<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ میں جنگ، آر ایل این جی کی قلت سے پاور سیکٹر شدید متاثر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283899/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے اثرات پاکستان کی توانائی فراہمی پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق قطر میں گیس فیلڈز پر حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار معطل ہونے سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی سپلائی میں نمایاں کمی آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی گھروں کو ملنے والی گیس کم ہو گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ذرائع کے مطابق پاور سیکٹر کو اس وقت تقریباً 300 ایم ایم سی ایف ڈی آر ایل این جی درکار ہے، تاہم سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی جانب سے فراہم کی جانے والی مقدار تقریباً 130 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پوری 130 ایم ایم سی ایف ڈی گیس صرف ایک پاور پلانٹ کو فراہم کی جا رہی ہے۔ پاور ڈویژن کو آگاہ کیا گیا ہے کہ 20 سے 30 مارچ کے دوران آر ایل این جی کی دستیابی مزید کم ہو کر تقریباً 85 ایم ایم سی ایف ڈی تک رہ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں 2015 سے 2018 کے دوران بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے آر ایل این جی پر چلنے والے تین بڑے اور جدید کمبائنڈ سائیکل پاور پلانٹس قائم کیے گئے تھے، جن کی حرارتی کارکردگی 61 فیصد سے زیادہ ہے۔ ان میں بھکی پاور پلانٹ شیخوپورہ میں واقع ہے جس کی پیداواری صلاحیت 1180 میگاواٹ ہے اور یہ قائد اعظم تھرمل پاور لمیٹڈ کی ملکیت ہے، جس نے مئی 2018 میں مکمل کمرشل آپریشن شروع کیا۔ اس کے علاوہ حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ جھنگ میں 1230 میگاواٹ صلاحیت کے ساتھ 2018 میں فعال ہوا، جبکہ بلوکی پاور پلانٹ قصور میں 1223 میگاواٹ صلاحیت کے ساتھ جولائی 2018 میں کمرشل آپریشن میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق قطر سے ایل این جی کی فراہمی گیس فیلڈز پر حملوں کے بعد معطل ہوئی ہے۔ تاہم قطر کی جانب سے فورس میجور کا اعلان کیے جانے کے باعث موجودہ معاہدوں کے تحت کسی بھی فریق پر مالی ذمہ داری عائد نہیں ہو گی۔ اس کے باوجود اگر بجلی کی پیداوار متبادل ایندھن جیسے ریزیڈیول فرنس آئل پر منتقل کی جاتی ہے تو پاکستان کو اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے اندر اس بات پر مشاورت کی گئی کہ بجلی کے شعبے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگو خریدا جائے، تاہم یہ آپشن زیادہ قابل عمل نظر نہیں آتا کیونکہ اس وقت اسپاٹ ایل این جی کی قیمت تقریباً 17 سے 18 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے جو ریزیڈیول فرنس آئل کی لاگت کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب 11 مارچ 2026 کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے امریکی ایران کشیدگی سے جڑی علاقائی صورتحال کے پیش نظر مقامی طور پر تیار ہونے والے فرنس آئل کی برآمد پر پابندی عائد کر دی۔ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک وزیراعظم کی قائم کردہ پیٹرولیم قیمتوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی سے اجازت حاصل نہ کر لی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق حکومت نے فوری طور پر لوڈشیڈنگ شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا، حالانکہ ایل این جی بحران کے باعث آر ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر آر ایل این جی کی فراہمی میں طویل خلل برقرار رہا تو محدود دورانیے کی لوڈشیڈنگ کرنا پڑ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ذریعے نے بتایا کہ اگر آر ایل این جی کی سپلائی میں رکاوٹ جاری رہی تو حکومت ملک بھر میں چند گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا آپشن اختیار کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صارفین مختصر دورانیے کی بجلی بندش برداشت کر سکتے ہیں لیکن فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو قبول کرنا مشکل ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے پاور پلانٹس کو 400 ایم ایم سی ایف ڈی آر ایل این جی فراہم کی تھی جو مکمل طور پر استعمال ہو گئی۔ اس دوران آر ایل این جی سے 2002 گیگا واٹ گھنٹے بجلی پیدا ہوئی جو مجموعی پیداوار کا تقریباً 2.9 فیصد تھی اور اس کی اوسط لاگت 19.9333 روپے فی یونٹ رہی۔ اس کے مقابلے میں جنوری 2025 میں آر ایل این جی سے 1542 گیگا واٹ گھنٹے بجلی پیدا ہوئی تھی، جس سے تقریباً 30 فیصد اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی توانائی کی فراہمی کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور باقاعدگی سے وزیر اعظم آفس اور دیگر متعلقہ اداروں کو آگاہ کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے اثرات پاکستان کی توانائی فراہمی پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق قطر میں گیس فیلڈز پر حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار معطل ہونے سے پاکستان کو فراہم کی جانے والی ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی سپلائی میں نمایاں کمی آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی گھروں کو ملنے والی گیس کم ہو گئی ہے۔</strong></p>
