<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:38:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:38:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کی قیمتوں میں کمی پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 3 فیصد اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284023/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کی لہر میں مزید تیزی دیکھی گئی کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی نے سرمایہ کاروں کو بڑا ریلیف فراہم کیا۔ بدھ کو ٹریڈنگ کے اختتام پر 100 انڈیکس تقریباً 4,300 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا ، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 154,684 پوائنٹس پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 4,276.09 پوائنٹس یا 2.85 فیصد اضافے سے 154,292.25 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری کردہ اپنے تبصرے میں کہا کہ اس تیزی کی قیادت بنیادی طور پر انڈیکس کی بڑی کمپنیوں یو بی ایل، اوجی ڈی سی، ایف ایف سی، پی پی ایل اور ایم ای بی ایل نے کی جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس میں 1,816 پوائنٹس کا اضافہ کیا اور مارکیٹ کو بھرپور سہارا فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں نے خریداری کے اس رجحان کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور علاقائی مارکیٹوں میں تیزی سے منسوب کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بہتری کیپیٹل کا کہنا ہے کہ مارکیٹ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک خفیہ تحریری بیک چینل کی افواہوں پر خریداری کررہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے مزید کہا کہ سرکاری تردید کے باوجود، جنگ بندی کی امید نے برینٹ کروڈ کی قیمت کو 102 ڈالر فی بیرل تک محدود کردیا ہے جس نے مارکیٹ میں ریلیف کی اس بڑی لہر کو جنم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسماعیل اقبال سیکیورٹیز لمیٹڈ کے شعبہ تحقیق کے سربراہ سعد حنیف نے بھی حصص کی خریداری کے اس رحجان کی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کو قرار دیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں ویلیو بائنگ کا آغاز ہوچکا ہے جسے تیل کی نسبتاً مستحکم قیمتوں اور عالمی منڈیوں میں مثبت رجحان سے تقویت ملی ہے، جو ایک ٹرکل ایفیکٹ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ امریکی صدر کے حالیہ بیانات، جن میں جنگ کے جلد ختم ہونے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا اشارہ دیا گیا ہے نے مارکیٹ کے مجموعی جذبات کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو ملا جلا مگر مستحکم تجارتی سیشن دیکھنے میں آیا تھا، جہاں بہتر سرمایہ کار اعتماد کی بدولت بینچ مارک انڈیکس نے 150,000 کی نفسیاتی حد دوبارہ حاصل کرلی تاہم مسلسل جغرافیائی سیاسی خدشات اور حالیہ مارکیٹ اتار چڑھاؤ کے باعث مجموعی سرگرمی محتاط رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو100 انڈیکس 837.50 پوائنٹس یا 0.56 فیصد اضافے سے 150,016.16 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی حصص میں تیزی دیکھی گئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ رک گیا۔ اس دوران مارکیٹوں کی توجہ فیڈرل ریزرو کے اجلاس پر مرکوز رہی تاکہ دیکھا جاسکے کہ پالیسی ساز مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی کے تناظر میں معاشی ترقی اور مہنگائی کے خطرات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے ایران کے سیکیورٹی چیف کو شہید کر کے اپنی جارحیت میں شدت پیدا کی، جبکہ ایران نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں توانائی کے تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع کر دیے۔ ایک سینئر ایرانی اہلکار کے مطابق نئے سپریم لیڈر نے ثالثوں کے ذریعے پیش کی گئی کشیدگی کم کرنے کی پیشکشیں مسترد کر دیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ جنگ کا فوری خاتمہ متوقع نہیں، جس نے عالمی تیل کی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو تیل کی قیمتوں نے ابتدائی اضافے کے بعد وقتی سکون لیا، اگرچہ آبنائے ہرمز زیادہ تر بند رہی۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 1 فیصد کمی کے ساتھ 102.28 ڈالر فی بیرل پر آگیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ دن کے دوران 1.6 فیصد نیچے گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں دن کے دوران تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھی اور 1321 جی ایم ٹی تک برینٹ کروڈ 107.95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال ایکویٹی سرمایہ کاروں کے لیے باعثِ اطمینان ثابت ہو رہی ہے، جبکہ ایم ایس سی آءی کا ایشیا پیسفک (جاپان کے علاوہ) حصص کا وسیع ترین انڈیکس 1.2 فیصد بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نکئی 225 میں 2 فیصد کا اضافہ ہوا جب کہ چینی بلیو چِپ حصص میں 0.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.3 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران پاکستانی روپے نے بدھ کو انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.26 کی سطح پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کی معمولی اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو آل شیئرز انڈیکس پر حصص کی تجارت کا حجم گزشتہ سیشن کے 260.43 ملین سے بڑھ کر 397.47 ملین تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 17.21 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 22.35 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو بینک آف پنجاب 54.73 ملین حصص کے ساتھ حجم کے اعتبار سے سرفہرست رہا، جس کے بعد وصل موبلٹی 31.55 ملین حصص اور کے الیکٹرک لمیٹڈ 26.43 ملین حصص کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 339 کمپنیوں کی حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 79 میں کمی اور 65 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/1814190617ccded.