<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترسیلاتِ زر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283945/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ چند سالوں کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم پاکستان کے بیرونی کھاتوں کیلئے نجات دہندہ ثابت ہوئی ہیں اور ان میں بہت مناسب رفتار سے اضافہ ہورہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2026 کے پہلے 8 ماہ کے دوران ترسیلاتِ زر کی مجموعی مالیت 26.5 ارب ڈالر رہی جو دو سال قبل اسی مدت کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہے۔ ان رقوم نے گزشتہ سال کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس (منافع) میں رکھنے میں مدد دی حالانکہ اشیاء کی برآمدات میں جمود دیکھا جارہا ہے۔ مالی سال 26 کے پہلے 8 ماہ میں ہونے والی کل ترسیلات کا 53 فیصد خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے آیا جس میں 23 فیصد سعودی عرب، 21 فیصد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور 10 فیصد دیگر خلیجی ممالک سے موصول ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک توقع کررہا ہے کہ مالی سال 2026 میں ترسیلاتِ زر 42 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مالی سال کے بقیہ چار مہینوں میں اوسطاً 3.9 ارب ڈالر ماہانہ موصول ہونے چاہئیں جبکہ پہلے آٹھ مہینوں کے دوران یہ ماہانہ اوسط 3.3 ارب ڈالر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رمضان المبارک اور دو عید سیزن (جس میں عام طور پر زیادہ پیسہ بھیجا جاتا ہے) کے باوجود ترسیلاتِ زر زیادہ سے زیادہ 41 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہماری ترسیلاتِ زر سے وابستہ کنسنٹریشن رسک (ایک ہی خطے پر حد سے زیادہ انحصار کے خطرات) بڑھ رہے ہیں۔ ایران جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی پورا خلیجی خطہ آگ کی لپیٹ میں ہے، اب ایک نئی صورتحال جنم لے رہی ہے، ماضی میں اسرائیلی اور امریکی حملے کسی ایک مخصوص ملک تک محدود رہتے تھے، لیکن اب یہ پورے خطے میں پھیل رہے ہیں کیونکہ ایران خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تناؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کے وسیع تر معاشی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ جی سی سی ممالک کی معیشتیں تیزی سے ترقی کررہی ہیں اور متحدہ عرب امارات سرمایہ کاروں کیلئے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ اعلیٰ معیارِ زندگی، بہترین انفرااسٹرکچر اور ٹیکسوں کی کم شرح بہت سے امیر افراد اور کمپنیوں کو اپنی جانب راغب کررہی ہے۔ وہاں کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر ایک دہائی سے زائد عرصے سے تیز رفتاری سے ترقی کررہا ہے جبکہ حال ہی میں یہ آئی ٹی کمپنیوں کے لیے ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ انفرااسٹرکچر قائم کرنے کا ایک پرکشش مرکز بن گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب اس خطے کا رسک پروفائل (سیکیورٹی کی صورتحال) تبدیل ہورہا ہے، اب یہ علاقہ مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا اور اس کے امن میں دراڑ آ چکی ہے۔ اس کے مکمل اثرات کا اندازہ جنگ ختم ہونے کے بعد ہی لگایا جاسکے گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اس جنگ کے خاتمے میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ قیمتوں میں اضافہ اور اسٹاک مارکیٹوں میں مندی ٹرمپ کی کمزوری ہیں، یہی جذبات خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی ) کے ممالک کے بھی ہیں جنہیں سپلائی چین میں رکاوٹوں اور وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں کا سامنا ہے، تاہم ایران اور اسرائیل دونوں کے پاس اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے اپنے نظریاتی محرکات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر امریکہ اور خلیجی ممالک (جی سی سی) دیگر فریقین کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے اور حالات میں بہتری آنا شروع ہوجائے گی۔ خام مال کی قیمتوں، بالخصوص گیس اور پٹرولیم مصنوعات کو معمول پر آنے میں چند ماہ لگ سکتے ہیں جبکہ تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی واقع ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر کچھ منفی اثر پڑسکتا ہے، لیکن یہ اتنا زیادہ نہیں ہوگا کہ محنت سے حاصل کی گئی معاشی استحکام کو خطرے میں ڈال دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑا مسئلہ ترسیلاتِ زر کے درمیانی مدت کے امکانات کا ہے، اگر جنگ ختم ہو بھی جائے، تب بھی مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش آسکتے ہیں جن میں اسرائیل ایران پر حملہ کرے، اور ایران متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز نہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی ممالک کی مجموعی ترقی اور پیشرفت متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کی معاشی وسعت کی رفتار سست پڑسکتی ہے اور مجموعی معاشی نمو کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری جاری رہ سکتی ہے، تاہم ڈیٹا سینٹرز اور دیگر آئی ٹی انفرااسٹرکچر کی ترقی کو دھچکا لگ سکتا ہے کیونکہ کمپنیاں پہلے ہی اپنی ہوسٹنگ  یورپی خطوں میں منتقل کرنا شروع کرچکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام حالات کے نتیجے میں خلیجی  خطے میں ملازمتوں اور کاروباری مواقع میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس کا اثر ان ممالک پر پڑے گا جن کا زیادہ تر انحصار ترسیلاتِ زر  پر ہے، 10 کروڑ سے زائد آبادی والے ممالک میں ترسیلاتِ زر پر پاکستان کا انحصار سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی ترسیلاتِ زر اس کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 10 فیصد کے قریب پہنچ رہی ہیں، یہ شرح بھارت کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں بہت سے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے بیرونی کھاتوں کی کمزوریاں کہیں زیادہ ہیں۔ اس وقت، فوری طور پر کوئی بڑا بحران سر پر منڈلاتا نظر نہیں آ رہا، لیکن حکومت کو ان خطرات سے آگاہ ہونا چاہیے اور اسے اپنے زرمبادلہ کی آمدن کے ذرائع کو متنوع  بنانے کی ضرورت ہے۔ برآمدات میں اضافہ ہونا چاہیے، اور ترسیلاتِ زر کے جغرافیائی دائرہ کار کو وسعت دینی چاہیے۔ فی الحال، ہم صرف یہی امید کر سکتے ہیں کہ خطے میں امن بحال ہو جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ چند سالوں کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم پاکستان کے بیرونی کھاتوں کیلئے نجات دہندہ ثابت ہوئی ہیں اور ان میں بہت مناسب رفتار سے اضافہ ہورہا ہے۔</strong></p>
<p>مالی سال 2026 کے پہلے 8 ماہ کے دوران ترسیلاتِ زر کی مجموعی مالیت 26.5 ارب ڈالر رہی جو دو سال قبل اسی مدت کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہے۔ ان رقوم نے گزشتہ سال کرنٹ اکاؤنٹ کو سرپلس (منافع) میں رکھنے میں مدد دی حالانکہ اشیاء کی برآمدات میں جمود دیکھا جارہا ہے۔ مالی سال 26 کے پہلے 8 ماہ میں ہونے والی کل ترسیلات کا 53 فیصد خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک سے آیا جس میں 23 فیصد سعودی عرب، 21 فیصد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور 10 فیصد دیگر خلیجی ممالک سے موصول ہوا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک توقع کررہا ہے کہ مالی سال 2026 میں ترسیلاتِ زر 42 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مالی سال کے بقیہ چار مہینوں میں اوسطاً 3.9 ارب ڈالر ماہانہ موصول ہونے چاہئیں جبکہ پہلے آٹھ مہینوں کے دوران یہ ماہانہ اوسط 3.3 ارب ڈالر رہی ہے۔</p>
<p>رمضان المبارک اور دو عید سیزن (جس میں عام طور پر زیادہ پیسہ بھیجا جاتا ہے) کے باوجود ترسیلاتِ زر زیادہ سے زیادہ 41 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہماری ترسیلاتِ زر سے وابستہ کنسنٹریشن رسک (ایک ہی خطے پر حد سے زیادہ انحصار کے خطرات) بڑھ رہے ہیں۔ ایران جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی پورا خلیجی خطہ آگ کی لپیٹ میں ہے، اب ایک نئی صورتحال جنم لے رہی ہے، ماضی میں اسرائیلی اور امریکی حملے کسی ایک مخصوص ملک تک محدود رہتے تھے، لیکن اب یہ پورے خطے میں پھیل رہے ہیں کیونکہ ایران خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنارہا ہے۔</p>
