<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:35:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جب بیوروکریسی اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ بن جائے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284028/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی بیوروکریسی نے دہائیوں سے اصلاحات کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جو ان کے مستحکم مراعات (یا جدی پشتی مفادات) کیلئے خطرہ بنتی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت اس (بیوروکریسی) نے تبدیلی کے خلاف مزاحمت کو ایک باقاعدہ فن کی شکل دے دی ہے، جہاں وہ ادارہ جاتی تسلط اور بیوروکریٹک مراعات کو اس کارکردگی اور جوابدہی پر بڑی مہارت سے ترجیح دیتے ہیں جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرزِ عمل کی تازہ ترین مثال پاور سیکٹر (شعبہ توانائی) میں سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ نیشنل ٹاسک فورس آن انرجی اور وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی جانب سے کئی پرانے اور متروک سرکاری بجلی گھروں (جنکوز) کو ضم کرنے کے واضح فیصلے کے باوجود اس اصلاحاتی عمل کو پاور بیوروکریسی کے اندر سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاسک فورس نے چار جنیکوز  یعنی 660 میگاواٹ کے جامشورو یونٹ، 747 میگاواٹ کے گڈو پلانٹ، 525 میگاواٹ کی نندی پور اور لکھڑا پاور کو ان کی پیرنٹ کمپنی جینکو ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (جی ایچ سی ایل) سمیت نسبتاً متحرک اور جدید ’نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی‘ میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے پیچھے منطق بالکل سادہ اور واضح تھی۔ ان جینکوز کے تیل سے چلنے والے پرانے بجلی گھر پہلے ہی یا تو بند کیے جا چکے تھے یا پھر انہیں نیلام کردیا گیا تھا جس کے بعد یہ کمپنیاں اب محض کھوکھلے انتظامی ڈھانچے کے سوا کچھ نہیں رہ گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت ان (بجلی گھروں) کے بند ہونے کے بعد، وہاں کام کرنے والے سینکڑوں ملازمین کو پہلے ہی 31 مارچ تک کے لیے عارضی طور پر تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں منتقل کیا جا چکا تھا۔ چونکہ ان جینکوز  کا فعال کردار عملی طور پر ختم ہو چکا ہے، اس لیے ان کا بطور آزاد ادارے برقرار رہنا بیوروکریٹک ڈھانچے  کے تحفظ کے علاوہ کسی عملی مقصد کو پورا نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور یہ بات تیزی سے واضح ہوتی جارہی ہے کہ یہی وہ اصل وجہ ہے جس کی بنا پر ٹاسک فورس کی ہدایت پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان جینکوز کو ضم کرنے اور ان کی بندش کا عمل شروع کرنے کیلئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایات کے باوجود پاور ڈویژن اور جینکو ہولڈنگ کمپنی  نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس کے بجائے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پورا نظام ان کارپوریٹ ڈھانچوں کو بچانے کے لیے متحد ہورہا ہے جو بیوروکریٹک مراعات کو برقرار رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جینکوز اور جی ایچ سی ایل  کے بورڈز پر موجود عہدے دار ان مراعات اور فوائد کے تحفظ پر بضد نظر آتے ہیں جو ان عہدوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، بشمول سرکاری گاڑیاں، ایندھن (فیول) کے کوٹے، معاون عملہ اور دیگر الاؤنسز حالانکہ ان کمپنیوں کو برقرار رکھنے کی آپریشنل اور منطقی وجہ بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اداروں کو چلانے والے بیوروکریٹس کی جانب سے پیش کیے جانے والے متبادل تجاویز کی نوعیت اس سے بھی زیادہ حقیقت کو بے نقاب کرنے والی ہے۔ مبینہ طور پر وہ یہ تجویز دے رہے ہیں کہ ان جینکوز کو محض جی ایچ سی ایل کے ماتحت ہی یکجا کر دیا جائے جس سے موجودہ کارپوریٹ ڈھانچے بھی برقرار رہیں گے اور ساتھ ہی ان کمپنیوں اور جی ایچ سی ایل کے ہیڈ کوارٹرز میں مزید 55 سے 60 افراد کے اضافی عملے کی ضرورت بھی پیدا ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی تجاویز مضحکہ خیزی کی حدوں کو چھو رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں پہلے ہی اپنا بامعنی کام ختم کرچکی ہیں۔ برسوں کی کم کارکردگی، بلند انتظامی اخراجات اور مسلسل خراب کارکردگی کے بعد ان کے بوسیدہ بجلی گھر یا تو بند کردیے گئے یا پھر ان کی نیلامی کا عمل جاری ہے۔ جب وہ تنصیبات ہی فنکشنل نہیں رہیں جن کا یہ انتظام سنبھالتے تھے، تو ان کے غیر ضروری کارپوریٹ ڈھانچوں کو برقرار رکھنے کی منطق بالکل ناقابلِ دفاع ہے، یہ ایک سادہ سی بات ہونی چاہیے کہ ایسے ادارے اب خود مختار تنظیموں کے طور پر کام جاری نہیں رکھ سکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم موجودہ صورتحال کو طول دینے کے محرکات انتہائی طاقتور ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جی ایچ سی ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور بورڈ اب بھی پوری تندہی سے کام کر رہے ہیں اور ہفتے میں کئی کئی اجلاس منعقد کیے جارہے ہیں۔ بورڈ کا ہر اجلاس اپنے ساتھ فی رکن کم از کم ایک لاکھ روپے معاوضہ لاتا ہے جس کے علاوہ سفری اخراجات اور رہائش کے واجبات الگ ہوتے ہیں۔ مراعات کا یہ مسلسل بہاؤ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ان بے مقصد اداروں کو کسی نہ کسی طرح زندہ رکھا جائے۔ ایسی صورتحال میں ان کمپنیوں کو ضم کرنے کے عمل میں تاخیر اور ہچکچاہٹ کو سمجھنا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طرح کا طرزِ عمل اس حقیقت کا ایک بڑا سبب ہے کہ آج شعبہ توانائی اپنی موجودہ (بدتر) حالت میں ہے: یعنی انتہائی غیر فعال، ناکارہ اور مالیاتی بحران کا شکار، جو ہر سال خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی بھی مکمل عکاسی کرتی ہے کہ کیوں نہ صرف توانائی شعبے میں، بلکہ مجموعی معیشت میں اصلاحات لانا ایک کٹھن کام  ثابت ہوا ہے۔ جب تک اس طرح کی جڑی ہوئی مزاحمت کا براہِ راست مقابلہ نہیں کیا جاتا، تب تک انتہائی سمجھدارانہ اصلاحات بھی ناکامی کا شکار ہوتی رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی بیوروکریسی نے دہائیوں سے اصلاحات کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جو ان کے مستحکم مراعات (یا جدی پشتی مفادات) کیلئے خطرہ بنتی ہیں۔</strong></p>
<p>درحقیقت اس (بیوروکریسی) نے تبدیلی کے خلاف مزاحمت کو ایک باقاعدہ فن کی شکل دے دی ہے، جہاں وہ ادارہ جاتی تسلط اور بیوروکریٹک مراعات کو اس کارکردگی اور جوابدہی پر بڑی مہارت سے ترجیح دیتے ہیں جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے۔</p>
<p>اس طرزِ عمل کی تازہ ترین مثال پاور سیکٹر (شعبہ توانائی) میں سامنے آئی ہے۔</p>
<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ نیشنل ٹاسک فورس آن انرجی اور وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی جانب سے کئی پرانے اور متروک سرکاری بجلی گھروں (جنکوز) کو ضم کرنے کے واضح فیصلے کے باوجود اس اصلاحاتی عمل کو پاور بیوروکریسی کے اندر سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔</p>
<p>ٹاسک فورس نے چار جنیکوز  یعنی 660 میگاواٹ کے جامشورو یونٹ، 747 میگاواٹ کے گڈو پلانٹ، 525 میگاواٹ کی نندی پور اور لکھڑا پاور کو ان کی پیرنٹ کمپنی جینکو ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ (جی ایچ سی ایل) سمیت نسبتاً متحرک اور جدید ’نیشنل پاور پارکس مینجمنٹ کمپنی‘ میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>اس فیصلے کے پیچھے منطق بالکل سادہ اور واضح تھی۔ ان جینکوز کے تیل سے چلنے والے پرانے بجلی گھر پہلے ہی یا تو بند کیے جا چکے تھے یا پھر انہیں نیلام کردیا گیا تھا جس کے بعد یہ کمپنیاں اب محض کھوکھلے انتظامی ڈھانچے کے سوا کچھ نہیں رہ گئی تھیں۔</p>
