<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:32:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:32:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پورٹ قاسم اتھارٹی کا اسٹیوڈورنگ کمپنیوں کیلئے اوپن بولی کے آغاز کا فیصلہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284022/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) نے اسٹیوڈورنگ کمپنیوں کے لیے اوپن بولی کے عمل کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ موجودہ اجارہ داری سے پیدا ہونے والے بلند چارجز کو کم کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ یقین دہانی پی کیو اے کے ڈائریکٹر جنرل (آپریشنز) نے ایک بین الوزارتی اور صنعتی اجلاس کے دوران دی، جس کا مقصد برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو سامان کی نقل و حمل میں درپیش مسائل پر غور کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں سی ای او آصف رائس آصف علی  نے بتایا کہ شپنگ کمپنیوں نے جنگی چارجز عائد کرنا شروع کر دیے ہیں، حتیٰ کہ وہ شپمنٹس جو پہلے ہی راستے میں ہیں، ان پر بھی یہ اضافی چارجز لاگو کیے جا رہے ہیں، جس سے تاجروں کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ شپنگ لائنز کے ساتھ بات چیت کرے تاکہ یہ مسئلہ حل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ بعض شپنگ لائنز نے نوٹیفیکیشن جاری کیے ہیں جس کے تحت وہ کسی بھی بندرگاہ پر کارگو اتار سکتے ہیں، جس سے تاجروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ایک واقعے میں کار خورفکن ٹرمینل  پر اتارا گیا جبکہ سفر قبل از وقت ختم ہو گیا، جس سے تاجروں کو ممکنہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈائریکٹر جنرل پورٹس اینڈ شپنگ نے شپنگ لائنز، کسٹمز اور شپنگ ایسوسی ایشن کے ساتھ کئی ملاقاتیں کی ہیں، لیکن شرکا نے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکا نے بل آف لیڈنگ کے مسئلے پر بھی تشویش ظاہر کی جو تیسری پارٹی کے تنازعات کی وجہ سے شپنگ کمپنیوں کی جانب سے روکا جا رہا ہے، جس سے تاخیر اور ڈیمریج اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ وزارت بحری امور نوٹیفیکیشن جاری کرے کہ ایسے دستاویزات تیسری پارٹی کے تنازعات میں نہیں روکی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف علی نے پورٹ قاسم پر جہاز کی بریٹنگ کے مسائل کی نشاندہی کی، اور کہا کہ درآمد کنندگان کو ایف اے پی ٹرمینل پر زیادہ اسٹیوڈورنگ چارجز ادا کرنے پڑ رہے ہیں—تقریباً 8 ڈالر فی ٹن جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ پر 3 ڈالر فی ٹن ہیں—اور طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ بریٹنگ پہلے آؤ، پہلے پاؤ کے اصول کے تحت کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائریکٹر جنرل (آپریشنز) نے یقین دلایا کہ ایف اے پی ٹرمینل کے معاہدے میں چاول کی برآمدات شامل ہیں اور زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ برآمدی کارگو چارجز پہلے ہی 50 فیصد کم کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پی کیو اے ٹرمینل آپریٹرز کے ساتھ رابطہ کرے گا تاکہ اسٹیوڈورنگ چارجز معقول کیے جائیں اور جہازوں کی ہینڈلنگ ممکن ہو سکے۔ نائٹ نیویگیشن پر ایک مطالعہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں جنگی چارجز، بل آف لیڈنگ کے تنازعات، اور قبل از وقت سفر کے خاتمے کے مسائل پر توجہ دینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں کسٹمز، پورٹس اینڈ شپنگ، پی کیو اے، کراچی پورٹ، نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اور پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندگان شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکا نے فیول کی بڑھتی قیمتوں، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور کنٹینرز کی روڈ بندش سے پیدا ہونے والے مسائل پر بھی بات کی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کہا کہ نیلامی کے لیے موجود کنٹینرز پر 100 فیصد ڈیمریج معافی دی گئی ہے، جبکہ کسٹمز، کے پی ٹی اور ٹرمینل آپریٹرز کی مشترکہ کمیٹی باقی مسائل کو حل کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نیوی نے بھی خطے میں بحری سکیورٹی کے لیے محافِظ البحر آپریشن شروع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سرکاری ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) نے اسٹیوڈورنگ کمپنیوں کے لیے اوپن بولی کے عمل کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ موجودہ اجارہ داری سے پیدا ہونے والے بلند چارجز کو کم کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>یہ یقین دہانی پی کیو اے کے ڈائریکٹر جنرل (آپریشنز) نے ایک بین الوزارتی اور صنعتی اجلاس کے دوران دی، جس کا مقصد برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو سامان کی نقل و حمل میں درپیش مسائل پر غور کرنا تھا۔</p>
