<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:41:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:41:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے عالمی وعدوں کے مطابق قومی بایو ڈائیورسٹی اہداف مقرر کرلئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283906/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے دو روزہ اعلیٰ سطح اجلاس کے اختتام پر عالمی وعدوں کے مطابق اپنے قومی بایو ڈائیورسٹی اہداف کو حتمی شکل دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اجلاس وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے زیر اہتمام منعقد ہوا جس کی صدارت سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی عائشہ حمیرا چوہدری نے کی۔ اجلاس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے نمائندوں کے علاوہ دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر 2022 میں مختلف حکومتوں نے حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے اور اسے واپس بحال کرنے کے لیے ایک مشترکہ منصوبے پر اتفاق کیا تھا جسے کنمنگ–مونٹریال گلوبل بایو ڈائیورسٹی فریم ورک کہا جاتا ہے۔ اس فریم ورک کو دنیا کے 196 ممالک نے اختیار کیا، جسے اقوام متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام فطرت کے تحفظ کے لیے دنیا کا سب سے جامع منصوبہ قرار دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس عالمی فریم ورک کے تحت اس دہائی کے دوران مختلف اہداف مقرر کیے گئے ہیں جن میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے مالی وسائل کو متحرک کرنا، آلودگی میں کمی لانا اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو یقینی بنانا شامل ہے تاکہ صدی کے وسط تک مختلف انواع کی بحالی ممکن ہو سکے اور جینیاتی تنوع محفوظ رکھا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت ممالک نے 2030 تک حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے اور اس کا رخ موڑنے جبکہ 2050 تک فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارنے کا عہد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہفتہ کو جاری کیے گئے سرکاری بیان کے مطابق پاکستان کی جانب سے قومی بایو ڈائیورسٹی اہداف کو حتمی شکل دینا عالمی بایو ڈائیورسٹی وعدوں کی تکمیل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے اور یہ کنمنگ–مونٹریال گلوبل بایو ڈائیورسٹی فریم ورک کے مطابق ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان اہداف کو ملک بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سے وسیع مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان کے مطابق ان اہداف کو عالمی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی بایو ڈائیورسٹی سے متعلق ترجیحات نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کی ضروریات کو پورا کریں بلکہ وسیع تر ترقیاتی مقاصد کے ساتھ بھی مطابقت رکھیں۔ مشاورتی عمل کے دوران ایسے جامع اہداف کی نشاندہی کی گئی جن میں ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال، بایو ڈائیورسٹی کے لیے مالی وسائل اور جامع حکمرانی جیسے پہلو شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اہداف کے ذریعے پاکستان کے بایو ڈائیورسٹی سے متعلق اہداف کی نگرانی اور پیش رفت کی رپورٹنگ کے لیے ایک واضح فریم ورک فراہم کیا جائے گا، جس سے قومی اور عالمی سطح پر تحفظ فطرت کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔ بیان کے مطابق نئے اہداف آئندہ برسوں میں پاکستان کے بایو ڈائیورسٹی اقدامات کی رہنمائی کریں گے اور نظرثانی شدہ قومی بایو ڈائیورسٹی اسٹریٹجی اور ایکشن پلان 2026 تا 2030 کے نفاذ میں معاون ثابت ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد بایو ڈائیورسٹی کے تحفظ کو مضبوط بنانا، ماحولیاتی نظام کی لچک میں اضافہ کرنا اور عالمی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے کی کوششوں میں حصہ ڈالنا ہے۔ ان قومی اہداف میں 2030 تک زمینی اور سمندری علاقوں کے 30 فیصد حصے کے تحفظ، نقصان دہ بیرونی انواع پر قابو پانے اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کو فروغ دینے جیسے اہم اقدامات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے دو روزہ اعلیٰ سطح اجلاس کے اختتام پر عالمی وعدوں کے مطابق اپنے قومی بایو ڈائیورسٹی اہداف کو حتمی شکل دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اجلاس وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کے زیر اہتمام منعقد ہوا جس کی صدارت سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی عائشہ حمیرا چوہدری نے کی۔ اجلاس میں وفاقی اور صوبائی اداروں کے نمائندوں کے علاوہ دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی۔</strong></p>
