<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر کی صدرِ مملکت کے پاس اپیل، ٹیکس تنازعے کے متبادل حل کا فیصلہ چیلنج کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283917/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کے اس فیصلے کے خلاف صدر مملکت کے پاس اپیل دائر کر دی ہے، جس میں ٹیکس تنازعات کو متبادل حل (اے ڈی آر سی) کے ذریعے نمٹانے کی حمایت کی گئی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر پر الزام ہے کہ وہ جان بوجھ کر اس قانون کی روح کو نقصان پہنچا رہا ہے جو وزیراعظم کا عدالت سے باہر تنازعات حل کرنے اور ٹیکس گزاروں کو طویل قانونی چارہ جوئی سے بچانے کا ایک اہم اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے سامنے رکھی گئی تفصیلات کے مطابق ایڈوس  پاکستان لمیٹڈ کے کیس میں ایف بی آر نے طریقہ کار میں رکاوٹیں ڈال کراے ڈی آر سی کے عمل کو غیر موثر بنا دیا۔ ایف ٹی او نے اپنی تحقیقات میں انکشاف کیا کہ 2025 میں تشکیل دی گئی کمیٹی ریکارڈ کی عدم تکمیل اور انتظامی غفلت کی وجہ سے بغیر کسی فیصلے کے تحلیل ہو گئی۔ ایف ٹی او نے سفارش کی تھی کہ شکایت کنندہ کی رضامندی سے نئی کمیٹی بنائی جائے اور شفافیت کے لیے باقاعدہ ایس او پیزوضع کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایف بی آر نے ان سفارشات پر عمل کرنے کے بجائے صدرِ پاکستان سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کا یہ رویہ نہ صرف حکومتی پالیسی کی نفی ہے بلکہ اس سے قومی خزانے کے وسائل بھی فضول قانونی چارہ جوئی کی نذر ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کمیٹی اور متعلقہ حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس ادارے کی جوابدہی کو یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا گیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کے اس فیصلے کے خلاف صدر مملکت کے پاس اپیل دائر کر دی ہے، جس میں ٹیکس تنازعات کو متبادل حل (اے ڈی آر سی) کے ذریعے نمٹانے کی حمایت کی گئی تھی۔</strong></p>
<p>ایف بی آر پر الزام ہے کہ وہ جان بوجھ کر اس قانون کی روح کو نقصان پہنچا رہا ہے جو وزیراعظم کا عدالت سے باہر تنازعات حل کرنے اور ٹیکس گزاروں کو طویل قانونی چارہ جوئی سے بچانے کا ایک اہم اقدام ہے۔</p>
<p>کمیٹی کے سامنے رکھی گئی تفصیلات کے مطابق ایڈوس  پاکستان لمیٹڈ کے کیس میں ایف بی آر نے طریقہ کار میں رکاوٹیں ڈال کراے ڈی آر سی کے عمل کو غیر موثر بنا دیا۔ ایف ٹی او نے اپنی تحقیقات میں انکشاف کیا کہ 2025 میں تشکیل دی گئی کمیٹی ریکارڈ کی عدم تکمیل اور انتظامی غفلت کی وجہ سے بغیر کسی فیصلے کے تحلیل ہو گئی۔ ایف ٹی او نے سفارش کی تھی کہ شکایت کنندہ کی رضامندی سے نئی کمیٹی بنائی جائے اور شفافیت کے لیے باقاعدہ ایس او پیزوضع کیے جائیں۔</p>
<p>تاہم ایف بی آر نے ان سفارشات پر عمل کرنے کے بجائے صدرِ پاکستان سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کا یہ رویہ نہ صرف حکومتی پالیسی کی نفی ہے بلکہ اس سے قومی خزانے کے وسائل بھی فضول قانونی چارہ جوئی کی نذر ہو رہے ہیں۔</p>
<p>سینیٹ کمیٹی اور متعلقہ حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس ادارے کی جوابدہی کو یقینی بنائیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283917</guid>
      <pubDate>Sun, 15 Mar 2026 14:45:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/15142305b58eca5.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/15142305b58eca5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