<p>تناؤ میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کے وسیع تر معاشی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ جی سی سی ممالک کی معیشتیں تیزی سے ترقی کررہی ہیں اور متحدہ عرب امارات سرمایہ کاروں کیلئے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ اعلیٰ معیارِ زندگی، بہترین انفرااسٹرکچر اور ٹیکسوں کی کم شرح بہت سے امیر افراد اور کمپنیوں کو اپنی جانب راغب کررہی ہے۔ وہاں کا رئیل اسٹیٹ سیکٹر ایک دہائی سے زائد عرصے سے تیز رفتاری سے ترقی کررہا ہے جبکہ حال ہی میں یہ آئی ٹی کمپنیوں کے لیے ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ انفرااسٹرکچر قائم کرنے کا ایک پرکشش مرکز بن گیا ہے۔</p>
<p>تاہم اب اس خطے کا رسک پروفائل (سیکیورٹی کی صورتحال) تبدیل ہورہا ہے، اب یہ علاقہ مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا اور اس کے امن میں دراڑ آ چکی ہے۔ اس کے مکمل اثرات کا اندازہ جنگ ختم ہونے کے بعد ہی لگایا جاسکے گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اس جنگ کے خاتمے میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ قیمتوں میں اضافہ اور اسٹاک مارکیٹوں میں مندی ٹرمپ کی کمزوری ہیں، یہی جذبات خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی ) کے ممالک کے بھی ہیں جنہیں سپلائی چین میں رکاوٹوں اور وقفے وقفے سے ہونے والے حملوں کا سامنا ہے، تاہم ایران اور اسرائیل دونوں کے پاس اس جنگ کو جاری رکھنے کے لیے اپنے نظریاتی محرکات موجود ہیں۔</p>
<p>اگر امریکہ اور خلیجی ممالک (جی سی سی) دیگر فریقین کو قائل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو جنگ جلد ختم ہوسکتی ہے اور حالات میں بہتری آنا شروع ہوجائے گی۔ خام مال کی قیمتوں، بالخصوص گیس اور پٹرولیم مصنوعات کو معمول پر آنے میں چند ماہ لگ سکتے ہیں جبکہ تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی واقع ہوسکتی ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر کچھ منفی اثر پڑسکتا ہے، لیکن یہ اتنا زیادہ نہیں ہوگا کہ محنت سے حاصل کی گئی معاشی استحکام کو خطرے میں ڈال دے۔</p>
<p>بڑا مسئلہ ترسیلاتِ زر کے درمیانی مدت کے امکانات کا ہے، اگر جنگ ختم ہو بھی جائے، تب بھی مستقبل میں ایسے واقعات دوبارہ پیش آسکتے ہیں جن میں اسرائیل ایران پر حملہ کرے، اور ایران متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز نہ کرے۔</p>
<p>خلیجی ممالک کی مجموعی ترقی اور پیشرفت متاثر ہوسکتی ہے۔ ان کی معاشی وسعت کی رفتار سست پڑسکتی ہے اور مجموعی معاشی نمو کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری جاری رہ سکتی ہے، تاہم ڈیٹا سینٹرز اور دیگر آئی ٹی انفرااسٹرکچر کی ترقی کو دھچکا لگ سکتا ہے کیونکہ کمپنیاں پہلے ہی اپنی ہوسٹنگ  یورپی خطوں میں منتقل کرنا شروع کرچکی ہیں۔</p>
<p>ان تمام حالات کے نتیجے میں خلیجی  خطے میں ملازمتوں اور کاروباری مواقع میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس کا اثر ان ممالک پر پڑے گا جن کا زیادہ تر انحصار ترسیلاتِ زر  پر ہے، 10 کروڑ سے زائد آبادی والے ممالک میں ترسیلاتِ زر پر پاکستان کا انحصار سب سے زیادہ ہے۔ پاکستان کی ترسیلاتِ زر اس کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 10 فیصد کے قریب پہنچ رہی ہیں، یہ شرح بھارت کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>مزید برآں بہت سے دوسرے ممالک کے مقابلے میں پاکستان کے بیرونی کھاتوں کی کمزوریاں کہیں زیادہ ہیں۔ اس وقت، فوری طور پر کوئی بڑا بحران سر پر منڈلاتا نظر نہیں آ رہا، لیکن حکومت کو ان خطرات سے آگاہ ہونا چاہیے اور اسے اپنے زرمبادلہ کی آمدن کے ذرائع کو متنوع  بنانے کی ضرورت ہے۔ برآمدات میں اضافہ ہونا چاہیے، اور ترسیلاتِ زر کے جغرافیائی دائرہ کار کو وسعت دینی چاہیے۔ فی الحال، ہم صرف یہی امید کر سکتے ہیں کہ خطے میں امن بحال ہو جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283945</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Mar 2026 12:09:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/16120700264dfff.webp" type="image/webp" medium="image" height="737" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/16120700264dfff.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
