<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کفایت شعاری کا منصوبہ: اس کی قیمت کون چکائے گا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283962/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے سات روز بعد پٹرول اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا انتہائی غیر مقبول فیصلہ سامنے آیا، پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جبکہ دسویں روز وزیرِاعظم کی جانب سے دو ماہ کے لیے ایک وسیع کفایت شعاری پیکج کا اعلان بھی کر دیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بنیادی سوال یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کی قیمت پاکستان میں کون ادا کرے گا، حکومت یا عام عوام؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک میں پٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافہ صرف عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے کا براہِ راست اثر نہیں ہے، کیونکہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایندھن کی قیمت میں پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس بھی شامل ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران وفاقی حکومت نے آمدنی کے ذریعے کے طور پر پیٹرولیم لیوی پر انحصار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس انحصار کو ممکن بنانے کے لیے اسے دیگر ٹیکسز کے زمرے میں رکھا گیا، جو قابلِ تقسیم محصولات (ڈویژیبل پول ٹیکسز) کا حصہ نہیں ہوتے اور اس لیے صوبوں کے ساتھ شیئر نہیں کیے جاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رجحان خاص طور پر 2010 کے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے بعد نمایاں ہوا، جس کے تحت قابلِ تقسیم محصولات میں صوبوں کا حصہ بڑھا کر 56 فیصد کر دیا گیا تھا۔ ان محصولات میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹیز شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2025-26 کے لیے پیٹرولیم لیوی کے تحت مجموعی وصولیوں کا ہدف 14 کھرب 68 ارب 39 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال اس مد میں بجٹ ہدف 12 کھرب 81 ارب روپے تھا۔ یوں بجٹ ہدف کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد اضافہ متوقع ہے، تاہم اگر گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ تخمینے، 11 کھرب 61 ارب روپے، کو بنیاد بنایا جائے تو یہ اضافہ تقریباً 26 فیصد بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 مارچ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم لیوی کو 84 روپے 40 پیسے فی لیٹر (یکم مارچ 2026 سے مؤثر، یعنی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی شروع ہونے کے ایک روز بعد) سے بڑھا کر 105 روپے 37 پیسے فی لیٹر کر دیا گیا، جو فی لیٹر 20 روپے 97 پیسے کے اضافے کے برابر ہے، یعنی تقریباً 25 فیصد اضافہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم مارچ کو زیادہ سے زیادہ ڈپو قیمت 266 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی، جو 7 مارچ کو بڑھ کر 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ اس طرح یکم مارچ کو پیٹرولیم لیوی زیادہ سے زیادہ ڈپو قیمت کا تقریباً 31 فیصد بنتی تھی، جبکہ 7 مارچ کے اضافے کے بعد یہ حصہ بڑھ کر 32 فیصد ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے حقیقی ایندھن فروخت کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فروخت میں سالانہ تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صرف جنوری 2026 میں ایندھن کی فروخت کا تخمینہ 15 لاکھ 20 ہزار ٹن لگایا گیا، جو سالانہ 10 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 12 فیصد زیادہ تھی، جس کی بنیادی وجہ قیمتوں میں کمی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حالیہ قیمتوں میں اضافے کے بعد فروخت کا اندازہ لگانا مشکل ہو گا، کیونکہ ایندھن مہنگا ہونے سے ہر کمانے والے فرد کی حقیقی آمدنی کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے اور گھرانے محدود آمدنی میں اخراجات کی نئی ترجیحات طے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر مارچ کے لیے انتہائی محتاط اندازہ لگاتے ہوئے ایندھن کی فروخت صرف 10 لاکھ ٹن بھی فرض کر لی جائے، جو جنوری کے مقابلے میں تقریباً 34 فیصد کم ہے، تب بھی 7 مارچ کو فی لیٹر 20 روپے 97 پیسے لیوی بڑھانے سے قومی خزانے کو اضافی طور پر تقریباً 20 ارب 90 کروڑ روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2025 کی دوسری جائزہ رپورٹ میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیٹرولیم لیوی کی وصولیوں میں 157 ارب روپے کی ممکنہ کمی کا اندازہ ظاہر کیا تھا اور نشاندہی کی تھی کہ مجموعی وصولیوں کا انحصار جی ڈی پی کی شرحِ نمو پر ہو گا۔ دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ جولائی تا فروری 2026 کے دوران محصولات کی وصولیوں میں ہدف کے مقابلے میں 430 ارب روپے کی کمی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں یہ کہنا قرینِ قیاس ہے کہ 7 مارچ کو پیٹرولیم لیوی میں اضافے کا فیصلہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت تیسرے جائزے اور ریزِیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت دوسرے جائزے کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ طے پایا ہوگا۔ یہ جائزہ مذاکرات 25 فروری سے 11 مارچ تک کراچی اور اسلام آباد میں، اور بعض حد تک آن لائن بھی جاری رہے، تاہم یہ کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;11 مارچ 2026 کو فنڈ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ”ساختی اصلاحات کو مزید گہرا کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی، کیونکہ حکام کی جانب سے شرحِ نمو میں تیزی لانے پر زور دیا جا رہا ہے۔“ بظاہر یہ اشارہ وزیرِاعظم کی جانب سے جنوری کے آخر میں صنعت کے لیے اعلان کردہ مراعاتی پیکج کی طرف تھا، جس پر اس سے قبل اتفاق نہیں ہوا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ” آئندہ پالیسیوں سے متعلق مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے، جن میں عوامی مالیات کو مضبوط بنانے کے لیے مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنا بھی شامل ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو بھی صورت حال ہو، یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ عالمی سطح پر مجموعی قومی پیداوار کی شرحِ نمو پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔ مارچ کے اوائل میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نے خبردار کیا تھا کہ جاری تنازع عالمی معیشت کے لیے نمایاں خطرات پیدا کر رہا ہے، خصوصاً توانائی کی قیمتوں، افراطِ زر اور علاقائی انفرااسٹرکچر کے حوالے سے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم کی جانب سے اعلان کردہ کفایت شعاری پیکج دو ماہ کے لیے تمام وزارتوں، محکموں، خودمختار اداروں، دفاعی تنظیموں، عدلیہ اور پارلیمنٹ پر لاگو کرنے کا تصور پیش کرتا ہے۔ اس کے تحت درج ذیل فیصلے کیے گئے ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوّل، سرکاری ملازمین میں سے 50 فیصد کو باری باری گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ نجی شعبے کو بھی اس طرزِ عمل کی پیروی کا مشورہ دیا گیا ہے۔ تاہم اہم شعبوں، خصوصاً بینکاری، کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح پیداواری شعبے جیسے صنعت اور زراعت کو بھی غالباً اس سے استثنا حاصل ہوگا۔ اسکول اور جامعات بند رہیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، وفاقی اور صوبائی سطح پر سرکاری گاڑیوں میں سے 60 فیصد کو استعمال سے روک دیا جائے گا، جبکہ آپریشنل گاڑیاں، جیسے سرکاری بسیں، ایمبولینسز اور موٹر سائیکلیں، اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ باقی گاڑیوں کے لیے ایندھن کے کوٹے میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔ صوبوں کو بھی اسی طرزِ عمل کی پیروی کی ہدایت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوم، کابینہ کے ارکان اور خصوصی معاونین دو ماہ کے لیے اپنی تنخواہیں ترک کریں گے، جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 20 فیصد کمی کی جائے گی۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یکم جنوری 2025 سے تمام اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا تھا، جو 1 لاکھ 80 ہزار سے 2 لاکھ روپے ماہانہ سے بڑھا کر 5 لاکھ 19 ہزار روپے کر دی گئی تھی، جبکہ وفاقی وزرا کی تنخواہیں بھی اسی سطح کے مطابق کر دی گئی تھیں۔ یہ فیصلہ اس وقت خاصا غیر واضح تھا، کیونکہ معیشت کمزور حالت میں تھی اور آئی ایم ایف کی سخت ابتدائی شرائط نافذ العمل تھیں۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کو دو دن کی تنخواہ سے دستبردار ہونا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چہارم، سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، سوائے ان صورتوں کے جہاں قومی مفاد کا تقاضا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجم، تمام سرکاری اداروں کو سادگی، کفایت شعاری اور توانائی کے بچاؤ کی پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی گئی ہے، یہ وہ عمومی ہدایت ہے جو ماضی میں بھی دی جاتی رہی ہے مگر اس پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ شادی کی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 200 تک محدود ہوگی اور صرف ایک ڈش پیش کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ششم، وفاقی اور صوبائی محکموں کے ترقیاتی اخراجات میں چوتھی سہ ماہی کے دوران 20 فیصد کمی کی جائے گی، جس سے وفاقی سطح پر 22 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، حالانکہ یہی اخراجات نظری طور پر عوام کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کی حمایت کرتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ حکومت نے جولائی تا فروری کے دوران 558 ارب 12 کروڑ روپے کے ترقیاتی اخراجات کی منظوری دی تھی، مگر حقیقی ادائیگی صرف 361 ارب 27 کروڑ روپے رہی۔ دوسرے الفاظ میں، اس مد میں پہلے ہی ابتدائی دو سہ ماہیوں کے دوران بجٹ کے مقابلے میں نمایاں کمی کی جا چکی تھی اور مزید کمی بہرحال متوقع تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کفایت شعاری اقدامات سے حاصل ہونے والی مجموعی بچت کا کوئی واضح تخمینہ پیش نہیں کیا گیا، البتہ مذکورہ نکات میں سے ایک سے چار تک کے اقدامات کے لیے 4 ارب 50 کروڑ روپے کی بچت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ صورت حال یا تو اس توقع کی عکاس ہے کہ سخت نگرانی، جس کے لیے اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے گی، نمایاں بچت پیدا کر سکتی ہے، یا پھر اس بات کی علامت ہے کہ پیکج کے ہر جز سے حاصل ہونے والی بچت کی تفصیلی فہرست تیار کرنے کے لیے مطلوبہ ابتدائی تیاری نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلاصہ یہ ہے کہ اگر دیکھا جائے تو اس بحران کی قیمت عام عوام کو حکومت کے تینوں ستونوں، یعنی انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ، کے مقابلے میں کہیں زیادہ ادا کرنا پڑے گی۔ افسوسناک طور پر یہی صورت حال آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے حوالے سے بھی دکھائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کو چاہیے کہ کفایت شعاری کے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جاری اخراجات میں حقیقی کمی پر غور کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے سات روز بعد پٹرول اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا انتہائی غیر مقبول فیصلہ سامنے آیا، پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا، جبکہ دسویں روز وزیرِاعظم کی جانب سے دو ماہ کے لیے ایک وسیع کفایت شعاری پیکج کا اعلان بھی کر دیا گیا۔</strong></p>
<p>اب بنیادی سوال یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کی قیمت پاکستان میں کون ادا کرے گا، حکومت یا عام عوام؟</p>
<p>ملک میں پٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافہ صرف عالمی منڈی میں قیمت بڑھنے کا براہِ راست اثر نہیں ہے، کیونکہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ایندھن کی قیمت میں پیٹرولیم لیوی اور سیلز ٹیکس بھی شامل ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران وفاقی حکومت نے آمدنی کے ذریعے کے طور پر پیٹرولیم لیوی پر انحصار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس انحصار کو ممکن بنانے کے لیے اسے دیگر ٹیکسز کے زمرے میں رکھا گیا، جو قابلِ تقسیم محصولات (ڈویژیبل پول ٹیکسز) کا حصہ نہیں ہوتے اور اس لیے صوبوں کے ساتھ شیئر نہیں کیے جاتے۔</p>
<p>یہ رجحان خاص طور پر 2010 کے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے بعد نمایاں ہوا، جس کے تحت قابلِ تقسیم محصولات میں صوبوں کا حصہ بڑھا کر 56 فیصد کر دیا گیا تھا۔ ان محصولات میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کیپیٹل ویلیو ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹیز شامل ہیں۔</p>
<p>مالی سال 2025-26 کے لیے پیٹرولیم لیوی کے تحت مجموعی وصولیوں کا ہدف 14 کھرب 68 ارب 39 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ گزشتہ سال اس مد میں بجٹ ہدف 12 کھرب 81 ارب روپے تھا۔ یوں بجٹ ہدف کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد اضافہ متوقع ہے، تاہم اگر گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ تخمینے، 11 کھرب 61 ارب روپے، کو بنیاد بنایا جائے تو یہ اضافہ تقریباً 26 فیصد بنتا ہے۔</p>
