<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز کی بندش پاکستان کے تیل کے بل کو تین گنا کر سکتی ہے، مہنگائی 15 سے 17 فیصد تک بڑھنے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284040/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی منڈیاں ایک بار پھر ہل کر رہ گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، یہ ایک تنگ مگر نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے جس کے ذریعے دنیا کی تقریباً 20 فیصد سمندری تیل تجارت گزرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے، جو بڑی حد تک درآمدی توانائی پر انحصار کرتا ہے، کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ کی قیمت پہلے ہی تقریباً 92 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جو بنیادی مارکیٹ عوامل کے بجائے جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا ”وار پریمیم“ ظاہر کرتی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے ٹینکروں کی نقل و حرکت میں تین ماہ تک خلل رہا اور کشیدگی میں اضافہ ہوا تو قیمتیں 120 سے 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا زیادہ تر حصہ درآمد کرتا ہے، جس کا 80 سے 85 فیصد خلیجی خطے (خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت) سے آتا ہے اور تقریباً تمام درآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں، جس سے ملک کی جغرافیائی انحصاریت اسے انتہائی کمزور بنا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی کل درآمدات کا تقریباً 30 فیصد حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے۔ تخمینوں کے مطابق عالمی تیل کی قیمت میں فی بیرل 10 ڈالر اضافے سے پاکستان کے سالانہ درآمدی بل میں 1.8 سے 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے۔ اگر ہرمز تین ماہ کے لیے بند ہو جائے تو پاکستان کا ماہانہ درآمدی بل تین گنا ہو کر 3.5 سے 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے اور مہنگائی تقریباً 7 فیصد سے بڑھ کر 15 سے 17 فیصد تک جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ شپنگ انشورنس اور فریٹ کے اخراجات میں اضافے سے تجارتی خسارہ سالانہ مزید 120 سے 160 ملین ڈالر بڑھ سکتا ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا۔ ( پی آئی ڈی ای پالیسی ویو پوائنٹ: ”تیل کی عالمی قیمت میں اتار چڑھاؤ، مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست، اور پاکستان کی افراط زر کی حرکیات“ مارچ 2026)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاریخی واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ تیل کے جھٹکے مقامی معیشت تک کتنی تیزی سے منتقل ہوتے ہیں۔ 2008، 2011 اور 2022 میں  سی پی آئی میں 14 سے 25 فیصد تک اضافہ ہوا، جو بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ، توانائی اور خوراک کی قیمتوں کے ذریعے منتقل ہوا۔ ملک میں ایندھن کی قیمتیں پہلے ہی 55 روپے فی لیٹر بڑھ چکی ہیں، جس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ اگر برینٹ کروڈ 100 سے 110 ڈالر یا اس سے زیادہ تک پہنچتا ہے تو سی پی آئی 15 سے 18 فیصد تک جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں توانائی کے بفرز محدود ہیں۔ اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر صرف 10 سے 14 دن کی کھپت کے برابر ہیں، جس سے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی گنجائش نہایت کم رہ جاتی ہے۔ اس کے برعکس بھارت کے پاس 65 سے 70 دن کے ذخائر اور مضبوط زرمبادلہ بفرز ہیں جبکہ بنگلہ دیش کو نسبتاً مستحکم آمدنی کا فائدہ حاصل ہے۔ سری لنکا کی حالیہ بحران اس بات کی مثال ہے کہ کمزور بیرونی بفرز اور زیادہ تیل انحصار کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ بات چیت کے تحت ینبع کی بندرگاہ کے ذریعے تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز پر انحصار کم کر سکتی ہے، تاہم طویل راستوں سے فریٹ اور انشورنس اخراجات 150 سے 200 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں، ترسیل میں تاخیر ہو سکتی ہے اور لاجسٹک مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قلیل مدت میں پاکستان کو معیشت کو ممکنہ توانائی جھٹکے سے بچانے کے لیے متعدد اقدامات کرنا ہوں گے۔ پی ایس او کو ٹینکروں کی آمد کی نگرانی کرنی ہوگی اور 14 دن سے زائد کے ذخائر برقرار رکھنے ہوں گے، جبکہ سعودی/اماراتی کارگو کے لیے ینبع روٹ کو فعال کرنا ہوگا۔ اگر ذخائر 10 دن سے کم ہو جائیں تو فیول راشننگ، طاق-جفت گاڑیوں کی پابندی اور 50 سے 60 فیصد ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کی جا سکتی ہے۔ بھارت کی طرح عارضی اسپاٹ خریداری (مثلاً روس سے) 1 سے 1.5 ارب ڈالر کی بچت اور سی پی آئی کے اثر کو 8 سے 10 فیصد تک محدود کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درمیانی مدت میں ساختی اقدامات ضروری ہیں۔ اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کو 60 دن (تقریباً 2 کروڑ بیرل) تک بڑھایا جا سکتا ہے، جس کے لیے سعودی پلانٹ پر 2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ ایس جی ایکس/دبئی ایکسچینجز کے ذریعے 20 فیصد درآمدات کو 90 ڈالر فی بیرل پر ہیج کرنے سے پی ایس او سالانہ 800 ملین ڈالر بچا سکتا ہے اور مہنگائی کے اثر کو آدھا کر سکتا ہے۔ ہنگامی حالات میں ضروری اشیاء کی عارضی برآمدی پابندیاں بھی مقامی دستیابی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قلیل مدتی پالیسیاں فوری سپلائی جھٹکے سے بچاؤ فراہم کرتی ہیں، جبکہ درمیانی مدتی پالیسیاں معیشت کو مضبوط بناتی ہیں، تیل پر انحصار کی غیر یقینی صورتحال کم کرتی ہیں اور مہنگائی کے اثرات کو محدود کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کی مدد سے معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کسی بھی اچانک تیل کے جھٹکے سے یہ بحالی متاثر ہو سکتی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ سکتا ہے، مہنگائی تیز ہو سکتی ہے اور مالیاتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے پالیسی سازوں کے پاس سبسڈی دینے کے وسائل محدود ہو جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ توانائی کی سلامتی کو معاشی استحکام سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ عالمی تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے خلاف مضبوطی اب طویل مدتی ہدف نہیں بلکہ فوری پالیسی ترجیح بن چکی ہے۔ بروقت اور مربوط اقدامات کے ذریعے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے، معیشت کو مستحکم رکھا جا سکتا ہے اور کمزوری کو توانائی کی سلامتی مضبوط بنانے کے موقع میں بدلا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی منڈیاں ایک بار پھر ہل کر رہ گئی ہیں۔</strong></p>
<p>امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے آبنائے ہرمز کی سلامتی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، یہ ایک تنگ مگر نہایت اہم سمندری گزرگاہ ہے جس کے ذریعے دنیا کی تقریباً 20 فیصد سمندری تیل تجارت گزرتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے، جو بڑی حد تک درآمدی توانائی پر انحصار کرتا ہے، کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>برینٹ کروڈ کی قیمت پہلے ہی تقریباً 92 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جو بنیادی مارکیٹ عوامل کے بجائے جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا ”وار پریمیم“ ظاہر کرتی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے ٹینکروں کی نقل و حرکت میں تین ماہ تک خلل رہا اور کشیدگی میں اضافہ ہوا تو قیمتیں 120 سے 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔ پاکستان اپنی تیل کی ضروریات کا زیادہ تر حصہ درآمد کرتا ہے، جس کا 80 سے 85 فیصد خلیجی خطے (خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت) سے آتا ہے اور تقریباً تمام درآمدات آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں، جس سے ملک کی جغرافیائی انحصاریت اسے انتہائی کمزور بنا دیتی ہے۔</p>
<p>پاکستان کی کل درآمدات کا تقریباً 30 فیصد حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر مشتمل ہے۔ تخمینوں کے مطابق عالمی تیل کی قیمت میں فی بیرل 10 ڈالر اضافے سے پاکستان کے سالانہ درآمدی بل میں 1.8 سے 2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے۔ اگر ہرمز تین ماہ کے لیے بند ہو جائے تو پاکستان کا ماہانہ درآمدی بل تین گنا ہو کر 3.5 سے 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے اور مہنگائی تقریباً 7 فیصد سے بڑھ کر 15 سے 17 فیصد تک جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ شپنگ انشورنس اور فریٹ کے اخراجات میں اضافے سے تجارتی خسارہ سالانہ مزید 120 سے 160 ملین ڈالر بڑھ سکتا ہے، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا۔ ( پی آئی ڈی ای پالیسی ویو پوائنٹ: ”تیل کی عالمی قیمت میں اتار چڑھاؤ، مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست، اور پاکستان کی افراط زر کی حرکیات“ مارچ 2026)</p>
