<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈرون حملے کے بعد دبئی ایئرپورٹ پر پروازوں کا سلسلہ جزوی بحال، سیکیورٹی خدشات نمایاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283940/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے کے باعث لگنے والی آگ کی وجہ سے پروازوں کی عارضی معطلی کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پیر کو پروازوں کا سلسلہ بتدریج بحال کیا جا رہا ہے۔ اس حملے نے دنیا کے مصروف ترین فضائی مراکز میں سے ایک میں ٹریفک کے نظام کو مزید درہم برہم کر دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے عالمی ہوائی بازی کے شعبے کو بحران میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں پروازیں منسوخ، ری شیڈول اور ان کے راستے تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ میزائل اور ڈرون حملوں کے خوف سے مشرق وسطیٰ کی زیادہ تر فضائی حدود بند ہیں، جبکہ اس صورتحال نے ایندھن کی قیمتوں کو بھی آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ پیر کے واقعے نے متحدہ عرب امارات کی ایئر لائنز اور ہوا بازی کی صنعت کے لیے اپنی استعداد کار بڑھانے اور آپریشنز کو معمول پر لانے کی کوششوں میں درپیش چیلنجز کو واضح کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 فروری کو خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کے آغاز کے بعد سے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یہ تیسرا حملہ ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں امریکی موجودگی کو نشانہ بنانا ہے۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک امریکی فوجی تنصیبات کی میزبانی کرتے ہیں، تاہم ایران نے ہوائی اڈوں، ہوٹلوں اور بندرگاہوں جیسی سویلین تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دبئی میڈیا آفس کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایکس (ٹویٹر) پر ایک بیان میں مخصوص مقامات کے لیے پروازوں کی بتدریج بحالی کا اشارہ دیا ہے۔ ایمریٹس ایئر لائن نے کہا ہے کہ وہ حملے کے بعد گرینج ٹائم کے مطابق صبح 6 بجے آپریشن جزوی طور پر شروع کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ اس حملے میں ہوائی اڈے کے قریب ایک فیول ٹینک متاثر ہوا تھا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایمریٹس اور اس کی پارٹنر ایئر لائن فلائی دبئی نے کچھ پروازیں منسوخ اور عارضی طور پر معطل کیں، جبکہ کچھ پروازوں کا رخ المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 فروری سے اب تک خلیجی عرب ممالک کو 2,000 سے زائد میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں امریکی سفارتی مشنز اور فوجی اڈوں کے علاوہ تیل کی اہم تنصیبات، گھروں اور دفاتر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات جس نے 2020 میں ایران کے حریف اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کیے تھے، ان حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہے، تاہم تمام خلیجی عرب ریاستیں متاثر ہوئی ہیں اور ان سب نے ایران کی مذمت کی ہے۔ اس سے قبل 11 مارچ کو بھی دو ڈرونز بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب گرے تھے، جبکہ تنازع کے پہلے دن بھی ایرانی حملے میں ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے کے باعث لگنے والی آگ کی وجہ سے پروازوں کی عارضی معطلی کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پیر کو پروازوں کا سلسلہ بتدریج بحال کیا جا رہا ہے۔ اس حملے نے دنیا کے مصروف ترین فضائی مراکز میں سے ایک میں ٹریفک کے نظام کو مزید درہم برہم کر دیا ہے۔</strong></p>
<p>ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ نے عالمی ہوائی بازی کے شعبے کو بحران میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں پروازیں منسوخ، ری شیڈول اور ان کے راستے تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ میزائل اور ڈرون حملوں کے خوف سے مشرق وسطیٰ کی زیادہ تر فضائی حدود بند ہیں، جبکہ اس صورتحال نے ایندھن کی قیمتوں کو بھی آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ پیر کے واقعے نے متحدہ عرب امارات کی ایئر لائنز اور ہوا بازی کی صنعت کے لیے اپنی استعداد کار بڑھانے اور آپریشنز کو معمول پر لانے کی کوششوں میں درپیش چیلنجز کو واضح کر دیا ہے۔</p>
<p>28 فروری کو خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں کے آغاز کے بعد سے دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یہ تیسرا حملہ ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد خطے میں امریکی موجودگی کو نشانہ بنانا ہے۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک امریکی فوجی تنصیبات کی میزبانی کرتے ہیں، تاہم ایران نے ہوائی اڈوں، ہوٹلوں اور بندرگاہوں جیسی سویلین تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا ہے۔</p>
<p>دبئی میڈیا آفس کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایکس (ٹویٹر) پر ایک بیان میں مخصوص مقامات کے لیے پروازوں کی بتدریج بحالی کا اشارہ دیا ہے۔ ایمریٹس ایئر لائن نے کہا ہے کہ وہ حملے کے بعد گرینج ٹائم کے مطابق صبح 6 بجے آپریشن جزوی طور پر شروع کرنے کی توقع رکھتی ہے۔ اس حملے میں ہوائی اڈے کے قریب ایک فیول ٹینک متاثر ہوا تھا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایمریٹس اور اس کی پارٹنر ایئر لائن فلائی دبئی نے کچھ پروازیں منسوخ اور عارضی طور پر معطل کیں، جبکہ کچھ پروازوں کا رخ المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا گیا۔</p>
<p>28 فروری سے اب تک خلیجی عرب ممالک کو 2,000 سے زائد میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن میں امریکی سفارتی مشنز اور فوجی اڈوں کے علاوہ تیل کی اہم تنصیبات، گھروں اور دفاتر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات جس نے 2020 میں ایران کے حریف اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کیے تھے، ان حملوں کا سب سے زیادہ نشانہ بنا ہے، تاہم تمام خلیجی عرب ریاستیں متاثر ہوئی ہیں اور ان سب نے ایران کی مذمت کی ہے۔ اس سے قبل 11 مارچ کو بھی دو ڈرونز بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب گرے تھے، جبکہ تنازع کے پہلے دن بھی ایرانی حملے میں ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283940</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Mar 2026 21:23:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/1610420470ae2f4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/1610420470ae2f4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
