<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 12:40:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر ٹرمپ نے ایران کے جزیرہ خارگ پر مزید حملوں کی دھمکی دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283912/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جزیرہ خارگ میں تیل کی برآمدات کے مرکز پر مزید حملوں کی دھمکی دی اور اتحادیوں سے آبنائے ہرمز میں  جہاز بھیجنے کی اپیل کی تاکہ بحری راستے محفوظ ہوں، جب کہ تہران نے اپنے ردعمل کو بڑھانے کا عندیہ دیا ہے اور جنگ کے ختم ہونے کے آثار نہیں دکھائی دے رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حملوں نے خارگ جزیرہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ ہم مزید کچھ بار حملہ کر سکتے ہیں۔امریکی صدر نے ایران کے ساتھ معاملہ طے کرنے کی تیاری کے آثار ظاہر کیے مگر کہا کہ شرائط ابھی کافی مناسب نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران تہران نے آبنائے ہرمز  کے ذریعے تیل کی روانی روکنے کی صلاحیت کا اظہار کیا، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ جنگ کے باعث تیل کی رسد میں سب سے بڑا خلل پیدا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ دونوں فریق طویل لڑائی کے لیے تیار دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران نے کسی قسم کی جنگ بندی کو مسترد کیا اور کہا کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے ختم ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ایرانی افواج نے حملے جاری رکھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو متحدہ عرب امارات میں ڈرون حملے سے توانائی کے ایک اہم مرکز پر اثر پڑا اور امریکہ نے بغداد میں حملے کے بعد اپنے شہریوں کو عراق چھوڑنے کی ہدایت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جزیرہ خارگ پر امریکی حملے زیادہ تر فوجی مقامات پر ہوئے جبکہ ایران نے تیل کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے پر جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 90 سے زائد مقامات نشانہ بنائے گئے جن میں بحری مین اسٹوریج، میزائل اسٹوریج بنکر اور دیگر فوجی اہداف شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے دبئی کے جبل علی، ابوظہبی کے خلیفہ پورٹ اور فجیرہ پورٹ کے نزدیک رہائشی علاقوں سے نکل جانے کی وارننگ دی اور خلیج میں امریکی بینکوں کی شاخوں کو نشانہ بنانے کا کہا۔ فجیرہ سے تقریباً ایک ملین بیرل یومیہ مربان خام تیل برآمد ہوتا ہے جو عالمی طلب کا تقریباً ایک فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جزیرہ خارگ میں تیل کی برآمدات کے مرکز پر مزید حملوں کی دھمکی دی اور اتحادیوں سے آبنائے ہرمز میں  جہاز بھیجنے کی اپیل کی تاکہ بحری راستے محفوظ ہوں، جب کہ تہران نے اپنے ردعمل کو بڑھانے کا عندیہ دیا ہے اور جنگ کے ختم ہونے کے آثار نہیں دکھائی دے رہے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حملوں نے خارگ جزیرہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور مزید حملے کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ ہم مزید کچھ بار حملہ کر سکتے ہیں۔امریکی صدر نے ایران کے ساتھ معاملہ طے کرنے کی تیاری کے آثار ظاہر کیے مگر کہا کہ شرائط ابھی کافی مناسب نہیں ہیں۔</p>
<p>اس دوران تہران نے آبنائے ہرمز  کے ذریعے تیل کی روانی روکنے کی صلاحیت کا اظہار کیا، جو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔ توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ جنگ کے باعث تیل کی رسد میں سب سے بڑا خلل پیدا ہوا ہے۔</p>
<p>جنگ کے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ دونوں فریق طویل لڑائی کے لیے تیار دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران نے کسی قسم کی جنگ بندی کو مسترد کیا اور کہا کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے ختم ہونے تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ ایرانی افواج نے حملے جاری رکھے ہیں۔</p>
<p>اتوار کو متحدہ عرب امارات میں ڈرون حملے سے توانائی کے ایک اہم مرکز پر اثر پڑا اور امریکہ نے بغداد میں حملے کے بعد اپنے شہریوں کو عراق چھوڑنے کی ہدایت دی۔</p>
<p>جزیرہ خارگ پر امریکی حملے زیادہ تر فوجی مقامات پر ہوئے جبکہ ایران نے تیل کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے پر جوابی کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 90 سے زائد مقامات نشانہ بنائے گئے جن میں بحری مین اسٹوریج، میزائل اسٹوریج بنکر اور دیگر فوجی اہداف شامل تھے۔</p>
<p>ایران نے دبئی کے جبل علی، ابوظہبی کے خلیفہ پورٹ اور فجیرہ پورٹ کے نزدیک رہائشی علاقوں سے نکل جانے کی وارننگ دی اور خلیج میں امریکی بینکوں کی شاخوں کو نشانہ بنانے کا کہا۔ فجیرہ سے تقریباً ایک ملین بیرل یومیہ مربان خام تیل برآمد ہوتا ہے جو عالمی طلب کا تقریباً ایک فیصد ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283912</guid>
      <pubDate>Sun, 15 Mar 2026 12:27:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/151224322aa755b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/151224322aa755b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