<p>تاریخی واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ تیل کے جھٹکے مقامی معیشت تک کتنی تیزی سے منتقل ہوتے ہیں۔ 2008، 2011 اور 2022 میں  سی پی آئی میں 14 سے 25 فیصد تک اضافہ ہوا، جو بنیادی طور پر ٹرانسپورٹ، توانائی اور خوراک کی قیمتوں کے ذریعے منتقل ہوا۔ ملک میں ایندھن کی قیمتیں پہلے ہی 55 روپے فی لیٹر بڑھ چکی ہیں، جس سے مہنگائی کا دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ اگر برینٹ کروڈ 100 سے 110 ڈالر یا اس سے زیادہ تک پہنچتا ہے تو سی پی آئی 15 سے 18 فیصد تک جا سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں توانائی کے بفرز محدود ہیں۔ اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر صرف 10 سے 14 دن کی کھپت کے برابر ہیں، جس سے جھٹکوں کو برداشت کرنے کی گنجائش نہایت کم رہ جاتی ہے۔ اس کے برعکس بھارت کے پاس 65 سے 70 دن کے ذخائر اور مضبوط زرمبادلہ بفرز ہیں جبکہ بنگلہ دیش کو نسبتاً مستحکم آمدنی کا فائدہ حاصل ہے۔ سری لنکا کی حالیہ بحران اس بات کی مثال ہے کہ کمزور بیرونی بفرز اور زیادہ تیل انحصار کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔</p>
<p>پاکستان متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ بات چیت کے تحت ینبع کی بندرگاہ کے ذریعے تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز پر انحصار کم کر سکتی ہے، تاہم طویل راستوں سے فریٹ اور انشورنس اخراجات 150 سے 200 فیصد تک بڑھ سکتے ہیں، ترسیل میں تاخیر ہو سکتی ہے اور لاجسٹک مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔</p>
<p>قلیل مدت میں پاکستان کو معیشت کو ممکنہ توانائی جھٹکے سے بچانے کے لیے متعدد اقدامات کرنا ہوں گے۔ پی ایس او کو ٹینکروں کی آمد کی نگرانی کرنی ہوگی اور 14 دن سے زائد کے ذخائر برقرار رکھنے ہوں گے، جبکہ سعودی/اماراتی کارگو کے لیے ینبع روٹ کو فعال کرنا ہوگا۔ اگر ذخائر 10 دن سے کم ہو جائیں تو فیول راشننگ، طاق-جفت گاڑیوں کی پابندی اور 50 سے 60 فیصد ورک فرام ہوم پالیسی نافذ کی جا سکتی ہے۔ بھارت کی طرح عارضی اسپاٹ خریداری (مثلاً روس سے) 1 سے 1.5 ارب ڈالر کی بچت اور سی پی آئی کے اثر کو 8 سے 10 فیصد تک محدود کر سکتی ہے۔</p>
<p>درمیانی مدت میں ساختی اقدامات ضروری ہیں۔ اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کو 60 دن (تقریباً 2 کروڑ بیرل) تک بڑھایا جا سکتا ہے، جس کے لیے سعودی پلانٹ پر 2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔ ایس جی ایکس/دبئی ایکسچینجز کے ذریعے 20 فیصد درآمدات کو 90 ڈالر فی بیرل پر ہیج کرنے سے پی ایس او سالانہ 800 ملین ڈالر بچا سکتا ہے اور مہنگائی کے اثر کو آدھا کر سکتا ہے۔ ہنگامی حالات میں ضروری اشیاء کی عارضی برآمدی پابندیاں بھی مقامی دستیابی برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔</p>
<p>قلیل مدتی پالیسیاں فوری سپلائی جھٹکے سے بچاؤ فراہم کرتی ہیں، جبکہ درمیانی مدتی پالیسیاں معیشت کو مضبوط بناتی ہیں، تیل پر انحصار کی غیر یقینی صورتحال کم کرتی ہیں اور مہنگائی کے اثرات کو محدود کرتی ہیں۔</p>
<p>پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کی مدد سے معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔ کسی بھی اچانک تیل کے جھٹکے سے یہ بحالی متاثر ہو سکتی ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ سکتا ہے، مہنگائی تیز ہو سکتی ہے اور مالیاتی دباؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے پالیسی سازوں کے پاس سبسڈی دینے کے وسائل محدود ہو جائیں گے۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ توانائی کی سلامتی کو معاشی استحکام سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ عالمی تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے خلاف مضبوطی اب طویل مدتی ہدف نہیں بلکہ فوری پالیسی ترجیح بن چکی ہے۔ بروقت اور مربوط اقدامات کے ذریعے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے، معیشت کو مستحکم رکھا جا سکتا ہے اور کمزوری کو توانائی کی سلامتی مضبوط بنانے کے موقع میں بدلا جا سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284040</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Mar 2026 16:38:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/181602575ae2c8d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/181602575ae2c8d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
