<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ تنازع کے باعث برآمدی تنصیبات کو خطرہ، خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283928/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جنگ کے باعث خطے کے اہم تیل کے بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی رسد کو شدید متاثر کیا ہے، جسے تیل کی فراہمی میں اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے فیوچر کی قیمت 2.01 ڈالر یا 1.95 فیصد اضافے کے ساتھ 105.15 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس سے قبل جمعے کے روز یہ قیمت 2.68 ڈالر بڑھ کر بند ہوئی تھی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.61 ڈالر یا 1.63 فیصد اضافے کے ساتھ 100.32 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ گزشتہ سیشن میں اس میں تقریباً 3 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے دوران دونوں بینچ مارک تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے اور یہ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تہران کی طرف سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت روک دینا ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی تیل کی فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام پر ایران کے فوجی اہداف پر حملوں کے بعد مزید کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے ایران کے خارگ جزیرے کے تیل برآمدی مرکز کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا۔ یہ جزیرہ ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات سنبھالتا ہے۔ ایران نے اس دھمکی کے جواب میں مزید جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی ڈرونز نے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ میں واقع ایک اہم آئل ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق حملے کے بعد تیل لوڈنگ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ آپریشن مکمل طور پر معمول پر آ چکا ہے یا نہیں۔ فجیرہ آبنائے ہرمز سے باہر واقع ایک اہم برآمدی مرکز ہے جہاں سے متحدہ عرب امارات کا مرَبن خام تیل برآمد کیا جاتا ہے، جس کی مقدار تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے 400 ملین بیرل سے زائد تیل کے ذخائر عالمی منڈی میں جاری کیے جائیں گے۔ ایشیا اور اوشیانا کے ذخائر فوری طور پر فراہم کیے جائیں گے جبکہ یورپ اور امریکا کے ذخائر مارچ کے آخر تک مارکیٹ میں آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق جنگ کے طول پکڑنے اور کسی واضح سفارتی حل کے سامنے نہ آنے کے باعث عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے اور توانائی کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ تاہم امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ آئندہ چند ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے جس کے بعد تیل کی فراہمی بحال اور توانائی کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیر کے روز مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جنگ کے باعث خطے کے اہم تیل کے بنیادی ڈھانچے کو خطرات لاحق ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی رسد کو شدید متاثر کیا ہے، جسے تیل کی فراہمی میں اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے فیوچر کی قیمت 2.01 ڈالر یا 1.95 فیصد اضافے کے ساتھ 105.15 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اس سے قبل جمعے کے روز یہ قیمت 2.68 ڈالر بڑھ کر بند ہوئی تھی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.61 ڈالر یا 1.63 فیصد اضافے کے ساتھ 100.32 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ گزشتہ سیشن میں اس میں تقریباً 3 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔</p>
<p>رواں ماہ کے دوران دونوں بینچ مارک تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے اور یہ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تہران کی طرف سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت روک دینا ہے۔ یہ گزرگاہ عالمی تیل کی فراہمی کا تقریباً پانچواں حصہ منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام پر ایران کے فوجی اہداف پر حملوں کے بعد مزید کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے ایران کے خارگ جزیرے کے تیل برآمدی مرکز کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا۔ یہ جزیرہ ایران کی تقریباً 90 فیصد تیل برآمدات سنبھالتا ہے۔ ایران نے اس دھمکی کے جواب میں مزید جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>ایرانی ڈرونز نے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ میں واقع ایک اہم آئل ٹرمینل کو بھی نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق حملے کے بعد تیل لوڈنگ کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ آپریشن مکمل طور پر معمول پر آ چکا ہے یا نہیں۔ فجیرہ آبنائے ہرمز سے باہر واقع ایک اہم برآمدی مرکز ہے جہاں سے متحدہ عرب امارات کا مرَبن خام تیل برآمد کیا جاتا ہے، جس کی مقدار تقریباً 10 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔</p>
<p>دریں اثنا بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث قیمتوں میں اضافے کو روکنے کے لیے 400 ملین بیرل سے زائد تیل کے ذخائر عالمی منڈی میں جاری کیے جائیں گے۔ ایشیا اور اوشیانا کے ذخائر فوری طور پر فراہم کیے جائیں گے جبکہ یورپ اور امریکا کے ذخائر مارچ کے آخر تک مارکیٹ میں آئیں گے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق جنگ کے طول پکڑنے اور کسی واضح سفارتی حل کے سامنے نہ آنے کے باعث عالمی منڈیوں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے اور توانائی کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ تاہم امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے امید ظاہر کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ آئندہ چند ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے جس کے بعد تیل کی فراہمی بحال اور توانائی کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283928</guid>
      <pubDate>Mon, 16 Mar 2026 08:49:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/16084635d26805f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/16084635d26805f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
