<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک میں نقد رقم کی آمد میں تقریباً 50 فیصد کمی، ہوائی سفر میں خلل وجہ قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283902/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں بیرون ملک سے آنے والی نقد رقم تقریباً 50 فیصد کم ہو گئی ہے، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث ہوائی سفر میں خلل بتایا گیا ہے۔ پاکستان ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی وقتی طور پر بینکنگ چینلز کے ذریعے ریمیٹنس میں اضافہ کر سکتی ہے، لیکن اگر صورتحال طویل ہو گئی تو مجموعی ترسیلات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بوستان نے بتایا کہ رمضان کے مہینے میں پاکستان میں عموماً بیرون ملک مقیم پاکستانی عید کے لیے واپس آتے ہیں اور نقد رقم ساتھ لاتے ہیں۔ اس دوران اوسطاً 15 سے 20 ملین امریکی ڈالر نقد ملک میں لائے جاتے ہیں، کیونکہ ایکسچینج کمپنیاں بینکوں کے مقابلے میں تقریباً ایک فیصد بہتر شرح فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، اس سال نقد رقم کی آمد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، کیونکہ بہت سے مسافر مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں اور ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نقد رقم کی آمد تقریباً 50 فیصد کم ہو کر 7 ملین امریکی ڈالر رہ گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال رمضان کے دوران معمول کے مطابق آنے والے سیزنل اضافے کو کم کر رہی ہے۔ ملک بوستان نے نشاندہی کی کہ عموماً رمضان میں ریمیٹنس اور نقد رقم کی آمد میں سالانہ 15 سے 20 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ نقد رقم میں کمی کے باوجود ممکن ہے کہ بینکنگ چینلز کے ذریعے رسمی ریمیٹنس میں وقتی اضافہ ہو، جو اس ماہ مجموعی ترسیلات کو تقریباً 4 ارب امریکی ڈالر تک لے جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں تنازع طویل ہو گیا تو پاکستانی کارکنان کے لیے روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد ترسیلات مشرق وسطیٰ خصوصاً متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے آتی ہیں۔ اگر صورتحال برقرار رہی اور ملازمتیں متاثر ہوئیں تو ترسیلات کی آمد پر اثر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ ہفتے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا کہ پاکستان خطے کے تنازع میں براہ راست ملوث نہیں ہے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ خطے میں طویل غیر یقینی صورتحال مہنگائی، بیرونی مالی معاونت، ترسیلات اور کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس پر اثر ڈال سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران مجموعی ترسیلات 26.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جن میں سے 14.136 ارب امریکی ڈالر مشرق وسطیٰ سے موصول ہوئے، جبکہ پچھلے سال اسی مدت میں ترسیلات 23.97 ارب امریکی ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک نے سعودی عرب سے 6.168 ارب امریکی ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے 5.443 ارب امریکی ڈالر وصول کیے، جن میں سے 4.165 ارب دبئی، 1.076 ارب ابوظہبی، 84.4 ملین شارجہ اور 117.4 ملین دیگر شامل ہیں۔ مزید 2.525 ارب امریکی ڈالر دیگر خلیجی ممالک سے موصول ہوئے، جن میں سے 839.2 ملین عمان، 745.4 ملین قطر، 579 ملین کویت اور 361.7 ملین بحرین سے آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں بیرون ملک سے آنے والی نقد رقم تقریباً 50 فیصد کم ہو گئی ہے، جس کی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث ہوائی سفر میں خلل بتایا گیا ہے۔ پاکستان ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے بزنس ریکارڈر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی وقتی طور پر بینکنگ چینلز کے ذریعے ریمیٹنس میں اضافہ کر سکتی ہے، لیکن اگر صورتحال طویل ہو گئی تو مجموعی ترسیلات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔</strong></p>
<p>ملک بوستان نے بتایا کہ رمضان کے مہینے میں پاکستان میں عموماً بیرون ملک مقیم پاکستانی عید کے لیے واپس آتے ہیں اور نقد رقم ساتھ لاتے ہیں۔ اس دوران اوسطاً 15 سے 20 ملین امریکی ڈالر نقد ملک میں لائے جاتے ہیں، کیونکہ ایکسچینج کمپنیاں بینکوں کے مقابلے میں تقریباً ایک فیصد بہتر شرح فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، اس سال نقد رقم کی آمد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، کیونکہ بہت سے مسافر مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پھنسے ہوئے ہیں اور ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ نقد رقم کی آمد تقریباً 50 فیصد کم ہو کر 7 ملین امریکی ڈالر رہ گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال رمضان کے دوران معمول کے مطابق آنے والے سیزنل اضافے کو کم کر رہی ہے۔ ملک بوستان نے نشاندہی کی کہ عموماً رمضان میں ریمیٹنس اور نقد رقم کی آمد میں سالانہ 15 سے 20 فیصد اضافہ ہوتا ہے۔ نقد رقم میں کمی کے باوجود ممکن ہے کہ بینکنگ چینلز کے ذریعے رسمی ریمیٹنس میں وقتی اضافہ ہو، جو اس ماہ مجموعی ترسیلات کو تقریباً 4 ارب امریکی ڈالر تک لے جا سکتا ہے۔</p>
<p>تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں تنازع طویل ہو گیا تو پاکستانی کارکنان کے لیے روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد ترسیلات مشرق وسطیٰ خصوصاً متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے آتی ہیں۔ اگر صورتحال برقرار رہی اور ملازمتیں متاثر ہوئیں تو ترسیلات کی آمد پر اثر پڑے گا۔</p>
<p>وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ ہفتے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا کہ پاکستان خطے کے تنازع میں براہ راست ملوث نہیں ہے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ خطے میں طویل غیر یقینی صورتحال مہنگائی، بیرونی مالی معاونت، ترسیلات اور کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس پر اثر ڈال سکتی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران مجموعی ترسیلات 26.5 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جن میں سے 14.136 ارب امریکی ڈالر مشرق وسطیٰ سے موصول ہوئے، جبکہ پچھلے سال اسی مدت میں ترسیلات 23.97 ارب امریکی ڈالر تھیں۔</p>
<p>ملک نے سعودی عرب سے 6.168 ارب امریکی ڈالر اور متحدہ عرب امارات سے 5.443 ارب امریکی ڈالر وصول کیے، جن میں سے 4.165 ارب دبئی، 1.076 ارب ابوظہبی، 84.4 ملین شارجہ اور 117.4 ملین دیگر شامل ہیں۔ مزید 2.525 ارب امریکی ڈالر دیگر خلیجی ممالک سے موصول ہوئے، جن میں سے 839.2 ملین عمان، 745.4 ملین قطر، 579 ملین کویت اور 361.7 ملین بحرین سے آئے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283902</guid>
      <pubDate>Sun, 15 Mar 2026 10:43:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/151039526d145ad.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/151039526d145ad.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
