<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین معمول کے مطابق فعال ہے، کمیٹی کو بریفنگ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283900/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور توانائی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قائم کمیٹی کا اجلاس ہفتہ کے روز ورچوئل طریقے سے منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کی۔ اجلاس مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے شعبے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے جائزہ اجلاسوں کا حصہ تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران کمیٹی نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ حکام نے اجلاس کو خام تیل اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے قومی ذخائر، جاری درآمدی انتظامات اور سپلائی چین سے متعلق امور پر بریفنگ دی۔ شرکا کو بتایا گیا کہ اس وقت متعدد کارگو راستے میں ہیں جبکہ قومی ذخائر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اضافی درآمدی کھیپوں کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں اور سپلائی چین معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق آنے والے ہفتوں میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں عالمی سطح پر خام تیل اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ خطے میں جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں حالیہ دنوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ اجلاس میں عالمی قیمتوں کے رجحانات، بینچ مارک خام تیل کی حرکت اور ریفائن شدہ مصنوعات کی مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور مختلف ممکنہ بیرونی منظرناموں اور ان کے پاکستان کے توانائی کے شعبے اور معیشت پر ممکنہ اثرات پر بھی غور کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران خام تیل کی درآمدات، ریفائنری آپریشنز اور بحری لاجسٹکس سے متعلق انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کارگو کی نقل و حرکت کو آسان بنانے، ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے اور پیٹرولیم سپلائی چین کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ریفائنریوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی ہموار طریقے سے جاری رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ڈیزل، پیٹرول، ایوی ایشن فیول اور ایل پی جی کی فراہمی کے امکانات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ موجودہ ذخائر اور آئندہ آنے والی درآمدی کھیپیں آئندہ ہفتوں میں ملکی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوں گی۔ حکام مسلسل اسٹاک کی سطح، جہازوں کی آمد کے شیڈول اور ترسیلی نظام کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ مارکیٹ میں بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ایندھن کے موثر استعمال اور طلب کے انتظام سے متعلق مختلف تجاویز کا بھی جائزہ لیا جن کا مقصد عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران درآمدی دباؤ کو کم کرنا ہے۔ اس حوالے سے عوامی شعبے میں توانائی کی بچت اور ایندھن کے ذمہ دارانہ استعمال کے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا تاکہ درآمدات پر دباؤ کم ہو اور معیشت کو استحکام مل سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں پیٹرولیم سپلائی چین کی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے قیام کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے اسٹاک کی سطح، ڈپوؤں اور ریٹیل سپلائی کی صورتحال کو حقیقی وقت میں مانیٹر کیا جا سکے گا، جس سے بہتر نگرانی اور بروقت فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانا ہے جبکہ عوام پر بوجھ کو کم سے کم رکھنے کی کوشش بھی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی توانائی مارکیٹ اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، تاہم بروقت منصوبہ بندی اور مختلف اداروں کے درمیان قریبی تعاون کی بدولت پاکستان میں سپلائی کی صورتحال مستحکم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی عالمی توانائی مارکیٹ، ملکی ذخائر اور سپلائی چین کی صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیتی رہے گی تاکہ ضرورت پڑنے پر بروقت پالیسی فیصلے کیے جا سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور توانائی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قائم کمیٹی کا اجلاس ہفتہ کے روز ورچوئل طریقے سے منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کی۔ اجلاس مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کے شعبے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے جائزہ اجلاسوں کا حصہ تھا۔</strong></p>
<p>اجلاس کے دوران کمیٹی نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ حکام نے اجلاس کو خام تیل اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کے قومی ذخائر، جاری درآمدی انتظامات اور سپلائی چین سے متعلق امور پر بریفنگ دی۔ شرکا کو بتایا گیا کہ اس وقت متعدد کارگو راستے میں ہیں جبکہ قومی ذخائر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اضافی درآمدی کھیپوں کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں اور سپلائی چین معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔ حکام کے مطابق آنے والے ہفتوں میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے مناسب انتظامات کیے گئے ہیں۔</p>
<p>اجلاس میں عالمی سطح پر خام تیل اور ریفائن شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ خطے میں جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں حالیہ دنوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے۔ اجلاس میں عالمی قیمتوں کے رجحانات، بینچ مارک خام تیل کی حرکت اور ریفائن شدہ مصنوعات کی مارکیٹ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور مختلف ممکنہ بیرونی منظرناموں اور ان کے پاکستان کے توانائی کے شعبے اور معیشت پر ممکنہ اثرات پر بھی غور کیا گیا۔</p>
<p>اجلاس کے دوران خام تیل کی درآمدات، ریفائنری آپریشنز اور بحری لاجسٹکس سے متعلق انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ متعلقہ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کارگو کی نقل و حرکت کو آسان بنانے، ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے اور پیٹرولیم سپلائی چین کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ ریفائنریوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی ہموار طریقے سے جاری رہے۔</p>
<p>اجلاس میں ڈیزل، پیٹرول، ایوی ایشن فیول اور ایل پی جی کی فراہمی کے امکانات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ موجودہ ذخائر اور آئندہ آنے والی درآمدی کھیپیں آئندہ ہفتوں میں ملکی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوں گی۔ حکام مسلسل اسٹاک کی سطح، جہازوں کی آمد کے شیڈول اور ترسیلی نظام کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ مارکیٹ میں بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔</p>
<p>کمیٹی نے ایندھن کے موثر استعمال اور طلب کے انتظام سے متعلق مختلف تجاویز کا بھی جائزہ لیا جن کا مقصد عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے دوران درآمدی دباؤ کو کم کرنا ہے۔ اس حوالے سے عوامی شعبے میں توانائی کی بچت اور ایندھن کے ذمہ دارانہ استعمال کے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا تاکہ درآمدات پر دباؤ کم ہو اور معیشت کو استحکام مل سکے۔</p>
<p>اجلاس میں پیٹرولیم سپلائی چین کی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے قیام کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے اسٹاک کی سطح، ڈپوؤں اور ریٹیل سپلائی کی صورتحال کو حقیقی وقت میں مانیٹر کیا جا سکے گا، جس سے بہتر نگرانی اور بروقت فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانا ہے جبکہ عوام پر بوجھ کو کم سے کم رکھنے کی کوشش بھی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ عالمی توانائی مارکیٹ اس وقت شدید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، تاہم بروقت منصوبہ بندی اور مختلف اداروں کے درمیان قریبی تعاون کی بدولت پاکستان میں سپلائی کی صورتحال مستحکم ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی عالمی توانائی مارکیٹ، ملکی ذخائر اور سپلائی چین کی صورتحال کا روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیتی رہے گی تاکہ ضرورت پڑنے پر بروقت پالیسی فیصلے کیے جا سکیں۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283900</guid>
      <pubDate>Sun, 15 Mar 2026 10:20:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (پریس ریلیز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/15101854b94eba5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/15101854b94eba5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
