<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283993/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے ایران میں سفیر محمد مدثر ٹیپو نے منگل کو ایران کی جانب سے تجارت میں مسلسل سہولت فراہم کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدی گزرگاہیں فعال ہیں اور دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں سے رکاوٹیں کم کرنے اور رش کم کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک پیغام میں کہا کہ وہ حکومتِ اسلامی جمہوریہ ایران کے شکر گزار ہیں جس نے مشکل حالات کے باوجود پاکستان کی ایران کے ساتھ تجارت اور ایران کے راستے ٹرانزٹ تجارت کو مکمل سہولت فراہم کی۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/AmbMudassir/status/2033769523183247690?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AmbMudassir/status/2033769523183247690?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;مدثر ٹیپو نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی سرحدی راستے مؤثر طریقے سے کام کر رہے ہیں اور مختلف سرحدی مقامات پر گرین چینلز فعال ہیں، جس سے دونوں جانب اشیا کی تیز تر نقل و حرکت ممکن ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی تہران کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے تاکہ جاری علاقائی صورتحال کے باوجود دو طرفہ تجارت متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق سرحدی رش اور دیگر مسائل کو بھی باہمی کوششوں سے حل کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی سفیر نے مزید بتایا کہ پاکستانی سفارت خانہ پاکستان اور ایران میں سرکاری و نجی شعبوں کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ تجارت میں فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں پاکستان جانے والا ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی اسرائیلی جنگ کے باوجود بعض ممالک اپنے جہازوں کے لیے محفوظ راستہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ شروع ہونے کے بعد ایران خلیج میں کئی جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے جس سے عملی طور پر آبنائے ہرمز بند ہو گئی ہے۔ اس راستے سے دنیا کے  تیل  کا تقریباً پانچواں حصہ  اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میرین ٹریفک کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے زیرِ انتظام جہاز کراچی پہلا غیر ایرانی کارگو تھا جس نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اپنا اے آئی ایس سگنل نشر کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض جہازوں کے لیے مذاکرات کے ذریعے محفوظ راستہ فراہم کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک سے درآمد ہونے والے خام تیل اور ریفائنڈ ایندھن پر زیادہ انحصار کرتا ہے، جن میں سے زیادہ تر آبنائے ہرمز کے ذریعے آتے ہیں۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جبکہ امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ بھی قریبی روابط موجود ہیں، جس کے باعث بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران اسلام آباد کو سفارتی توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے ایران میں سفیر محمد مدثر ٹیپو نے منگل کو ایران کی جانب سے تجارت میں مسلسل سہولت فراہم کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ سرحدی گزرگاہیں فعال ہیں اور دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں سے رکاوٹیں کم کرنے اور رش کم کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔</strong></p>
<p>انہوں نے ایک پیغام میں کہا کہ وہ حکومتِ اسلامی جمہوریہ ایران کے شکر گزار ہیں جس نے مشکل حالات کے باوجود پاکستان کی ایران کے ساتھ تجارت اور ایران کے راستے ٹرانزٹ تجارت کو مکمل سہولت فراہم کی۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/AmbMudassir/status/2033769523183247690?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AmbMudassir/status/2033769523183247690?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>مدثر ٹیپو نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی سرحدی راستے مؤثر طریقے سے کام کر رہے ہیں اور مختلف سرحدی مقامات پر گرین چینلز فعال ہیں، جس سے دونوں جانب اشیا کی تیز تر نقل و حرکت ممکن ہو رہی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی تہران کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے تاکہ جاری علاقائی صورتحال کے باوجود دو طرفہ تجارت متاثر نہ ہو۔ ان کے مطابق سرحدی رش اور دیگر مسائل کو بھی باہمی کوششوں سے حل کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پاکستانی سفیر نے مزید بتایا کہ پاکستانی سفارت خانہ پاکستان اور ایران میں سرکاری و نجی شعبوں کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ تجارت میں فوری سہولت فراہم کی جا سکے۔</p>
<p>اس سے قبل جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا سے ظاہر ہوا کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں پاکستان جانے والا ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ ایران کے خلاف جاری امریکی اسرائیلی جنگ کے باوجود بعض ممالک اپنے جہازوں کے لیے محفوظ راستہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔</p>
<p>جنگ شروع ہونے کے بعد ایران خلیج میں کئی جہازوں کو نشانہ بنا چکا ہے جس سے عملی طور پر آبنائے ہرمز بند ہو گئی ہے۔ اس راستے سے دنیا کے  تیل  کا تقریباً پانچواں حصہ  اور مائع قدرتی گیس گزرتی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>میرین ٹریفک کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے زیرِ انتظام جہاز کراچی پہلا غیر ایرانی کارگو تھا جس نے آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اپنا اے آئی ایس سگنل نشر کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض جہازوں کے لیے مذاکرات کے ذریعے محفوظ راستہ فراہم کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک سے درآمد ہونے والے خام تیل اور ریفائنڈ ایندھن پر زیادہ انحصار کرتا ہے، جن میں سے زیادہ تر آبنائے ہرمز کے ذریعے آتے ہیں۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں جبکہ امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ بھی قریبی روابط موجود ہیں، جس کے باعث بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران اسلام آباد کو سفارتی توازن برقرار رکھنا پڑ رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283993</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Mar 2026 14:06:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/17140327d4d59c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/17140327d4d59c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