<p>اجلاس میں سی ای او آصف رائس آصف علی  نے بتایا کہ شپنگ کمپنیوں نے جنگی چارجز عائد کرنا شروع کر دیے ہیں، حتیٰ کہ وہ شپمنٹس جو پہلے ہی راستے میں ہیں، ان پر بھی یہ اضافی چارجز لاگو کیے جا رہے ہیں، جس سے تاجروں کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے درخواست کی کہ شپنگ لائنز کے ساتھ بات چیت کرے تاکہ یہ مسئلہ حل کیا جا سکے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ بعض شپنگ لائنز نے نوٹیفیکیشن جاری کیے ہیں جس کے تحت وہ کسی بھی بندرگاہ پر کارگو اتار سکتے ہیں، جس سے تاجروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ایک واقعے میں کار خورفکن ٹرمینل  پر اتارا گیا جبکہ سفر قبل از وقت ختم ہو گیا، جس سے تاجروں کو ممکنہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔</p>
<p>اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈائریکٹر جنرل پورٹس اینڈ شپنگ نے شپنگ لائنز، کسٹمز اور شپنگ ایسوسی ایشن کے ساتھ کئی ملاقاتیں کی ہیں، لیکن شرکا نے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>شرکا نے بل آف لیڈنگ کے مسئلے پر بھی تشویش ظاہر کی جو تیسری پارٹی کے تنازعات کی وجہ سے شپنگ کمپنیوں کی جانب سے روکا جا رہا ہے، جس سے تاخیر اور ڈیمریج اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ وزارت بحری امور نوٹیفیکیشن جاری کرے کہ ایسے دستاویزات تیسری پارٹی کے تنازعات میں نہیں روکی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>آصف علی نے پورٹ قاسم پر جہاز کی بریٹنگ کے مسائل کی نشاندہی کی، اور کہا کہ درآمد کنندگان کو ایف اے پی ٹرمینل پر زیادہ اسٹیوڈورنگ چارجز ادا کرنے پڑ رہے ہیں—تقریباً 8 ڈالر فی ٹن جبکہ کراچی پورٹ ٹرسٹ پر 3 ڈالر فی ٹن ہیں—اور طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے درخواست کی کہ بریٹنگ پہلے آؤ، پہلے پاؤ کے اصول کے تحت کی جائے۔</p>
<p>ڈائریکٹر جنرل (آپریشنز) نے یقین دلایا کہ ایف اے پی ٹرمینل کے معاہدے میں چاول کی برآمدات شامل ہیں اور زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جائے گی، جبکہ برآمدی کارگو چارجز پہلے ہی 50 فیصد کم کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ پی کیو اے ٹرمینل آپریٹرز کے ساتھ رابطہ کرے گا تاکہ اسٹیوڈورنگ چارجز معقول کیے جائیں اور جہازوں کی ہینڈلنگ ممکن ہو سکے۔ نائٹ نیویگیشن پر ایک مطالعہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔</p>
<p>اجلاس میں جنگی چارجز، بل آف لیڈنگ کے تنازعات، اور قبل از وقت سفر کے خاتمے کے مسائل پر توجہ دینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں کسٹمز، پورٹس اینڈ شپنگ، پی کیو اے، کراچی پورٹ، نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اور پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندگان شامل ہیں۔</p>
<p>شرکا نے فیول کی بڑھتی قیمتوں، سپلائی چین میں رکاوٹوں اور کنٹینرز کی روڈ بندش سے پیدا ہونے والے مسائل پر بھی بات کی۔ کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کہا کہ نیلامی کے لیے موجود کنٹینرز پر 100 فیصد ڈیمریج معافی دی گئی ہے، جبکہ کسٹمز، کے پی ٹی اور ٹرمینل آپریٹرز کی مشترکہ کمیٹی باقی مسائل کو حل کرے گی۔</p>
<p>پاکستان نیوی نے بھی خطے میں بحری سکیورٹی کے لیے محافِظ البحر آپریشن شروع کر دیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284022</guid>
      <pubDate>Wed, 18 Mar 2026 11:00:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/18105652440df40.webp" type="image/webp" medium="image" height="533" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/18105652440df40.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
