 14 افراد ہلاک ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284045</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Mar 2026 20:57:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/18203247c1fc3af.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/18203247c1fc3af.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
