<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹیرف میں بھاری اضافہ: صنعتی مسابقت اور زرعی پیداوار بری طرح متاثر، آڈیٹر جنرل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284025/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے مشاہدہ کیا کہ ٹیرف میں نمایاں اضافے نے صنعتی مسابقت اور زرعی پیداواری صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں پیداواری شعبوں کی کھپت میں کمی اور انسٹالرڈ کیپیسٹی کے کم استعمال جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی تازہ رپورٹ میں آڈٹ (پاور) نے کہا  کہ پاکستان کے پاور سیکٹر کی نجکاری کے اسٹریٹجک منصوبے (1992) کے مطابق، اصلاحات کے بنیادی مقاصد میں مسابقت کے ذریعے کارکردگی میں بہتری، قیمتوں کو معقول بنانا، سرمائے کی تشکیل میں اضافہ اور یہ یقینی بنانا شامل تھا کہ بجلی کی فراہمی معاشی ترقی کی حمایت کرے بغیر اس کے کہ ناقابلِ برداشت مالی بوجھ پیدا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اسٹریٹجک منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قیمتوں کی پالیسیوں کو خدمات کی حقیقی لاگت کی عکاسی کرنی چاہیے، سرمایہ کاری کے فیصلے معاشی طور پر مؤثر ہونے چاہئیں اور شعبے میں ایسے ساختی عدم توازن سے گریز کیا جائے جو طویل مدتی پائیداری کو نقصان پہنچائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح پاور جنریشن پالیسی 2015 کا مقصد لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ، توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانا، نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور بجلی کی لاگت میں کمی کے ذریعے صنعتی مسابقت اور معاشی ترقی کو بہتر بنانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واپڈا کی تقسیم (ان بنڈلنگ) کے اثرات کے آڈٹ کے دوران مشاہدہ کیا گیا کہ 2015 کے بعد بجلی کی پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا، جو بنیادی طور پر کوئلے اور ایل این جی  سے چلنے والے نجی بجلی گھروں کے ذریعے کیا گیا تھا۔ تاہم پیداواری صلاحیت میں یہ اضافہ پیداواری شعبوں (صنعت و زراعت) کی جانب سے بجلی کی طلب میں ہونے والے اضافے سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت  مالی سال 16-2015 میں 22,717 میگاواٹ سے بڑھ کر مالی سال 23-2022 میں 41,213 میگاواٹ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی جو کہ تقریباً 81 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم حکومتی مداخلت کے نتیجے میں مالی سال 25-2024 میں یہ معمولی کمی کے ساتھ 38,431 میگاواٹ رہ گئی جس کی وجہ سے 352 ارب روپے کی بچت حاصل ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس اس دورانیے میں بجلی کے ٹیرف میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ مالی سال 16-2015 اور مالی سال 24-2023 کے درمیان کمرشل ٹیرف میں تقریباً 242 فیصد، صنعتی ٹیرف میں 289 فیصد اور زرعی ٹیرف میں 216 فیصد اضافہ ہوا۔ اگرچہ مالی سال 25-2024 میں ٹیرف میں جزوی کمی دیکھی گئی جس میں کمرشل ٹیرف 69.03 روپے فی کلو واٹ آور سے کم ہو کر 47.10 روپے اور صنعتی ٹیرف 53.44 روپے سے کم ہو کر 44.46 روپے رہ گیا، تاہم ٹیرف کی سطح توسیعی دور سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر بلند رہی اور بجلی کی طلب پر دباؤ کا باعث بنی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے باوجود، پیداواری شعبوں کو بجلی کی فروخت میں مسلسل کمی یا جمود کا رجحان دیکھا گیا۔ صنعتی شعبے کو بجلی کی فروخت مالی سال 22-2021 میں 28,115 گیگا واٹ آور  سے کم ہو کر مالی سال 24-2023 میں 22,512 گیگا واٹ آور رہ گئی۔ اگرچہ مالی سال 25-2024 میں یہ معمولی بہتری کے ساتھ 23,963 گیگا واٹ آور تک پہنچی، لیکن یہ اب بھی مالی سال 22-2021 کی سطح سے کافی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی شعبے میں بجلی کی فروخت میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا گیا جو مالی سال 22-2021 میں 10,922 گیگا واٹ آور سے کم ہو کر مالی سال 24-2023 میں 8,559 گیگا واٹ آور اور مالی سال 25-2024 میں مزید کم ہو کر 5,840 گیگا واٹ آور رہ گئی۔ یہ اعدادوشمار زرعی شعبے کی جانب سے بجلی کے استعمال میں مسلسل سکڑاؤ (کمی) کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دوسری جانب، کمرشل فروخت میں اگرچہ مالی سال 24-2023 کے 7,253 گیگا واٹ آور کے مقابلے میں مالی سال 25-2024 میں 7,610 گیگا واٹ آور تک معمولی اضافہ ہوا لیکن ٹیرف میں ہونے والے بے پناہ اضافے اور نصب شدہ پیداواری صلاحیت میں بڑھوتری کے تناسب سے یہ فروخت بڑی حد تک جمود کا شکار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 25-2024 کے اعدادوشمار نے آڈٹ کے اس مشاہدے کی توثیق کردی ہے کہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں ہونے والا اضافہ، بجلی کی کھپت میں متناسب اضافے کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا، بالخصوص زیادہ ریونیو دینے والے صنعتی اور زرعی شعبوں میں مالی سال 25-2024 کے دوران صنعتی فروخت میں ہونے والی معمولی بہتری، مالی سال 22-2021 سے جاری مسلسل گراوٹ کے اثرات کو ختم کرنے کیلئے ناکافی معلوم ہوتی ہے جبکہ زرعی کھپت میں آنے والی شدید کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بجلی کے مہنگے ٹیرف (عدم دستیابیِ سکت) کے مسائل اب بھی بجلی کی وافر فراہمی پر حاوی ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے 500 ملین (50 کروڑ) روپے کی سبسڈی کے بعد بہت سے زرعی صارفین اب سولر سلوشنز (شمسی توانائی) پر منتقل ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نتیجہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ 2015 کے بعد بجلی کی پیداوار کی منصوبہ بندی میں طلب کی لچک ، ادائیگی کی سکت اور مختلف شعبوں کے صرفی رویوں کو مناسب طریقے سے شامل نہیں کیا گیا تھا۔ یہ عمل اسٹریٹجک پلان میں بیان کردہ ان اصولوں کے برعکس ہے جو معاشی طور پر موزوں سرمایہ کاری اور لاگت کے مطابق مگر سستی قیمتوں پر زور دیتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، ٹیرف میں ہونے والے بھاری اضافے نے صنعتی مسابقت اور زرعی پیداواری صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے پیداواری شعبوں کی کھپت میں کمی آئی ہے اور نصب شدہ صلاحیت  کا استعمال ضرورت سے کم رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آڈٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ 2015 کے بعد کی پیداواری صلاحیت میں توسیع کا اسٹریٹجک پلان میں وضع کردہ طلب کے تخمینوں، ادائیگی کی سکت اور کارکردگی کے اصولوں کی روشنی میں ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ رپورٹ میں مزید یہ تجویز دی گئی ہے کہ بجلی پیدا کرنے والے ذرائع کے تناسب کو مقامی اور کم لاگت کے وسائل کی طرف منتقل کیا جائے تاکہ درآمدی ایندھن کے خطرات اور ان پر انحصار کو کم کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے مشاہدہ کیا کہ ٹیرف میں نمایاں اضافے نے صنعتی مسابقت اور زرعی پیداواری صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں پیداواری شعبوں کی کھپت میں کمی اور انسٹالرڈ کیپیسٹی کے کم استعمال جیسے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔</strong></p>
<p>اپنی تازہ رپورٹ میں آڈٹ (پاور) نے کہا  کہ پاکستان کے پاور سیکٹر کی نجکاری کے اسٹریٹجک منصوبے (1992) کے مطابق، اصلاحات کے بنیادی مقاصد میں مسابقت کے ذریعے کارکردگی میں بہتری، قیمتوں کو معقول بنانا، سرمائے کی تشکیل میں اضافہ اور یہ یقینی بنانا شامل تھا کہ بجلی کی فراہمی معاشی ترقی کی حمایت کرے بغیر اس کے کہ ناقابلِ برداشت مالی بوجھ پیدا ہو۔</p>
<p>اس اسٹریٹجک منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قیمتوں کی پالیسیوں کو خدمات کی حقیقی لاگت کی عکاسی کرنی چاہیے، سرمایہ کاری کے فیصلے معاشی طور پر مؤثر ہونے چاہئیں اور شعبے میں ایسے ساختی عدم توازن سے گریز کیا جائے جو طویل مدتی پائیداری کو نقصان پہنچائیں۔</p>
<p>اسی طرح پاور جنریشن پالیسی 2015 کا مقصد لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ، توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانا، نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور بجلی کی لاگت میں کمی کے ذریعے صنعتی مسابقت اور معاشی ترقی کو بہتر بنانا تھا۔</p>
<p>واپڈا کی تقسیم (ان بنڈلنگ) کے اثرات کے آڈٹ کے دوران مشاہدہ کیا گیا کہ 2015 کے بعد بجلی کی پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا، جو بنیادی طور پر کوئلے اور ایل این جی  سے چلنے والے نجی بجلی گھروں کے ذریعے کیا گیا تھا۔ تاہم پیداواری صلاحیت میں یہ اضافہ پیداواری شعبوں (صنعت و زراعت) کی جانب سے بجلی کی طلب میں ہونے والے اضافے سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔</p>
<p>بجلی کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت  مالی سال 16-2015 میں 22,717 میگاواٹ سے بڑھ کر مالی سال 23-2022 میں 41,213 میگاواٹ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی جو کہ تقریباً 81 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم حکومتی مداخلت کے نتیجے میں مالی سال 25-2024 میں یہ معمولی کمی کے ساتھ 38,431 میگاواٹ رہ گئی جس کی وجہ سے 352 ارب روپے کی بچت حاصل ہوئی۔</p>