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/1814190617ccded.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کی لہر میں مزید تیزی دیکھی گئی کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی نے سرمایہ کاروں کو بڑا ریلیف فراہم کیا۔ بدھ کو ٹریڈنگ کے اختتام پر 100 انڈیکس تقریباً 4,300 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا ، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 154,684 پوائنٹس پر جاپہنچا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 4,276.09 پوائنٹس یا 2.85 فیصد اضافے سے 154,292.25 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری کردہ اپنے تبصرے میں کہا کہ اس تیزی کی قیادت بنیادی طور پر انڈیکس کی بڑی کمپنیوں یو بی ایل، اوجی ڈی سی، ایف ایف سی، پی پی ایل اور ایم ای بی ایل نے کی جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس میں 1,816 پوائنٹس کا اضافہ کیا اور مارکیٹ کو بھرپور سہارا فراہم کیا۔</p>
<p>تجزیہ کاروں نے خریداری کے اس رجحان کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور علاقائی مارکیٹوں میں تیزی سے منسوب کیا ہے۔</p>
<p>بہتری کیپیٹل کا کہنا ہے کہ مارکیٹ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک خفیہ تحریری بیک چینل کی افواہوں پر خریداری کررہی ہے۔</p>
<p>ادارے نے مزید کہا کہ سرکاری تردید کے باوجود، جنگ بندی کی امید نے برینٹ کروڈ کی قیمت کو 102 ڈالر فی بیرل تک محدود کردیا ہے جس نے مارکیٹ میں ریلیف کی اس بڑی لہر کو جنم دیا ہے۔</p>
<p>اسماعیل اقبال سیکیورٹیز لمیٹڈ کے شعبہ تحقیق کے سربراہ سعد حنیف نے بھی حصص کی خریداری کے اس رحجان کی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کو قرار دیا ۔</p>
<p>سعد حنیف نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں ویلیو بائنگ کا آغاز ہوچکا ہے جسے تیل کی نسبتاً مستحکم قیمتوں اور عالمی منڈیوں میں مثبت رجحان سے تقویت ملی ہے، جو ایک ٹرکل ایفیکٹ کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ امریکی صدر کے حالیہ بیانات، جن میں جنگ کے جلد ختم ہونے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا اشارہ دیا گیا ہے نے مارکیٹ کے مجموعی جذبات کو بہتر بنانے میں مدد دی ہے۔</p>
<p>اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو ملا جلا مگر مستحکم تجارتی سیشن دیکھنے میں آیا تھا، جہاں بہتر سرمایہ کار اعتماد کی بدولت بینچ مارک انڈیکس نے 150,000 کی نفسیاتی حد دوبارہ حاصل کرلی تاہم مسلسل جغرافیائی سیاسی خدشات اور حالیہ مارکیٹ اتار چڑھاؤ کے باعث مجموعی سرگرمی محتاط رہی۔</p>
<p>منگل کو100 انڈیکس 837.50 پوائنٹس یا 0.56 فیصد اضافے سے 150,016.16 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی حصص میں تیزی دیکھی گئی جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ رک گیا۔ اس دوران مارکیٹوں کی توجہ فیڈرل ریزرو کے اجلاس پر مرکوز رہی تاکہ دیکھا جاسکے کہ پالیسی ساز مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی کے تناظر میں معاشی ترقی اور مہنگائی کے خطرات کے درمیان کس طرح توازن قائم کرتے ہیں۔</p>
<p>اسرائیل نے ایران کے سیکیورٹی چیف کو شہید کر کے اپنی جارحیت میں شدت پیدا کی، جبکہ ایران نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں توانائی کے تنصیبات پر حملے دوبارہ شروع کر دیے۔ ایک سینئر ایرانی اہلکار کے مطابق نئے سپریم لیڈر نے ثالثوں کے ذریعے پیش کی گئی کشیدگی کم کرنے کی پیشکشیں مسترد کر دیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ جنگ کا فوری خاتمہ متوقع نہیں، جس نے عالمی تیل کی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔</p>
<p>بدھ کو تیل کی قیمتوں نے ابتدائی اضافے کے بعد وقتی سکون لیا، اگرچہ آبنائے ہرمز زیادہ تر بند رہی۔ برینٹ کروڈ فیوچرز 1 فیصد کمی کے ساتھ 102.28 ڈالر فی بیرل پر آگیا، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ دن کے دوران 1.6 فیصد نیچے گیا۔</p>
<p>بعد ازاں دن کے دوران تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھی اور 1321 جی ایم ٹی تک برینٹ کروڈ 107.95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔</p>
<p>یہ صورتحال ایکویٹی سرمایہ کاروں کے لیے باعثِ اطمینان ثابت ہو رہی ہے، جبکہ ایم ایس سی آءی کا ایشیا پیسفک (جاپان کے علاوہ) حصص کا وسیع ترین انڈیکس 1.2 فیصد بڑھ گیا۔</p>
<p>نکئی 225 میں 2 فیصد کا اضافہ ہوا جب کہ چینی بلیو چِپ حصص میں 0.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>اسی طرح ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.3 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>
<p>اسی دوران پاکستانی روپے نے بدھ کو انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.26 کی سطح پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسے کی معمولی اضافہ ہے۔</p>
<p>بدھ کو آل شیئرز انڈیکس پر حصص کی تجارت کا حجم گزشتہ سیشن کے 260.43 ملین سے بڑھ کر 397.47 ملین تک پہنچ گیا۔</p>
<p>اسی طرح حصص کی مالیت گزشتہ سیشن کے 17.21 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 22.35 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>بدھ کو بینک آف پنجاب 54.73 ملین حصص کے ساتھ حجم کے اعتبار سے سرفہرست رہا، جس کے بعد وصل موبلٹی 31.55 ملین حصص اور کے الیکٹرک لمیٹڈ 26.43 ملین حصص کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر 483 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 339 کمپنیوں کی حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 79 میں کمی اور 65 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/1814190617ccded.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/1814190617ccded.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284023</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Mar 2026 22:09:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/181100190b728d4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/181100190b728d4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
