<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کے باقی 25 فیصد حصص کی فروخت سے 45 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283981/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت کو پی آئی اے کے باقی 25 فیصد حصص کی فروخت سے تقریباً 45 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے، جس سے پی آئی اے کی کل فروخت کی آمدنی تقریباً 55 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں نجکاری کمیشن کے سیکریٹری عثمان اختر باجوہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس کے دوران بتایا، جس کی صدارت سینٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کی۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کے لین دین کی مالی تکمیل اپریل کے آخر تک متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ عارف حبیب کی قیادت میں کنسورشیم نئی انتظامیہ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر تلاش کر رہا ہے، جبکہ کابینہ کمیٹی کی منظوری کے بعد فوجی فرٹیلائزر کمپنی بھی اس کنسورشیم میں شامل ہوگی۔ عارف حبیب کنسورشیم 29 اپریل تک باقی حصص خرید سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی آئی اے کو مارکیٹ ویلیو سے کم میں فروخت کرنے کا تاثر غلط ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکریٹری نے بتایا کہ نجکاری سے قبل پی آئی اے کی خالص اثاثہ قدر صرف 9 ارب روپے تھی، لیکن حکومت نے اثاثوں کی دوبارہ قیمت لگانے کے بعد اس کی خالص اثاثہ قدر بڑھا دی۔ پی آئی اے کے کل واجبات 125 ارب روپے تھے جو اب نئی انتظامیہ کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں بتایا گیا کہ کنسورشیم نے پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کے نام سے نئی کمپنی قائم کی ہے، جس میں تمام شیئر ہولڈرز شامل ہوں گے اور نجکاری کے عمل میں کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے دو ورکنگ گروپس بھی قائم کیے گئے ہیں جو مرکزی اسٹیئرنگ کمیٹی کو رپورٹس پیش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کی پراپرٹیز کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ کمپنی کی مختلف جائیدادوں کی مجموعی قیمت تقریباً 12 ارب روپے ہے، جبکہ 180 ارب روپے کے واجبات بھی ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے نیو بلیو ایریا میں واقع ایک پلاٹ کی قیمت تقریباً 3 ارب روپے بتائی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی آئی اے کے افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ 2024 میں کمپنی کا منافع 7.3 ارب روپے رہا جبکہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو 26 ارب روپے کا منافع رپورٹ کیا گیا۔ اجلاس میں ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات پر بھی بات کی گئی، اور کمیٹی نے فوری اقدامات کے احکامات جاری کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے نجکاری کے مختلف پہلوؤں، پی آئی اے کی جائیدادوں اور نئے طیارے کی خریداری پر دی جانے والی جی ایس ٹی چھوٹ کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے۔ گوادار انٹرنیشنل ائرپورٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کے قریب وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ ہونے کی وجہ سے اسے علاقائی ٹریفک کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت کو پی آئی اے کے باقی 25 فیصد حصص کی فروخت سے تقریباً 45 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے، جس سے پی آئی اے کی کل فروخت کی آمدنی تقریباً 55 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔</strong></p>
<p>اس سلسلے میں نجکاری کمیشن کے سیکریٹری عثمان اختر باجوہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس کے دوران بتایا، جس کی صدارت سینٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کی۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کے لین دین کی مالی تکمیل اپریل کے آخر تک متوقع ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ عارف حبیب کی قیادت میں کنسورشیم نئی انتظامیہ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر تلاش کر رہا ہے، جبکہ کابینہ کمیٹی کی منظوری کے بعد فوجی فرٹیلائزر کمپنی بھی اس کنسورشیم میں شامل ہوگی۔ عارف حبیب کنسورشیم 29 اپریل تک باقی حصص خرید سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی آئی اے کو مارکیٹ ویلیو سے کم میں فروخت کرنے کا تاثر غلط ہے۔</p>
<p>سیکریٹری نے بتایا کہ نجکاری سے قبل پی آئی اے کی خالص اثاثہ قدر صرف 9 ارب روپے تھی، لیکن حکومت نے اثاثوں کی دوبارہ قیمت لگانے کے بعد اس کی خالص اثاثہ قدر بڑھا دی۔ پی آئی اے کے کل واجبات 125 ارب روپے تھے جو اب نئی انتظامیہ کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>اجلاس میں بتایا گیا کہ کنسورشیم نے پی آئی اے ایکویٹی لمیٹڈ کے نام سے نئی کمپنی قائم کی ہے، جس میں تمام شیئر ہولڈرز شامل ہوں گے اور نجکاری کے عمل میں کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں ہے۔ اس مقصد کے لیے دو ورکنگ گروپس بھی قائم کیے گئے ہیں جو مرکزی اسٹیئرنگ کمیٹی کو رپورٹس پیش کر رہے ہیں۔</p>
<p>پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کی پراپرٹیز کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ کمپنی کی مختلف جائیدادوں کی مجموعی قیمت تقریباً 12 ارب روپے ہے، جبکہ 180 ارب روپے کے واجبات بھی ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد کے نیو بلیو ایریا میں واقع ایک پلاٹ کی قیمت تقریباً 3 ارب روپے بتائی گئی۔</p>
<p>پی آئی اے کے افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ 2024 میں کمپنی کا منافع 7.3 ارب روپے رہا جبکہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو 26 ارب روپے کا منافع رپورٹ کیا گیا۔ اجلاس میں ریٹائرڈ ملازمین اور پنشنرز کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات پر بھی بات کی گئی، اور کمیٹی نے فوری اقدامات کے احکامات جاری کیے۔</p>
<p>کمیٹی نے نجکاری کے مختلف پہلوؤں، پی آئی اے کی جائیدادوں اور نئے طیارے کی خریداری پر دی جانے والی جی ایس ٹی چھوٹ کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے۔ گوادار انٹرنیشنل ائرپورٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس کے قریب وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ ہونے کی وجہ سے اسے علاقائی ٹریفک کے لیے مؤثر طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283981</guid>
      <pubDate>Tue, 17 Mar 2026 10:09:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حمزہ حبیب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/1710070395eb74b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/1710070395eb74b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
