<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:39:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کا نیٹو سے کوئی تعلق نہیں، جرمن حکومت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283966/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کا نیٹو سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ”نیٹو کی جنگ نہیں“ ہے، یہ بات جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ترجمان نے پیر کو کہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو جنوبی کوریا، فرانس، چین اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ  وہ آبنائے ہرمز کومحفوظ گزرگاہ یقینی بنانے میں مدد کریں، جسے ایران نے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے لیے بند کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں صدر ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر دباؤ بڑھاتے ہوئے فنانشل ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ اگر نیٹو کے اراکین ہرمز کی گزرگاہ دوبارہ کھولنے میں اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے تو اتحاد کا مستقبل ”بہت خراب“ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن چانسلر مرز کے ترجمان اسٹفن کورنیلیس نے ایک باقاعدہ پریس بریفنگ میں کہا کہ ”نیٹو ایک ایسا اتحاد ہے جو سرزمین کے دفاع کے لیے بنایا گیا ہے اور موجودہ صورتحال میں نیٹو کے نفاذ کے لیے کوئی مینڈیٹ موجود نہیں ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کو اسرائیل اور امریکہ سے یہ جاننے کی ضرورت تھی کہ ”ایران میں فوجی مقاصد کب تک حاصل کر لیے جائیں گے“، یہ بات اسی پریس بریفنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چانسلر مرز نے جمعہ کو کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو ”جتنا جلد ممکن ہو ختم کرنا چاہیے“ کیونکہ یہ تنازع کسی کے فائدے میں نہیں اور اقتصادی طور پر بہت سے ممالک بشمول جرمنی، کو نقصان پہنچا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پیر کو دفاعی وزیر بورس پِسٹوریس نے کہا ہے کہ جرمنی چاہتا ہے کہ تمام فریق ”مزید فوجی کشیدگی کو روک دیں“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے واضح کیا کہ جرمنی کی کوئی فوجی شمولیت نہیں ہوگی، لیکن برلن آبنائے ہرمز کو محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پِسٹوریس نے کہا کہ ”ہمارے پاس ایسی صورتحال ہے جسے ہم نے پیدا نہیں کیا… یہ جنگ بغیر کسی مشاورت کے شروع ہوئی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے جرمنی کی بنیادی ذمہ داری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”ہماری اہم ذمہ داری مشرقی محاذ اور بلند شمال کے لیے ہے، ہم اس پر قائم ہیں، لیکن ہم دنیا کے ہر کونے میں موجود نہیں ہو سکتے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز میں چند یورپی فریگیٹس سے کیا توقع رکھتے ہیں، جو خود امریکی بحریہ اکیلے سنبھال نہیں سکتی؟ یہ وہ سوال ہے جو میں خود سے پوچھ رہا ہوں۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کا نیٹو سے کوئی تعلق نہیں اور یہ ”نیٹو کی جنگ نہیں“ ہے، یہ بات جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ترجمان نے پیر کو کہی ہے۔</strong></p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو جنوبی کوریا، فرانس، چین اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ  وہ آبنائے ہرمز کومحفوظ گزرگاہ یقینی بنانے میں مدد کریں، جسے ایران نے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے لیے بند کر رکھا ہے۔</p>
<p>بعد ازاں صدر ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں پر دباؤ بڑھاتے ہوئے فنانشل ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ اگر نیٹو کے اراکین ہرمز کی گزرگاہ دوبارہ کھولنے میں اپنا حصہ نہیں ڈالیں گے تو اتحاد کا مستقبل ”بہت خراب“ ہوگا۔</p>
<p>جرمن چانسلر مرز کے ترجمان اسٹفن کورنیلیس نے ایک باقاعدہ پریس بریفنگ میں کہا کہ ”نیٹو ایک ایسا اتحاد ہے جو سرزمین کے دفاع کے لیے بنایا گیا ہے اور موجودہ صورتحال میں نیٹو کے نفاذ کے لیے کوئی مینڈیٹ موجود نہیں ہے۔“</p>
<p>جرمنی کو اسرائیل اور امریکہ سے یہ جاننے کی ضرورت تھی کہ ”ایران میں فوجی مقاصد کب تک حاصل کر لیے جائیں گے“، یہ بات اسی پریس بریفنگ میں وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہی۔</p>
<p>چانسلر مرز نے جمعہ کو کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کو ”جتنا جلد ممکن ہو ختم کرنا چاہیے“ کیونکہ یہ تنازع کسی کے فائدے میں نہیں اور اقتصادی طور پر بہت سے ممالک بشمول جرمنی، کو نقصان پہنچا رہا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب پیر کو دفاعی وزیر بورس پِسٹوریس نے کہا ہے کہ جرمنی چاہتا ہے کہ تمام فریق ”مزید فوجی کشیدگی کو روک دیں“۔</p>
<p>انہوں نے واضح کیا کہ جرمنی کی کوئی فوجی شمولیت نہیں ہوگی، لیکن برلن آبنائے ہرمز کو محفوظ گزرگاہ یقینی بنانے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>پِسٹوریس نے کہا کہ ”ہمارے پاس ایسی صورتحال ہے جسے ہم نے پیدا نہیں کیا… یہ جنگ بغیر کسی مشاورت کے شروع ہوئی۔“</p>
<p>انہوں نے جرمنی کی بنیادی ذمہ داری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ”ہماری اہم ذمہ داری مشرقی محاذ اور بلند شمال کے لیے ہے، ہم اس پر قائم ہیں، لیکن ہم دنیا کے ہر کونے میں موجود نہیں ہو سکتے۔“</p>
<p>انہوں نے سوال اٹھایا کہ ”ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز میں چند یورپی فریگیٹس سے کیا توقع رکھتے ہیں، جو خود امریکی بحریہ اکیلے سنبھال نہیں سکتی؟ یہ وہ سوال ہے جو میں خود سے پوچھ رہا ہوں۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283966</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Mar 2026 18:42:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/16182856217ac86.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/16182856217ac86.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
