<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیان لمیٹڈ اور ڈی ایچ پارٹنرز کا داؤد لارنس پور میں انضمام، سی سی پی نے منظوری دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284041/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے بدھ کو کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت جائزے کے بعد سیان لمیٹڈ اور ڈی ایچ پارٹنرز لمیٹڈ کے داؤد لارنس پور لمیٹڈ (ڈی ایل ایل ) میں انضمام کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، منظور شدہ ٹرانزیکشن کا تعلق 16 دسمبر 2025 کو طے پانے والے اسکیم آف ایملگیمیشن سے ہے، جس کے تحت سیان لمیٹڈ  اور ڈی ایچ پارٹنرز لمیٹڈ کو داؤد لارنس پور لمیٹڈ  میں ضم کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس انتظام  کے تحت ضم ہونے والے اداروں کے تمام اثاثے، واجبات  اور ذمہ داریاں داؤد لارنس پور لمیٹڈ  میں یکجا  کر دی جائیں گی جبکہ سیان لمیٹڈ اور ڈی ایچ پارٹنرز لمیٹڈ کے شیئر ہولڈرز کو ان کے حصص کے عوض داؤد لارنس پور لمیٹڈ کے نئے شیئرز جاری کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی سی پی نے اپنے فیز-1 کے مسابقتی جائزے میں یہ مشاہدہ کیا کہ یہ تینوں کمپنیاں بنیادی طور پر سرمایہ کاری کے ذرائع  کے طور پر کام کرتی ہیں، جو مختلف شعبوں میں پورٹ فولیو اور سرمایہ کاری کا انتظام سنبھالتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ مجوزہ ٹرانزیکشن داؤد گروپ کے اندرونی ڈھانچے کی از سرِ نو تنظیم کی نمائندگی کرتی ہے، کیونکہ اس میں شامل تمام ادارے ایک ہی انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرنے والی ’ایسوسی ایٹڈ کمپنیاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستیاب معلومات کے جائزے کے بعد کمیشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس انضمام سے متعلقہ مارکیٹ میں نہ تو کوئی اجارہ دارانہ پوزیشن  پیدا ہوگی اور نہ ہی اسے تقویت ملے گی اور نہ ہی اس سے مقابلے کی فضا میں کوئی بڑی کمی واقع ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ میں کہا گیا کہ اس لیے اس انضمام سے مقابلے کے حوالے سے خدشات پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ چنانچہ، کمیشن نے کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 31(1)(d)(i) کے تحت اس ٹرانزیکشن کی منظوری دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح کی کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ (تنظیمِ نو) سے انویسٹمنٹ پورٹ فولیو کے انتظام میں کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیشن نے مزید کہا کہ اپنے جائزے کے ذریعے سی سی پی  اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ ٹرانزیکشنز مسابقتی اصولوں کے عین مطابق ہوں اور مارکیٹ کی حرکیات پر منفی اثر نہ ڈالیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل ڈی ایچ نے بتایا تھا کہ ڈی ایچ پارٹنرز کے شیئر ہولڈرز (بجز داؤد لارنس پور) کو ڈی ایچ پی ایل میں موجود ہر 100 عام شیئرز کے بدلے داؤد لارنس پور  کے 4.7724 عام شیئرز ملیں گے جب  کہ سیان کے شیئر ہولڈرز کو ان کے ہر 100 عام شیئرز کے بدلے ڈی ایل ایل کے 7.2974 عام شیئرز جاری کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان سویپ ریشوز (حصص کے تبادلے کی شرح) کی منظوری ڈی ایچ پی ایل  کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے دی ہے۔ یہ منظوری ڈی ایچ پی ایل، سیان اور ڈی ایل ایل کے 31 اکتوبر 2025 تک کے آڈٹ شدہ خصوصی مالیاتی گوشواروں، بیرونی آزاد ماہرین کی جانب سے غیر منقولہ جائیدادوں کی مالیت کے تعین، اور اس اسکیم کے لیے کمپنیوں کی جانب سے مشترکہ طور پر مقرر کردہ ایک آزاد مالیاتی مشیر  کے حساب کتاب کی بنیاد پر دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے بدھ کو کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت جائزے کے بعد سیان لمیٹڈ اور ڈی ایچ پارٹنرز لمیٹڈ کے داؤد لارنس پور لمیٹڈ (ڈی ایل ایل ) میں انضمام کی منظوری دے دی ہے۔</strong></p>
