<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 23:08:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 23:08:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انگلینڈ کی ٹیم سے نکالے جانے کے بعد بے یارومدگار چھوڑ دیا گیا، لیونگ اسٹون</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40284007/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آل راؤنڈر لیام لیونگ اسٹون نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال انگلش ٹیم سے نکالے جانے کے بعد انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا تھا اور موجودہ سیٹ اپ میں صرف مخصوص کھلاڑیوں کی اہمیت ہے۔ 32 سالہ لیونگ اسٹون نے گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کے بعد سے انگلینڈ کی نمائندگی نہیں کی، جہاں 3 میچوں میں وہ صرف 33 رنز بنا سکے اور 3 وکٹیں حاصل کیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیونگ اسٹون نے اس دورے کو اپنے کیریئر کا بدترین تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم سے ڈراپ کیے جانے کے بعد مینجمنٹ کے ساتھ رابطے منقطع ہو گئے۔ ان کے مطابق کوچ برینڈن میک کولم نے گزشتہ مئی میں بمشکل ایک منٹ کی ٹیلی فون کال پر انہیں ٹیم سے نکالنے کی خبر سنائی۔ جب انہوں نے وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ ٹیم کسی اور کو آزمانا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیونگ اسٹون نے مزید بتایا کہ ڈائریکٹر کرکٹ راب کی نے بھی ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور ستمبر کے آخر تک وہ خاموش رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے ٹیم کے موجودہ نظام کی حقیقت واضح کر دی ہے کہ اگر آپ ٹیم کا حصہ ہیں تو سب ٹھیک ہے، لیکن ٹیم سے باہر ہوتے ہی کوئی آپ کی پروا نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے شکوہ کیا کہ جب انہوں نے مدد مانگی تو انہیں صرف یہ مشورہ ملا کہ وہ زیادہ فکر نہ کریں اور خود کو پرسکون رکھیں۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے فی الحال اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آل راؤنڈر لیام لیونگ اسٹون نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ سال انگلش ٹیم سے نکالے جانے کے بعد انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا تھا اور موجودہ سیٹ اپ میں صرف مخصوص کھلاڑیوں کی اہمیت ہے۔ 32 سالہ لیونگ اسٹون نے گزشتہ سال پاکستان میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی کے بعد سے انگلینڈ کی نمائندگی نہیں کی، جہاں 3 میچوں میں وہ صرف 33 رنز بنا سکے اور 3 وکٹیں حاصل کیں۔</strong></p>
<p>لیونگ اسٹون نے اس دورے کو اپنے کیریئر کا بدترین تجربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم سے ڈراپ کیے جانے کے بعد مینجمنٹ کے ساتھ رابطے منقطع ہو گئے۔ ان کے مطابق کوچ برینڈن میک کولم نے گزشتہ مئی میں بمشکل ایک منٹ کی ٹیلی فون کال پر انہیں ٹیم سے نکالنے کی خبر سنائی۔ جب انہوں نے وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ ٹیم کسی اور کو آزمانا چاہتی ہے۔</p>
<p>لیونگ اسٹون نے مزید بتایا کہ ڈائریکٹر کرکٹ راب کی نے بھی ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور ستمبر کے آخر تک وہ خاموش رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے ٹیم کے موجودہ نظام کی حقیقت واضح کر دی ہے کہ اگر آپ ٹیم کا حصہ ہیں تو سب ٹھیک ہے، لیکن ٹیم سے باہر ہوتے ہی کوئی آپ کی پروا نہیں کرتا۔</p>
<p>انہوں نے شکوہ کیا کہ جب انہوں نے مدد مانگی تو انہیں صرف یہ مشورہ ملا کہ وہ زیادہ فکر نہ کریں اور خود کو پرسکون رکھیں۔ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے فی الحال اس بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40284007</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Mar 2026 19:56:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/171949443169bdf.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/171949443169bdf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