<p>سرکاری ذرائع کے مطابق پاور سیکٹر کو اس وقت تقریباً 300 ایم ایم سی ایف ڈی آر ایل این جی درکار ہے، تاہم سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کی جانب سے فراہم کی جانے والی مقدار تقریباً 130 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت پوری 130 ایم ایم سی ایف ڈی گیس صرف ایک پاور پلانٹ کو فراہم کی جا رہی ہے۔ پاور ڈویژن کو آگاہ کیا گیا ہے کہ 20 سے 30 مارچ کے دوران آر ایل این جی کی دستیابی مزید کم ہو کر تقریباً 85 ایم ایم سی ایف ڈی تک رہ سکتی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں 2015 سے 2018 کے دوران بجلی کی قلت پر قابو پانے کے لیے آر ایل این جی پر چلنے والے تین بڑے اور جدید کمبائنڈ سائیکل پاور پلانٹس قائم کیے گئے تھے، جن کی حرارتی کارکردگی 61 فیصد سے زیادہ ہے۔ ان میں بھکی پاور پلانٹ شیخوپورہ میں واقع ہے جس کی پیداواری صلاحیت 1180 میگاواٹ ہے اور یہ قائد اعظم تھرمل پاور لمیٹڈ کی ملکیت ہے، جس نے مئی 2018 میں مکمل کمرشل آپریشن شروع کیا۔ اس کے علاوہ حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ جھنگ میں 1230 میگاواٹ صلاحیت کے ساتھ 2018 میں فعال ہوا، جبکہ بلوکی پاور پلانٹ قصور میں 1223 میگاواٹ صلاحیت کے ساتھ جولائی 2018 میں کمرشل آپریشن میں آیا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق قطر سے ایل این جی کی فراہمی گیس فیلڈز پر حملوں کے بعد معطل ہوئی ہے۔ تاہم قطر کی جانب سے فورس میجور کا اعلان کیے جانے کے باعث موجودہ معاہدوں کے تحت کسی بھی فریق پر مالی ذمہ داری عائد نہیں ہو گی۔ اس کے باوجود اگر بجلی کی پیداوار متبادل ایندھن جیسے ریزیڈیول فرنس آئل پر منتقل کی جاتی ہے تو پاکستان کو اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے اندر اس بات پر مشاورت کی گئی کہ بجلی کے شعبے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگو خریدا جائے، تاہم یہ آپشن زیادہ قابل عمل نظر نہیں آتا کیونکہ اس وقت اسپاٹ ایل این جی کی قیمت تقریباً 17 سے 18 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہے جو ریزیڈیول فرنس آئل کی لاگت کے قریب ہے۔</p>
<p>دوسری جانب 11 مارچ 2026 کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے امریکی ایران کشیدگی سے جڑی علاقائی صورتحال کے پیش نظر مقامی طور پر تیار ہونے والے فرنس آئل کی برآمد پر پابندی عائد کر دی۔ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک وزیراعظم کی قائم کردہ پیٹرولیم قیمتوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹی سے اجازت حاصل نہ کر لی جائے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق حکومت نے فوری طور پر لوڈشیڈنگ شروع کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا، حالانکہ ایل این جی بحران کے باعث آر ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس سے بجلی کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر آر ایل این جی کی فراہمی میں طویل خلل برقرار رہا تو محدود دورانیے کی لوڈشیڈنگ کرنا پڑ سکتی ہے۔</p>
<p>ایک ذریعے نے بتایا کہ اگر آر ایل این جی کی سپلائی میں رکاوٹ جاری رہی تو حکومت ملک بھر میں چند گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ کا آپشن اختیار کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صارفین مختصر دورانیے کی بجلی بندش برداشت کر سکتے ہیں لیکن فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمتوں میں اضافے کو قبول کرنا مشکل ہو گا۔</p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2026 میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ نے پاور پلانٹس کو 400 ایم ایم سی ایف ڈی آر ایل این جی فراہم کی تھی جو مکمل طور پر استعمال ہو گئی۔ اس دوران آر ایل این جی سے 2002 گیگا واٹ گھنٹے بجلی پیدا ہوئی جو مجموعی پیداوار کا تقریباً 2.9 فیصد تھی اور اس کی اوسط لاگت 19.9333 روپے فی یونٹ رہی۔ اس کے مقابلے میں جنوری 2025 میں آر ایل این جی سے 1542 گیگا واٹ گھنٹے بجلی پیدا ہوئی تھی، جس سے تقریباً 30 فیصد اضافہ ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی توانائی کی فراہمی کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے اور باقاعدگی سے وزیر اعظم آفس اور دیگر متعلقہ اداروں کو آگاہ کر رہی ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283899</guid>
      <pubDate>Sun, 15 Mar 2026 10:11:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/151009098c7f7c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/151009098c7f7c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