<p>عالمی سطح پر 2022 میں مختلف حکومتوں نے حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے اور اسے واپس بحال کرنے کے لیے ایک مشترکہ منصوبے پر اتفاق کیا تھا جسے کنمنگ–مونٹریال گلوبل بایو ڈائیورسٹی فریم ورک کہا جاتا ہے۔ اس فریم ورک کو دنیا کے 196 ممالک نے اختیار کیا، جسے اقوام متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام فطرت کے تحفظ کے لیے دنیا کا سب سے جامع منصوبہ قرار دیتا ہے۔</p>
<p>اس عالمی فریم ورک کے تحت اس دہائی کے دوران مختلف اہداف مقرر کیے گئے ہیں جن میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے مالی وسائل کو متحرک کرنا، آلودگی میں کمی لانا اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو یقینی بنانا شامل ہے تاکہ صدی کے وسط تک مختلف انواع کی بحالی ممکن ہو سکے اور جینیاتی تنوع محفوظ رکھا جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت ممالک نے 2030 تک حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے اور اس کا رخ موڑنے جبکہ 2050 تک فطرت کے ساتھ ہم آہنگ زندگی گزارنے کا عہد کیا ہے۔</p>
<p>ہفتہ کو جاری کیے گئے سرکاری بیان کے مطابق پاکستان کی جانب سے قومی بایو ڈائیورسٹی اہداف کو حتمی شکل دینا عالمی بایو ڈائیورسٹی وعدوں کی تکمیل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے اور یہ کنمنگ–مونٹریال گلوبل بایو ڈائیورسٹی فریم ورک کے مطابق ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان اہداف کو ملک بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں سے وسیع مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔</p>
<p>بیان کے مطابق ان اہداف کو عالمی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے تاکہ پاکستان کی بایو ڈائیورسٹی سے متعلق ترجیحات نہ صرف ماحولیاتی تحفظ کی ضروریات کو پورا کریں بلکہ وسیع تر ترقیاتی مقاصد کے ساتھ بھی مطابقت رکھیں۔ مشاورتی عمل کے دوران ایسے جامع اہداف کی نشاندہی کی گئی جن میں ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی، قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال، بایو ڈائیورسٹی کے لیے مالی وسائل اور جامع حکمرانی جیسے پہلو شامل ہیں۔</p>
<p>ان اہداف کے ذریعے پاکستان کے بایو ڈائیورسٹی سے متعلق اہداف کی نگرانی اور پیش رفت کی رپورٹنگ کے لیے ایک واضح فریم ورک فراہم کیا جائے گا، جس سے قومی اور عالمی سطح پر تحفظ فطرت کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔ بیان کے مطابق نئے اہداف آئندہ برسوں میں پاکستان کے بایو ڈائیورسٹی اقدامات کی رہنمائی کریں گے اور نظرثانی شدہ قومی بایو ڈائیورسٹی اسٹریٹجی اور ایکشن پلان 2026 تا 2030 کے نفاذ میں معاون ثابت ہوں گے۔</p>
<p>پریس ریلیز کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد بایو ڈائیورسٹی کے تحفظ کو مضبوط بنانا، ماحولیاتی نظام کی لچک میں اضافہ کرنا اور عالمی سطح پر حیاتیاتی تنوع کے نقصان کو روکنے کی کوششوں میں حصہ ڈالنا ہے۔ ان قومی اہداف میں 2030 تک زمینی اور سمندری علاقوں کے 30 فیصد حصے کے تحفظ، نقصان دہ بیرونی انواع پر قابو پانے اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کو فروغ دینے جیسے اہم اقدامات شامل ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283906</guid>
      <pubDate>Sun, 15 Mar 2026 11:25:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سردار سکندر شاہین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/15112035d5a262c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/15112035d5a262c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