<p>سی سی پی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، منظور شدہ ٹرانزیکشن کا تعلق 16 دسمبر 2025 کو طے پانے والے اسکیم آف ایملگیمیشن سے ہے، جس کے تحت سیان لمیٹڈ  اور ڈی ایچ پارٹنرز لمیٹڈ کو داؤد لارنس پور لمیٹڈ  میں ضم کردیا جائے گا۔</p>
<p>اس انتظام  کے تحت ضم ہونے والے اداروں کے تمام اثاثے، واجبات  اور ذمہ داریاں داؤد لارنس پور لمیٹڈ  میں یکجا  کر دی جائیں گی جبکہ سیان لمیٹڈ اور ڈی ایچ پارٹنرز لمیٹڈ کے شیئر ہولڈرز کو ان کے حصص کے عوض داؤد لارنس پور لمیٹڈ کے نئے شیئرز جاری کیے جائیں گے۔</p>
<p>سی سی پی نے اپنے فیز-1 کے مسابقتی جائزے میں یہ مشاہدہ کیا کہ یہ تینوں کمپنیاں بنیادی طور پر سرمایہ کاری کے ذرائع  کے طور پر کام کرتی ہیں، جو مختلف شعبوں میں پورٹ فولیو اور سرمایہ کاری کا انتظام سنبھالتی ہیں۔</p>
<p>اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ مجوزہ ٹرانزیکشن داؤد گروپ کے اندرونی ڈھانچے کی از سرِ نو تنظیم کی نمائندگی کرتی ہے، کیونکہ اس میں شامل تمام ادارے ایک ہی انتظامی کنٹرول کے تحت کام کرنے والی ’ایسوسی ایٹڈ کمپنیاں ہیں۔</p>
<p>دستیاب معلومات کے جائزے کے بعد کمیشن اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس انضمام سے متعلقہ مارکیٹ میں نہ تو کوئی اجارہ دارانہ پوزیشن  پیدا ہوگی اور نہ ہی اسے تقویت ملے گی اور نہ ہی اس سے مقابلے کی فضا میں کوئی بڑی کمی واقع ہوگی۔</p>
<p>اعلامیہ میں کہا گیا کہ اس لیے اس انضمام سے مقابلے کے حوالے سے خدشات پیدا ہونے کا امکان نہیں ہے۔ چنانچہ، کمیشن نے کمپٹیشن ایکٹ 2010 کے سیکشن 31(1)(d)(i) کے تحت اس ٹرانزیکشن کی منظوری دے دی ہے۔</p>
<p>اس طرح کی کارپوریٹ ری اسٹرکچرنگ (تنظیمِ نو) سے انویسٹمنٹ پورٹ فولیو کے انتظام میں کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری کی صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>کمیشن نے مزید کہا کہ اپنے جائزے کے ذریعے سی سی پی  اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ ٹرانزیکشنز مسابقتی اصولوں کے عین مطابق ہوں اور مارکیٹ کی حرکیات پر منفی اثر نہ ڈالیں۔</p>
<p>اس سے قبل ڈی ایچ نے بتایا تھا کہ ڈی ایچ پارٹنرز کے شیئر ہولڈرز (بجز داؤد لارنس پور) کو ڈی ایچ پی ایل میں موجود ہر 100 عام شیئرز کے بدلے داؤد لارنس پور  کے 4.7724 عام شیئرز ملیں گے جب  کہ سیان کے شیئر ہولڈرز کو ان کے ہر 100 عام شیئرز کے بدلے ڈی ایل ایل کے 7.2974 عام شیئرز جاری کیے جائیں گے۔</p>
<p>ان سویپ ریشوز (حصص کے تبادلے کی شرح) کی منظوری ڈی ایچ پی ایل  کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے دی ہے۔ یہ منظوری ڈی ایچ پی ایل، سیان اور ڈی ایل ایل کے 31 اکتوبر 2025 تک کے آڈٹ شدہ خصوصی مالیاتی گوشواروں، بیرونی آزاد ماہرین کی جانب سے غیر منقولہ جائیدادوں کی مالیت کے تعین، اور اس اسکیم کے لیے کمپنیوں کی جانب سے مشترکہ طور پر مقرر کردہ ایک آزاد مالیاتی مشیر  کے حساب کتاب کی بنیاد پر دی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284041</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Mar 2026 16:08:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/18155818b19955f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/18155818b19955f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