<p>اس کے برعکس اس دورانیے میں بجلی کے ٹیرف میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ مالی سال 16-2015 اور مالی سال 24-2023 کے درمیان کمرشل ٹیرف میں تقریباً 242 فیصد، صنعتی ٹیرف میں 289 فیصد اور زرعی ٹیرف میں 216 فیصد اضافہ ہوا۔ اگرچہ مالی سال 25-2024 میں ٹیرف میں جزوی کمی دیکھی گئی جس میں کمرشل ٹیرف 69.03 روپے فی کلو واٹ آور سے کم ہو کر 47.10 روپے اور صنعتی ٹیرف 53.44 روپے سے کم ہو کر 44.46 روپے رہ گیا، تاہم ٹیرف کی سطح توسیعی دور سے پہلے کی سطح سے نمایاں طور پر بلند رہی اور بجلی کی طلب پر دباؤ کا باعث بنی رہی۔</p>
<p>بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافے کے باوجود، پیداواری شعبوں کو بجلی کی فروخت میں مسلسل کمی یا جمود کا رجحان دیکھا گیا۔ صنعتی شعبے کو بجلی کی فروخت مالی سال 22-2021 میں 28,115 گیگا واٹ آور  سے کم ہو کر مالی سال 24-2023 میں 22,512 گیگا واٹ آور رہ گئی۔ اگرچہ مالی سال 25-2024 میں یہ معمولی بہتری کے ساتھ 23,963 گیگا واٹ آور تک پہنچی، لیکن یہ اب بھی مالی سال 22-2021 کی سطح سے کافی کم ہے۔</p>
<p>زرعی شعبے میں بجلی کی فروخت میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا گیا جو مالی سال 22-2021 میں 10,922 گیگا واٹ آور سے کم ہو کر مالی سال 24-2023 میں 8,559 گیگا واٹ آور اور مالی سال 25-2024 میں مزید کم ہو کر 5,840 گیگا واٹ آور رہ گئی۔ یہ اعدادوشمار زرعی شعبے کی جانب سے بجلی کے استعمال میں مسلسل سکڑاؤ (کمی) کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دوسری جانب، کمرشل فروخت میں اگرچہ مالی سال 24-2023 کے 7,253 گیگا واٹ آور کے مقابلے میں مالی سال 25-2024 میں 7,610 گیگا واٹ آور تک معمولی اضافہ ہوا لیکن ٹیرف میں ہونے والے بے پناہ اضافے اور نصب شدہ پیداواری صلاحیت میں بڑھوتری کے تناسب سے یہ فروخت بڑی حد تک جمود کا شکار رہی۔</p>
<p>مالی سال 25-2024 کے اعدادوشمار نے آڈٹ کے اس مشاہدے کی توثیق کردی ہے کہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں ہونے والا اضافہ، بجلی کی کھپت میں متناسب اضافے کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا، بالخصوص زیادہ ریونیو دینے والے صنعتی اور زرعی شعبوں میں مالی سال 25-2024 کے دوران صنعتی فروخت میں ہونے والی معمولی بہتری، مالی سال 22-2021 سے جاری مسلسل گراوٹ کے اثرات کو ختم کرنے کیلئے ناکافی معلوم ہوتی ہے جبکہ زرعی کھپت میں آنے والی شدید کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بجلی کے مہنگے ٹیرف (عدم دستیابیِ سکت) کے مسائل اب بھی بجلی کی وافر فراہمی پر حاوی ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے 500 ملین (50 کروڑ) روپے کی سبسڈی کے بعد بہت سے زرعی صارفین اب سولر سلوشنز (شمسی توانائی) پر منتقل ہوچکے ہیں۔</p>
<p>یہ نتیجہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ 2015 کے بعد بجلی کی پیداوار کی منصوبہ بندی میں طلب کی لچک ، ادائیگی کی سکت اور مختلف شعبوں کے صرفی رویوں کو مناسب طریقے سے شامل نہیں کیا گیا تھا۔ یہ عمل اسٹریٹجک پلان میں بیان کردہ ان اصولوں کے برعکس ہے جو معاشی طور پر موزوں سرمایہ کاری اور لاگت کے مطابق مگر سستی قیمتوں پر زور دیتے ہیں۔ نتیجے کے طور پر، ٹیرف میں ہونے والے بھاری اضافے نے صنعتی مسابقت اور زرعی پیداواری صلاحیت کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے پیداواری شعبوں کی کھپت میں کمی آئی ہے اور نصب شدہ صلاحیت  کا استعمال ضرورت سے کم رہ گیا ہے۔</p>
<p>آڈٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ 2015 کے بعد کی پیداواری صلاحیت میں توسیع کا اسٹریٹجک پلان میں وضع کردہ طلب کے تخمینوں، ادائیگی کی سکت اور کارکردگی کے اصولوں کی روشنی میں ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ رپورٹ میں مزید یہ تجویز دی گئی ہے کہ بجلی پیدا کرنے والے ذرائع کے تناسب کو مقامی اور کم لاگت کے وسائل کی طرف منتقل کیا جائے تاکہ درآمدی ایندھن کے خطرات اور ان پر انحصار کو کم کیا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284025</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Mar 2026 11:42:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/1811415057270e6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/1811415057270e6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