<p>7 مارچ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم لیوی کو 84 روپے 40 پیسے فی لیٹر (یکم مارچ 2026 سے مؤثر، یعنی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی شروع ہونے کے ایک روز بعد) سے بڑھا کر 105 روپے 37 پیسے فی لیٹر کر دیا گیا، جو فی لیٹر 20 روپے 97 پیسے کے اضافے کے برابر ہے، یعنی تقریباً 25 فیصد اضافہ۔</p>
<p>یکم مارچ کو زیادہ سے زیادہ ڈپو قیمت 266 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی، جو 7 مارچ کو بڑھ کر 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر ہو گئی۔ اس طرح یکم مارچ کو پیٹرولیم لیوی زیادہ سے زیادہ ڈپو قیمت کا تقریباً 31 فیصد بنتی تھی، جبکہ 7 مارچ کے اضافے کے بعد یہ حصہ بڑھ کر 32 فیصد ہو گیا۔</p>
<p>رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے حقیقی ایندھن فروخت کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فروخت میں سالانہ تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صرف جنوری 2026 میں ایندھن کی فروخت کا تخمینہ 15 لاکھ 20 ہزار ٹن لگایا گیا، جو سالانہ 10 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 12 فیصد زیادہ تھی، جس کی بنیادی وجہ قیمتوں میں کمی تھی۔</p>
<p>تاہم حالیہ قیمتوں میں اضافے کے بعد فروخت کا اندازہ لگانا مشکل ہو گا، کیونکہ ایندھن مہنگا ہونے سے ہر کمانے والے فرد کی حقیقی آمدنی کی قوتِ خرید متاثر ہوتی ہے اور گھرانے محدود آمدنی میں اخراجات کی نئی ترجیحات طے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>اگر مارچ کے لیے انتہائی محتاط اندازہ لگاتے ہوئے ایندھن کی فروخت صرف 10 لاکھ ٹن بھی فرض کر لی جائے، جو جنوری کے مقابلے میں تقریباً 34 فیصد کم ہے، تب بھی 7 مارچ کو فی لیٹر 20 روپے 97 پیسے لیوی بڑھانے سے قومی خزانے کو اضافی طور پر تقریباً 20 ارب 90 کروڑ روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>دسمبر 2025 کی دوسری جائزہ رپورٹ میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیٹرولیم لیوی کی وصولیوں میں 157 ارب روپے کی ممکنہ کمی کا اندازہ ظاہر کیا تھا اور نشاندہی کی تھی کہ مجموعی وصولیوں کا انحصار جی ڈی پی کی شرحِ نمو پر ہو گا۔ دوسری جانب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے حال ہی میں اعتراف کیا ہے کہ جولائی تا فروری 2026 کے دوران محصولات کی وصولیوں میں ہدف کے مقابلے میں 430 ارب روپے کی کمی رہی۔</p>
<p>اس تناظر میں یہ کہنا قرینِ قیاس ہے کہ 7 مارچ کو پیٹرولیم لیوی میں اضافے کا فیصلہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت تیسرے جائزے اور ریزِیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت دوسرے جائزے کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ طے پایا ہوگا۔ یہ جائزہ مذاکرات 25 فروری سے 11 مارچ تک کراچی اور اسلام آباد میں، اور بعض حد تک آن لائن بھی جاری رہے، تاہم یہ کسی حتمی نتیجے کے بغیر ختم ہوئے۔</p>
<p>11 مارچ 2026 کو فنڈ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ”ساختی اصلاحات کو مزید گہرا کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی، کیونکہ حکام کی جانب سے شرحِ نمو میں تیزی لانے پر زور دیا جا رہا ہے۔“ بظاہر یہ اشارہ وزیرِاعظم کی جانب سے جنوری کے آخر میں صنعت کے لیے اعلان کردہ مراعاتی پیکج کی طرف تھا، جس پر اس سے قبل اتفاق نہیں ہوا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ” آئندہ پالیسیوں سے متعلق مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے، جن میں عوامی مالیات کو مضبوط بنانے کے لیے مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنا بھی شامل ہے۔“</p>
<p>جو بھی صورت حال ہو، یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ عالمی سطح پر مجموعی قومی پیداوار کی شرحِ نمو پر منفی اثرات مرتب ہوں گے، اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔ مارچ کے اوائل میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نے خبردار کیا تھا کہ جاری تنازع عالمی معیشت کے لیے نمایاں خطرات پیدا کر رہا ہے، خصوصاً توانائی کی قیمتوں، افراطِ زر اور علاقائی انفرااسٹرکچر کے حوالے سے۔</p>
<p>وزیرِاعظم کی جانب سے اعلان کردہ کفایت شعاری پیکج دو ماہ کے لیے تمام وزارتوں، محکموں، خودمختار اداروں، دفاعی تنظیموں، عدلیہ اور پارلیمنٹ پر لاگو کرنے کا تصور پیش کرتا ہے۔ اس کے تحت درج ذیل فیصلے کیے گئے ہیں:</p>