<p>درحقیقت ان (بجلی گھروں) کے بند ہونے کے بعد، وہاں کام کرنے والے سینکڑوں ملازمین کو پہلے ہی 31 مارچ تک کے لیے عارضی طور پر تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں منتقل کیا جا چکا تھا۔ چونکہ ان جینکوز  کا فعال کردار عملی طور پر ختم ہو چکا ہے، اس لیے ان کا بطور آزاد ادارے برقرار رہنا بیوروکریٹک ڈھانچے  کے تحفظ کے علاوہ کسی عملی مقصد کو پورا نہیں کرتا۔</p>
<p>اور یہ بات تیزی سے واضح ہوتی جارہی ہے کہ یہی وہ اصل وجہ ہے جس کی بنا پر ٹاسک فورس کی ہدایت پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو سکا۔</p>
<p>ان جینکوز کو ضم کرنے اور ان کی بندش کا عمل شروع کرنے کیلئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ہدایات کے باوجود پاور ڈویژن اور جینکو ہولڈنگ کمپنی  نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس کے بجائے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پورا نظام ان کارپوریٹ ڈھانچوں کو بچانے کے لیے متحد ہورہا ہے جو بیوروکریٹک مراعات کو برقرار رکھتے ہیں۔</p>
<p>جینکوز اور جی ایچ سی ایل  کے بورڈز پر موجود عہدے دار ان مراعات اور فوائد کے تحفظ پر بضد نظر آتے ہیں جو ان عہدوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، بشمول سرکاری گاڑیاں، ایندھن (فیول) کے کوٹے، معاون عملہ اور دیگر الاؤنسز حالانکہ ان کمپنیوں کو برقرار رکھنے کی آپریشنل اور منطقی وجہ بڑی حد تک ختم ہو چکی ہے۔</p>
<p>ان اداروں کو چلانے والے بیوروکریٹس کی جانب سے پیش کیے جانے والے متبادل تجاویز کی نوعیت اس سے بھی زیادہ حقیقت کو بے نقاب کرنے والی ہے۔ مبینہ طور پر وہ یہ تجویز دے رہے ہیں کہ ان جینکوز کو محض جی ایچ سی ایل کے ماتحت ہی یکجا کر دیا جائے جس سے موجودہ کارپوریٹ ڈھانچے بھی برقرار رہیں گے اور ساتھ ہی ان کمپنیوں اور جی ایچ سی ایل کے ہیڈ کوارٹرز میں مزید 55 سے 60 افراد کے اضافی عملے کی ضرورت بھی پیدا ہو جائے گی۔</p>
<p>ایسی تجاویز مضحکہ خیزی کی حدوں کو چھو رہی ہیں۔ یہ کمپنیاں پہلے ہی اپنا بامعنی کام ختم کرچکی ہیں۔ برسوں کی کم کارکردگی، بلند انتظامی اخراجات اور مسلسل خراب کارکردگی کے بعد ان کے بوسیدہ بجلی گھر یا تو بند کردیے گئے یا پھر ان کی نیلامی کا عمل جاری ہے۔ جب وہ تنصیبات ہی فنکشنل نہیں رہیں جن کا یہ انتظام سنبھالتے تھے، تو ان کے غیر ضروری کارپوریٹ ڈھانچوں کو برقرار رکھنے کی منطق بالکل ناقابلِ دفاع ہے، یہ ایک سادہ سی بات ہونی چاہیے کہ ایسے ادارے اب خود مختار تنظیموں کے طور پر کام جاری نہیں رکھ سکتے۔</p>
<p>تاہم موجودہ صورتحال کو طول دینے کے محرکات انتہائی طاقتور ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جی ایچ سی ایل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور بورڈ اب بھی پوری تندہی سے کام کر رہے ہیں اور ہفتے میں کئی کئی اجلاس منعقد کیے جارہے ہیں۔ بورڈ کا ہر اجلاس اپنے ساتھ فی رکن کم از کم ایک لاکھ روپے معاوضہ لاتا ہے جس کے علاوہ سفری اخراجات اور رہائش کے واجبات الگ ہوتے ہیں۔ مراعات کا یہ مسلسل بہاؤ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ان بے مقصد اداروں کو کسی نہ کسی طرح زندہ رکھا جائے۔ ایسی صورتحال میں ان کمپنیوں کو ضم کرنے کے عمل میں تاخیر اور ہچکچاہٹ کو سمجھنا اب کوئی مشکل کام نہیں رہا۔</p>
<p>اس طرح کا طرزِ عمل اس حقیقت کا ایک بڑا سبب ہے کہ آج شعبہ توانائی اپنی موجودہ (بدتر) حالت میں ہے: یعنی انتہائی غیر فعال، ناکارہ اور مالیاتی بحران کا شکار، جو ہر سال خزانے کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی بھی مکمل عکاسی کرتی ہے کہ کیوں نہ صرف توانائی شعبے میں، بلکہ مجموعی معیشت میں اصلاحات لانا ایک کٹھن کام  ثابت ہوا ہے۔ جب تک اس طرح کی جڑی ہوئی مزاحمت کا براہِ راست مقابلہ نہیں کیا جاتا، تب تک انتہائی سمجھدارانہ اصلاحات بھی ناکامی کا شکار ہوتی رہیں گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284028</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Mar 2026 12:12:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/18115817feaa4e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/18115817feaa4e8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
