<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Stocks</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ،100 انڈیکس 150,000 پوائنٹس سے اوپر بند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283982/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 150,000 پوائنٹس کی سطح سے کچھ اوپر بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے آغاز پر مضبوط خریداری دیکھی گئی جس کے باعث انڈیکس ابتدائی سیشن میں بڑھ کر 151,503.46 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا، جو ابتدائی تیزی کے رجحان کی عکاسی کرتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس بلند سطح کے بعد انڈیکس میں بتدریج کمی آئی اور صبح کے آخری حصے میں یہ گر کر 148,509.04 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر کے وقت مارکیٹ میں بحالی کا رجحان دیکھا گیا اور انڈیکس بتدریج بڑھتے ہوئے دوبارہ 150,000 پوائنٹس کی سطح کے قریب پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 837.50 پوائنٹس یا 0.56 فیصد اضافے کے ساتھ 150,016.16 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا پاکستان نے فروری 2026 میں 427 ملین ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جس کے اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر کو جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق یہ سرپلس ترسیلات زر میں مضبوط اضافے، ویلیو ایڈڈ برآمدات میں بہتری اور نظم و ضبط کے ساتھ درآمدات کے باعث حاصل ہوا، جس سے معاشی استحکام مضبوط اور بیرونی مالیاتی دباؤ کم ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازعات کے باوجود پاکستان کا مستحکم بیرونی کھاتہ اور مناسب مالیاتی بفرز پائیدار معاشی بحالی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے اہم سنگ میل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے ایک روز قبل پیر کو اسٹاک ایکسچینج میں شدید فروخت دیکھی گئی تھی اور کے ایس ای-100 انڈیکس 4,687.51 پوائنٹس یا 3.05 فیصد کمی کے بعد 149,178.66 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، کیونکہ سرمایہ کار عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث محتاط رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں منگل کو ابتدائی کاروبار میں اضافہ دیکھا گیا۔ ایشیا پیسیفک شیئرز کا ایم ایس سی آئی انڈیکس جاپان کے علاوہ 0.9 فیصد بڑھ گیا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 2.4 فیصد اور جاپان کا نکی 225 انڈیکس 0.3 فیصد اوپر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ میں پیر کو ایس اینڈ پی 500 انڈیکس ایک فیصد اضافے کے ساتھ چار روزہ مندی کا سلسلہ توڑنے میں کامیاب ہوا، اگرچہ یہ انڈیکس تنازع شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے اب بھی تقریباً 3 فیصد نیچے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آل شیئر انڈیکس کا کاروباری حجم کم ہو کر 260.43 ملین شیئرز رہ گیا جو گزشتہ سیشن میں 298.27 ملین تھا، جبکہ حصص کی مجموعی مالیت بھی کم ہو کر 17.21 ارب روپے رہ گئی جو اس سے پہلے 20.19 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف پنجاب 32.25 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ حجم والی کمپنی رہی۔ اس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ کے 18.08 ملین اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 17.87 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو مجموعی طور پر 475 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا جن میں سے 223 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 182 میں کمی جبکہ 70 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/171424425ca2f3e.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/171424425ca2f3e.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منگل کو کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 150,000 پوائنٹس کی سطح سے کچھ اوپر بند ہوا۔</strong></p>
<p>کاروبار کے آغاز پر مضبوط خریداری دیکھی گئی جس کے باعث انڈیکس ابتدائی سیشن میں بڑھ کر 151,503.46 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا، جو ابتدائی تیزی کے رجحان کی عکاسی کرتا تھا۔</p>
<p>تاہم اس بلند سطح کے بعد انڈیکس میں بتدریج کمی آئی اور صبح کے آخری حصے میں یہ گر کر 148,509.04 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا۔</p>
<p>دوپہر کے وقت مارکیٹ میں بحالی کا رجحان دیکھا گیا اور انڈیکس بتدریج بڑھتے ہوئے دوبارہ 150,000 پوائنٹس کی سطح کے قریب پہنچ گیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 837.50 پوائنٹس یا 0.56 فیصد اضافے کے ساتھ 150,016.16 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>دریں اثنا پاکستان نے فروری 2026 میں 427 ملین ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جس کے اعداد و شمار اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر کو جاری کیے۔</p>
<p>وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق یہ سرپلس ترسیلات زر میں مضبوط اضافے، ویلیو ایڈڈ برآمدات میں بہتری اور نظم و ضبط کے ساتھ درآمدات کے باعث حاصل ہوا، جس سے معاشی استحکام مضبوط اور بیرونی مالیاتی دباؤ کم ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ علاقائی تنازعات کے باوجود پاکستان کا مستحکم بیرونی کھاتہ اور مناسب مالیاتی بفرز پائیدار معاشی بحالی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے اہم سنگ میل ہیں۔</p>
<p>اس سے ایک روز قبل پیر کو اسٹاک ایکسچینج میں شدید فروخت دیکھی گئی تھی اور کے ایس ای-100 انڈیکس 4,687.51 پوائنٹس یا 3.05 فیصد کمی کے بعد 149,178.66 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، کیونکہ سرمایہ کار عالمی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث محتاط رہے۔</p>
<p>عالمی سطح پر بھی ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں منگل کو ابتدائی کاروبار میں اضافہ دیکھا گیا۔ ایشیا پیسیفک شیئرز کا ایم ایس سی آئی انڈیکس جاپان کے علاوہ 0.9 فیصد بڑھ گیا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 2.4 فیصد اور جاپان کا نکی 225 انڈیکس 0.3 فیصد اوپر رہا۔</p>
<p>وال اسٹریٹ میں پیر کو ایس اینڈ پی 500 انڈیکس ایک فیصد اضافے کے ساتھ چار روزہ مندی کا سلسلہ توڑنے میں کامیاب ہوا، اگرچہ یہ انڈیکس تنازع شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے اب بھی تقریباً 3 فیصد نیچے ہے۔</p>
<p>پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آل شیئر انڈیکس کا کاروباری حجم کم ہو کر 260.43 ملین شیئرز رہ گیا جو گزشتہ سیشن میں 298.27 ملین تھا، جبکہ حصص کی مجموعی مالیت بھی کم ہو کر 17.21 ارب روپے رہ گئی جو اس سے پہلے 20.19 ارب روپے تھی۔</p>
<p>بینک آف پنجاب 32.25 ملین شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ حجم والی کمپنی رہی۔ اس کے بعد کے الیکٹرک لمیٹڈ کے 18.08 ملین اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 17.87 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔</p>
<p>منگل کو مجموعی طور پر 475 کمپنیوں کے شیئرز کا لین دین ہوا جن میں سے 223 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 182 میں کمی جبکہ 70 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں بغیر کسی تبدیلی کے رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/171424425ca2f3e.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/171424425ca2f3e.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283982</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Mar 2026 14:51:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/1710184318bf1e8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/1710184318bf1e8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