<p>اوّل، سرکاری ملازمین میں سے 50 فیصد کو باری باری گھر سے کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ نجی شعبے کو بھی اس طرزِ عمل کی پیروی کا مشورہ دیا گیا ہے۔ تاہم اہم شعبوں، خصوصاً بینکاری، کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح پیداواری شعبے جیسے صنعت اور زراعت کو بھی غالباً اس سے استثنا حاصل ہوگا۔ اسکول اور جامعات بند رہیں گی۔</p>
<p>دوم، وفاقی اور صوبائی سطح پر سرکاری گاڑیوں میں سے 60 فیصد کو استعمال سے روک دیا جائے گا، جبکہ آپریشنل گاڑیاں، جیسے سرکاری بسیں، ایمبولینسز اور موٹر سائیکلیں، اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ باقی گاڑیوں کے لیے ایندھن کے کوٹے میں 50 فیصد کمی کی جائے گی۔ صوبوں کو بھی اسی طرزِ عمل کی پیروی کی ہدایت دی گئی ہے۔</p>
<p>سوم، کابینہ کے ارکان اور خصوصی معاونین دو ماہ کے لیے اپنی تنخواہیں ترک کریں گے، جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں 20 فیصد کمی کی جائے گی۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ یکم جنوری 2025 سے تمام اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا تھا، جو 1 لاکھ 80 ہزار سے 2 لاکھ روپے ماہانہ سے بڑھا کر 5 لاکھ 19 ہزار روپے کر دی گئی تھی، جبکہ وفاقی وزرا کی تنخواہیں بھی اسی سطح کے مطابق کر دی گئی تھیں۔ یہ فیصلہ اس وقت خاصا غیر واضح تھا، کیونکہ معیشت کمزور حالت میں تھی اور آئی ایم ایف کی سخت ابتدائی شرائط نافذ العمل تھیں۔ گریڈ 20 اور اس سے اوپر کے افسران کو دو دن کی تنخواہ سے دستبردار ہونا ہوگا۔</p>
<p>چہارم، سرکاری افسران کے غیر ملکی دوروں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، سوائے ان صورتوں کے جہاں قومی مفاد کا تقاضا ہو۔</p>
<p>پنجم، تمام سرکاری اداروں کو سادگی، کفایت شعاری اور توانائی کے بچاؤ کی پالیسیوں پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی گئی ہے، یہ وہ عمومی ہدایت ہے جو ماضی میں بھی دی جاتی رہی ہے مگر اس پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ شادی کی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ 200 تک محدود ہوگی اور صرف ایک ڈش پیش کی جائے گی۔</p>
<p>ششم، وفاقی اور صوبائی محکموں کے ترقیاتی اخراجات میں چوتھی سہ ماہی کے دوران 20 فیصد کمی کی جائے گی، جس سے وفاقی سطح پر 22 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، حالانکہ یہی اخراجات نظری طور پر عوام کے لیے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کی حمایت کرتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ حکومت نے جولائی تا فروری کے دوران 558 ارب 12 کروڑ روپے کے ترقیاتی اخراجات کی منظوری دی تھی، مگر حقیقی ادائیگی صرف 361 ارب 27 کروڑ روپے رہی۔ دوسرے الفاظ میں، اس مد میں پہلے ہی ابتدائی دو سہ ماہیوں کے دوران بجٹ کے مقابلے میں نمایاں کمی کی جا چکی تھی اور مزید کمی بہرحال متوقع تھی۔</p>
<p>ان کفایت شعاری اقدامات سے حاصل ہونے والی مجموعی بچت کا کوئی واضح تخمینہ پیش نہیں کیا گیا، البتہ مذکورہ نکات میں سے ایک سے چار تک کے اقدامات کے لیے 4 ارب 50 کروڑ روپے کی بچت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ صورت حال یا تو اس توقع کی عکاس ہے کہ سخت نگرانی، جس کے لیے اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے گی، نمایاں بچت پیدا کر سکتی ہے، یا پھر اس بات کی علامت ہے کہ پیکج کے ہر جز سے حاصل ہونے والی بچت کی تفصیلی فہرست تیار کرنے کے لیے مطلوبہ ابتدائی تیاری نہیں کی گئی۔</p>
<p>خلاصہ یہ ہے کہ اگر دیکھا جائے تو اس بحران کی قیمت عام عوام کو حکومت کے تینوں ستونوں، یعنی انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ، کے مقابلے میں کہیں زیادہ ادا کرنا پڑے گی۔ افسوسناک طور پر یہی صورت حال آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے حوالے سے بھی دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p>حکومت کو چاہیے کہ کفایت شعاری کے اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے جاری اخراجات میں حقیقی کمی پر غور کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283962</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Mar 2026 17:06:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/161637170bb07da.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/161637170bb07da.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
