<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:07:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:07:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغان طالبان نے ڈرون حملہ کر کے سرخ لکیر پار کر دی، صدر آصف زرداری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283892/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدر آصف علی زرداری نے ہفتہ کے روز کہا ہے کہ افغان طالبان نے پاکستانی شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے لئے، بقول فوج کے ”ابتدائی نوعیت کے ڈرونز“ استعمال  کر کے سرخ لکیر عبور کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی فوج کے مطابق یہ ڈرون جمعہ کی رات کو ناکارہ بنا دیے گئے اور ان کا کوئی ہدف حاصل نہ ہو سکا، جن میں فوج کے اپنے ہیڈکوارٹرز، راولپنڈی، اسلام آباد کے قریب، بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کے پاس مکمل فعال فضائیہ نہیں ہے، لیکن وہ مقامی طور پر تیار شدہ ڈرونز استعمال کر رہے ہیں، جن کا ہدف زیادہ تر پاکستان کے سرحدی علاقے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی فوج نے بتایا کہ جمعہ کے دن گرائے گئے ڈرون کے ملبے سے کوئٹہ میں دو بچے زخمی ہوئے، اور کوہاٹ (پشاور کے جنوب میں) اور راولپنڈی میں  ایک، ایک شہری زخمی ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سکیورٹی ذرائع کے مطابق جب ڈرونز کا پتہ چلا تو احتیاطی تدبیر کے طور پر دارالحکومت کے آس پاس کا فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فوج نے کہا ہے کہ ”افغان طالبان نے پاکستانی عوام کو ہراساں کرنے کے لیے چند ابتدائی نوعیت کے ڈرونز بھیجے۔ یہ ڈرون… اپنے مقررہ اہداف تک نہیں پہنچ سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جمعرات سے جمعہ کی شب پاکستان کی جانب سے کابل میں حملے ہوئے، جن میں افغان دارالحکومت میں چار شہری جاں بحق ہوئے اور سرحدی صوبوں میں دو افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ملی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد طالبان حکام نے بدلہ لینے کی دھمکی دی، جس میں اسلام آباد کو بھی نشانہ بنانے کی بات شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر آصف زرداری کے دفتر نے ایک پوسٹ میں ایکس پر کہا ہے کہ وہ ”پاکستانی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں اور کہا کہ افغان طالبان نے سرخ لکیر عبور کر دی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ”پاکستان اپنے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کرے گا۔“&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PresOfPakistan/status/2032697435286655189'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PresOfPakistan/status/2032697435286655189"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا، “پاکستان اپنے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کرے گا۔ افغان زمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستان اپنے عوام کا دفاع کرے گا۔”&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گذشتہ ماہ اسلام آباد نے افغانستان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کا ہدف وہ انتہا پسند تھے جنہوں نے پاکستان میں حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان حکومت نے کسی بھی مداخلت یا افغان سرزمین کے استعمال سے عسکری کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، جبکہ پاکستان اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ اس کے حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتوں میں سرحد پر بار بار جھڑپیں ہو رہی ہیں، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن ( یواین اے ایم اے) نے جمعہ کو بتایا کہ 26 فروری سے ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 75 شہری جاں بحق  اور 193 زخمی ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدر آصف علی زرداری نے ہفتہ کے روز کہا ہے کہ افغان طالبان نے پاکستانی شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کے لئے، بقول فوج کے ”ابتدائی نوعیت کے ڈرونز“ استعمال  کر کے سرخ لکیر عبور کر دی ہے۔</strong></p>
<p>پاکستان کی فوج کے مطابق یہ ڈرون جمعہ کی رات کو ناکارہ بنا دیے گئے اور ان کا کوئی ہدف حاصل نہ ہو سکا، جن میں فوج کے اپنے ہیڈکوارٹرز، راولپنڈی، اسلام آباد کے قریب، بھی شامل تھے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کے پاس مکمل فعال فضائیہ نہیں ہے، لیکن وہ مقامی طور پر تیار شدہ ڈرونز استعمال کر رہے ہیں، جن کا ہدف زیادہ تر پاکستان کے سرحدی علاقے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی فوج نے بتایا کہ جمعہ کے دن گرائے گئے ڈرون کے ملبے سے کوئٹہ میں دو بچے زخمی ہوئے، اور کوہاٹ (پشاور کے جنوب میں) اور راولپنڈی میں  ایک، ایک شہری زخمی ہوا۔</p>
<p>سکیورٹی ذرائع کے مطابق جب ڈرونز کا پتہ چلا تو احتیاطی تدبیر کے طور پر دارالحکومت کے آس پاس کا فضائی حدود عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔</p>
<p>فوج نے کہا ہے کہ ”افغان طالبان نے پاکستانی عوام کو ہراساں کرنے کے لیے چند ابتدائی نوعیت کے ڈرونز بھیجے۔ یہ ڈرون… اپنے مقررہ اہداف تک نہیں پہنچ سکے۔“</p>
<p>یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جمعرات سے جمعہ کی شب پاکستان کی جانب سے کابل میں حملے ہوئے، جن میں افغان دارالحکومت میں چار شہری جاں بحق ہوئے اور سرحدی صوبوں میں دو افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ملی۔</p>
<p>اس کے بعد طالبان حکام نے بدلہ لینے کی دھمکی دی، جس میں اسلام آباد کو بھی نشانہ بنانے کی بات شامل تھی۔</p>
<p>صدر آصف زرداری کے دفتر نے ایک پوسٹ میں ایکس پر کہا ہے کہ وہ ”پاکستانی شہری علاقوں پر ڈرون حملوں کی سخت مذمت کرتے ہیں اور کہا کہ افغان طالبان نے سرخ لکیر عبور کر دی ہے۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ”پاکستان اپنے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کرے گا۔“</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PresOfPakistan/status/2032697435286655189'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PresOfPakistan/status/2032697435286655189"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے مزید کہا، “پاکستان اپنے شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو برداشت نہیں کرے گا۔ افغان زمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ پاکستان اپنے عوام کا دفاع کرے گا۔”</p>
<p>گذشتہ ماہ اسلام آباد نے افغانستان کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی، جس کا ہدف وہ انتہا پسند تھے جنہوں نے پاکستان میں حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔</p>
<p>طالبان حکومت نے کسی بھی مداخلت یا افغان سرزمین کے استعمال سے عسکری کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے، جبکہ پاکستان اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ اس کے حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا۔</p>
<p>گزشتہ ہفتوں میں سرحد پر بار بار جھڑپیں ہو رہی ہیں، جس سے تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی اور قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔</p>
<p>افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن ( یواین اے ایم اے) نے جمعہ کو بتایا کہ 26 فروری سے ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 75 شہری جاں بحق  اور 193 زخمی ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283892</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Mar 2026 20:27:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/142012064905c48.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/142012064905c48.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
