<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:00:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شپنگ لائنز نے وار رسک سرچارجز عائد کر دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283932/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;علاقائی جیوپولیٹیکل کشیدگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شپنگ لائنز مبینہ طور پر ‘وار رسک اینڈ ایمرجنسی کنفلکٹ سرچارجز (ای سی ایس)’ عائد کر رہی ہیں، حالانکہ یہ چارجز اُن جہازوں یا مال کی ترسیل پر بھی لگائے جا رہے ہیں جو پہلے ہی روانہ ہو چکے تھے یا 28 فروری 2026 سے قبل ٹرانزٹ میں تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کاروباری حلقوں نے اس غیر منصفانہ مالی بوجھ کی نشاندہی کسٹمز حکام کے سامنے کی، جس پر انہیں شدید تشویش ہوئی۔ تاجروں نے بتایا کہ شپنگ لائنز ای سی ایس اس مال پر بھی وصول کر رہی ہیں جو موجودہ علاقائی بحران کے شروع ہونے سے قبل روانہ ہو چکا تھا یا ٹرانزٹ میں داخل ہو چکا تھا، جسے تجارتی لحاظ سے غیر اخلاقی اور مواقع پرستی پر مبنی اقدام قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید احتجاج کے بعد کسٹمز کلکٹریٹ نے ہدایت جاری کی کہ تمام شپنگ لائنز اور ان کے مقامی ایجنٹس فوری طور پر ایسے کسی بھی سرچارج کو روکیں، وصول نہ کریں، نہ مانگیں اور نہ ہی برقرار رکھیں، جو 28 فروری 2026 سے قبل روانہ ہو چکے سامان، ٹرانزٹ میں موجود مال یا بندرگاہوں پر پہنچ چکے مال پر لگایا جا رہا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے واضح کیا کہ  کشیدگی کے آغاز سے قبل روانہ مال پر بعد ازاں چارج عائد کرنا بالکل غیر منصفانہ ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کلیکٹریٹ نے کاروباری حلقوں سے کہا کہ اگر کسی صورت میں یہ رقم پہلے ہی طلب یا وصول کی گئی ہو تو دستاویزی شواہد فراہم کریں، تاکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک علیحدہ لیکن متعلقہ سرکلر میں کلیکٹریٹ نے تسلیم کیا کہ تاجروں کی جانب سے شپنگ لائنز، کیریئرز اور ان کے ایجنٹس کی غیر شفاف اور مواقع پرستی پر مبنی قیمتوں کے بارے میں متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان چارجز میں شفافیت نہیں تھی اور یہ موجودہ جنگ جیسے حالات کا فائدہ اٹھا کر لاگت میں مصنوعی اضافہ کرنے کے لیے لگائے جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے جواب میں کلیکٹریٹ نے تمام سمندری اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت دی کہ وہ غیر شفاف یا استحصالی قیمتوں سے گریز کریں اور تمام چارجز کو برآمد کنندگان، درآمد کنندگان اور متعلقہ فریقین کے ساتھ واضح اور پیشگی طور پر شیئر کریں، نیز کسٹمز دفتر کے لیے ریکارڈ بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے خبردار کیا کہ کسی بھی ہدایت کی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور سخت کارروائی کی جائے گی، اور حکومت نے علاقائی عدم استحکام کے دوران کاروباری برادری کو غیر ضروری مالی استحصال سے بچانے کا عزم ظاہر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>علاقائی جیوپولیٹیکل کشیدگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے شپنگ لائنز مبینہ طور پر ‘وار رسک اینڈ ایمرجنسی کنفلکٹ سرچارجز (ای سی ایس)’ عائد کر رہی ہیں، حالانکہ یہ چارجز اُن جہازوں یا مال کی ترسیل پر بھی لگائے جا رہے ہیں جو پہلے ہی روانہ ہو چکے تھے یا 28 فروری 2026 سے قبل ٹرانزٹ میں تھے۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کاروباری حلقوں نے اس غیر منصفانہ مالی بوجھ کی نشاندہی کسٹمز حکام کے سامنے کی، جس پر انہیں شدید تشویش ہوئی۔ تاجروں نے بتایا کہ شپنگ لائنز ای سی ایس اس مال پر بھی وصول کر رہی ہیں جو موجودہ علاقائی بحران کے شروع ہونے سے قبل روانہ ہو چکا تھا یا ٹرانزٹ میں داخل ہو چکا تھا، جسے تجارتی لحاظ سے غیر اخلاقی اور مواقع پرستی پر مبنی اقدام قرار دیا گیا۔</p>
<p>شدید احتجاج کے بعد کسٹمز کلکٹریٹ نے ہدایت جاری کی کہ تمام شپنگ لائنز اور ان کے مقامی ایجنٹس فوری طور پر ایسے کسی بھی سرچارج کو روکیں، وصول نہ کریں، نہ مانگیں اور نہ ہی برقرار رکھیں، جو 28 فروری 2026 سے قبل روانہ ہو چکے سامان، ٹرانزٹ میں موجود مال یا بندرگاہوں پر پہنچ چکے مال پر لگایا جا رہا ہو۔</p>
<p>حکام نے واضح کیا کہ  کشیدگی کے آغاز سے قبل روانہ مال پر بعد ازاں چارج عائد کرنا بالکل غیر منصفانہ ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔ کلیکٹریٹ نے کاروباری حلقوں سے کہا کہ اگر کسی صورت میں یہ رقم پہلے ہی طلب یا وصول کی گئی ہو تو دستاویزی شواہد فراہم کریں، تاکہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مناسب کارروائی کی جا سکے۔</p>
<p>ایک علیحدہ لیکن متعلقہ سرکلر میں کلیکٹریٹ نے تسلیم کیا کہ تاجروں کی جانب سے شپنگ لائنز، کیریئرز اور ان کے ایجنٹس کی غیر شفاف اور مواقع پرستی پر مبنی قیمتوں کے بارے میں متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان چارجز میں شفافیت نہیں تھی اور یہ موجودہ جنگ جیسے حالات کا فائدہ اٹھا کر لاگت میں مصنوعی اضافہ کرنے کے لیے لگائے جا رہے تھے۔</p>
<p>اس کے جواب میں کلیکٹریٹ نے تمام سمندری اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت دی کہ وہ غیر شفاف یا استحصالی قیمتوں سے گریز کریں اور تمام چارجز کو برآمد کنندگان، درآمد کنندگان اور متعلقہ فریقین کے ساتھ واضح اور پیشگی طور پر شیئر کریں، نیز کسٹمز دفتر کے لیے ریکارڈ بنائیں۔</p>
<p>حکام نے خبردار کیا کہ کسی بھی ہدایت کی خلاف ورزی کو سنجیدگی سے لیا جائے گا اور سخت کارروائی کی جائے گی، اور حکومت نے علاقائی عدم استحکام کے دوران کاروباری برادری کو غیر ضروری مالی استحصال سے بچانے کا عزم ظاہر کیا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283932</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Mar 2026 09:28:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/16092540fcfee53.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/16092540fcfee53.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
