<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Commodities</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:39:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ سے متاثرہ منڈیوں میں جلد ہنگامی تیل فراہم کیا جائے گا، عالمی توانائی ایجنسی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283930/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے پر قابو پانے کے لیے ہنگامی ذخائر سے 400 ملین بیرل سے زائد تیل جلد عالمی منڈی میں جاری کیا جائے گا۔ ادارے نے اس منصوبے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ایشیا اور اوشیانا کے ممالک کے ذخائر فوری طور پر دستیاب ہوں گے جبکہ یورپ اور امریکا کے ذخائر مارچ کے آخر تک مارکیٹ میں فراہم کیے جائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق حکومتوں نے مجموعی طور پر 271.7 ملین بیرل تیل سرکاری ذخائر سے جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ 116.6 ملین بیرل لازمی صنعتی ذخائر سے فراہم کیے جائیں گے اور 23.6 ملین بیرل دیگر ذرائع سے حاصل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق اس اعلان کردہ ذخیرے کا بڑا حصہ امریکا اور دیگر امریکی خطے کے رکن ممالک فراہم کریں گے، جہاں سے مجموعی طور پر 195.8 ملین بیرل تیل جاری کیا جائے گا، جن میں 172.2 ملین بیرل سرکاری ذخائر سے ہوں گے۔ ایشیا اور اوشیانا کے ممالک 108.6 ملین بیرل جبکہ یورپی ممالک 107.5 ملین بیرل تیل فراہم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے کے مطابق جاری کیے جانے والے ذخائر میں 72 فیصد خام تیل جبکہ 28 فیصد تیل کی مصنوعات شامل ہوں گی۔ یہ اقدام آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی توانائی ایجنسی 1974 میں تیل کے عالمی بحران کے بعد قائم کی گئی تھی اور مغربی معیشتیں اپنے اسٹریٹجک تیل ذخائر اسی ادارے کے ذریعے ہم آہنگ کرتی ہیں۔ ادارے کے قیام کے بعد یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ رکن ممالک نے مشترکہ طور پر تیل کے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت رکن ممالک کے پاس 1.2 ارب بیرل سے زائد ہنگامی تیل ذخائر موجود ہیں جبکہ حکومتوں کی نگرانی میں صنعت کے پاس تقریباً 600 ملین بیرل اضافی ذخیرہ بھی موجود ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ ایران جنگ کے آغاز کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے پر قابو پانے کے لیے ہنگامی ذخائر سے 400 ملین بیرل سے زائد تیل جلد عالمی منڈی میں جاری کیا جائے گا۔ ادارے نے اس منصوبے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ایشیا اور اوشیانا کے ممالک کے ذخائر فوری طور پر دستیاب ہوں گے جبکہ یورپ اور امریکا کے ذخائر مارچ کے آخر تک مارکیٹ میں فراہم کیے جائیں گے۔</strong></p>
<p>ادارے کے مطابق حکومتوں نے مجموعی طور پر 271.7 ملین بیرل تیل سرکاری ذخائر سے جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے، جبکہ 116.6 ملین بیرل لازمی صنعتی ذخائر سے فراہم کیے جائیں گے اور 23.6 ملین بیرل دیگر ذرائع سے حاصل ہوں گے۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق اس اعلان کردہ ذخیرے کا بڑا حصہ امریکا اور دیگر امریکی خطے کے رکن ممالک فراہم کریں گے، جہاں سے مجموعی طور پر 195.8 ملین بیرل تیل جاری کیا جائے گا، جن میں 172.2 ملین بیرل سرکاری ذخائر سے ہوں گے۔ ایشیا اور اوشیانا کے ممالک 108.6 ملین بیرل جبکہ یورپی ممالک 107.5 ملین بیرل تیل فراہم کریں گے۔</p>
<p>ادارے کے مطابق جاری کیے جانے والے ذخائر میں 72 فیصد خام تیل جبکہ 28 فیصد تیل کی مصنوعات شامل ہوں گی۔ یہ اقدام آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل اور گیس کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>بین الاقوامی توانائی ایجنسی 1974 میں تیل کے عالمی بحران کے بعد قائم کی گئی تھی اور مغربی معیشتیں اپنے اسٹریٹجک تیل ذخائر اسی ادارے کے ذریعے ہم آہنگ کرتی ہیں۔ ادارے کے قیام کے بعد یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ رکن ممالک نے مشترکہ طور پر تیل کے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت رکن ممالک کے پاس 1.2 ارب بیرل سے زائد ہنگامی تیل ذخائر موجود ہیں جبکہ حکومتوں کی نگرانی میں صنعت کے پاس تقریباً 600 ملین بیرل اضافی ذخیرہ بھی موجود ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283930</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Mar 2026 09:07:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/1609035435bbf6f.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/1609035435bbf6f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
