<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان، آئی ایم ایف اور ادھوری سنائی گئی مالیاتی کہانی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283888/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجرا سے متعلق مذاکرات ایک بار پھر مبینہ طور پر تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس کی وجہ بھی وہی پرانی بتائی جا رہی ہے: کمزور ٹیکس وصولی اور موجودہ بجٹ کی ساکھ پر شکوک۔ آئی ایم ایف نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے ٹیکس نظام پر انگلی اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ محصولات کے مقررہ اہداف حاصل ہونا ممکن نظر نہیں آتے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تشویش بجا ہے۔ پاکستان کا ٹیکس نظام طویل عرصے سے اپنی مطلوبہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے۔ ملک کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب بدستور تقریباً 9 سے 10 فیصد کے درمیان پھنسا ہوا ہے، جو ہم پلہ ابھرتی معیشتوں کے مقابلے میں سب سے کم شرحوں میں شمار ہوتا ہے۔ ٹیکس نیٹ محدود ہے، غیر رسمی معیشت وسیع ہے اور ٹیکس کی تعمیل (عملدرآمد) کمزور ہی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس بار بار ابھرنے والے تنازع سے ایک زیادہ غیر آرام دہ سوال بھی جنم لیتا ہے: کیا پاکستان کا مالیاتی بحران صرف ٹیکس وصولی کا مسئلہ ہے، یا پھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) مسئلے کے نسبتاً آسان حصے پر توجہ دے رہا ہے جبکہ زیادہ مشکل پہلو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بحث کے مرکز میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے تقریباً ہر آئی ایم ایف پروگرام میں پاکستان سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ٹیکس انتظامیہ کو بہتر بنائے، ٹیکس بیس کو وسعت دے اور محصولات کے اہداف بڑھائے۔ یہ نسخے اتنی بار دہرائے جا چکے ہیں کہ اب تقریباً پیش گوئی کے قابل ہو گئے ہیں—معیشت کی دستاویزات، ڈیجیٹائزیشن، سخت تر نفاذ اور ٹیکس دہندگان کے دائرہ کار میں توسیع۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان مسلسل کوششوں کے باوجود نتائج محدود رہے ہیں اور اس کی وجوہات بھی اچھی طرح معلوم ہیں۔ البتہ یہ واضح نہیں کہ ان مسائل کو مؤثر انداز میں حل کیوں نہیں کیا جا رہا۔ رسمی شعبہ بدستور ٹیکس بوجھ کا بڑا حصہ اٹھا رہا ہے، جبکہ دولت کے بڑے حصے—خصوصاً ریٹیل، زراعت اور دیگر شعبے، یا تو معمولی ٹیکس دیتے ہیں یا نظام سے بڑی حد تک باہر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر رسمی معیشت، جس کا حجم اکثر جی ڈی پی کے تقریباً 40 فیصد کے برابر بتایا جاتا ہے، اب بھی بڑی حد تک ٹیکس نظام کی دسترس سے باہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حقیقت پر آئی ایم ایف کی مایوسی قابلِ فہم ہے۔ مگر ٹیکس وصولی پر حد سے زیادہ زور اکثر مالیاتی مساوات کے دوسرے رخ کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے: یعنی ریاست پیسہ کہاں اور کیسے خرچ کرتی ہے، اور کن جگہوں پر یہ ضائع ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا مالیاتی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکومت کم محصولات جمع کرتی ہے۔ اتنا ہی بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ سرکاری شعبے میں وسیع مالیاتی رساؤ بدستور جاری ہے اور اس کے خاتمے کے لیے کوئی فیصلہ کن اصلاحات نظر نہیں آتیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی سب سے نمایاں مثال خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کا مسلسل بوجھ ہے۔ ادارے جیسے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز اور پاکستان اسٹیل ملز گزشتہ برسوں کے دوران کھربوں روپے کے نقصانات جمع کر چکے ہیں۔ بالآخر ان اداروں کی ذمہ داریاں قومی خزانے کو برداشت کرنا پڑتی ہیں، جو سبسڈی، حکومتی ضمانتوں اور قرضوں کی تنظیمِ نو کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ادارے بڑی حد تک اس لیے قائم ہیں کہ حکومتیں تنظیمِ نو یا نجکاری کے سیاسی اخراجات کا سامنا کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔ تاہم ان کے مالی نقصانات ہر سال سینکڑوں ارب روپے تک پہنچ جاتے ہیں اور خاموشی سے قومی وسائل کو کھوکھلا کرتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں آئی ایم ایف پروگراموں میں محصولات کے اہداف نہایت باریکی سے طے کیے جاتے ہیں، وہیں سرکاری اداروں کی اصلاحات کے معاملے میں اسی شدت کا احساس کم ہی دکھائی دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجکاری کے منصوبے سست روی کا شکار رہتے ہیں، تنظیمِ نو کی ڈیڈ لائنز آگے سرک جاتی ہیں اور خسارے میں چلنے والے اداروں کو مالی معاونت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور اس سے بھی بڑا مالیاتی گڑھا پاکستان کے توانائی کے شعبے میں موجود ہے۔ ملک کا بدنامِ زمانہ سرکلر ڈیٹ، یعنی بجلی کے نظام کے اندر واجبات کی پیچیدہ اور غیر ادا شدہ زنجیر، اب کھربوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ہر سال حکومت اس نظام کو چلتا رکھنے کے لیے مزید وسائل جھونکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساختیاتی اسباب بھی اچھی طرح معلوم ہیں: بلوں کی ناقص وصولی، بجلی کی چوری، ترسیلی نقصانات، تقسیم کار کمپنیوں کی کمزور حکمرانی اور سیاسی اثر و رسوخ کے تحت طے ہونے والے ٹیرف۔ اس کے باوجود اصلاحات سست اور جزوی ہی رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف اکثر مالیاتی خلا کم کرنے کے لیے بجلی کے نرخ بڑھانے پر زور دیتا رہا ہے۔ لیکن صرف ٹیرف میں اضافہ اس نظام کو درست نہیں کر سکتا جو نااہلی اور کمزور حکمرانی سے متاثر ہو۔ جب تک پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی گہری تنظیمِ نو اور بہتر انتظامی ڈھانچہ قائم نہیں کیا جاتا، سرکلر ڈیٹ دوبارہ پیدا ہوتا رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک اور پہلو جس پر شاذونادر ہی مستقل توجہ دی جاتی ہے، وہ غیر ضروری یا غیر پیداواری سرکاری اخراجات ہیں۔ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں اب بھی بھاری انتظامی اخراجات، کمزور ہدف بندی والی سبسڈیز اور سیاسی بنیادوں پر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبے شامل رہتے ہیں جن کی معاشی افادیت محدود ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی نظم و ضبط صرف مزید محصولات اکٹھے کرنے پر منحصر نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ سرکاری وسائل کہاں اور کیسے خرچ ہو رہے ہیں، اس کا سنجیدہ جائزہ لیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ٹیکس دہندگان ایک طرف ٹیکس کے بڑھتے مطالبات اور دوسری طرف مالیاتی ضیاع کو برقرار دیکھتے ہیں تو مالیاتی نظام پر عوام کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ اور دستاویزی کاروبار پہلے ہی غیر متناسب ٹیکس بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس محدود طبقے پر مزید دباؤ ڈالنا، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع نہ کیا جائے اور اخراجات پر قابو نہ پایا جائے، صرف بے چینی کو بڑھاتا ہے اور معیشت کو مزید غیر دستاویزی بننے کی طرف دھکیلتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً پاکستان کے ٹیکس نظام کو اصلاحات کی ضرورت ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اب بھی فرسودہ طریقہ کار، بکھرے ہوئے ڈیٹا نظام اور انتظامی کمزوریوں سے نبرد آزما ہے۔ ڈیجیٹل انوائسنگ، مربوط ڈیٹا بیس اور ڈیٹا پر مبنی آڈٹ جیسے جدید آلات ٹیکس نیٹ کو نمایاں طور پر وسیع کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن اگر معیشت میں موجود ساختیاتی مالیاتی رساؤ برقرار رہے تو صرف ٹیکس انتظامیہ کی اصلاحات پاکستان کے مالیاتی بحران کو حل نہیں کر سکتیں۔ ایک قابلِ اعتماد اصلاحاتی حکمتِ عملی کے لیے اس لیے تین متوازی اقدامات درکار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی فیصلہ کن تنظیمِ نو یا نجکاری کی جائے۔ ریاست مسلسل ایسے اداروں کو مالی سہارا نہیں دے سکتی جو مستقل طور پر قومی وسائل کو نقصان پہنچا رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، توانائی کے شعبے میں گہری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سرکلر ڈیٹ کم کرنے کے لیے بہتر حکمرانی، بلوں کی مؤثر وصولی، ترسیلی نقصانات میں کمی اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے پیشہ ورانہ انتظام کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا، سرکاری اخراجات کی سنجیدہ ریشنلائزیشن ضروری ہے۔ مالیاتی استحکام کے لیے فضول خرچی میں کمی اور ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینا ہوگی جو پیداواریت میں اضافہ کریں، مثلاً انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور انسانی سرمایہ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی معاشی پالیسی سازی میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا کردار اہم ہے کیونکہ اس کے پروگرام پالیسی ترجیحات کو تشکیل دیتے ہیں۔ مگر مؤثر اصلاحات کے لیے محصولات اور اخراجات دونوں پر یکساں توجہ ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات زیادہ تر ٹیکس اہداف تک محدود رہیں اور غیر مؤثر اخراجات اور ساختیاتی مالیاتی رساؤ کو نظرانداز کیا جاتا رہے تو نتیجہ وہی نکلے گا جو پہلے بھی دیکھا جا چکا ہے: وقتی استحکام اور اس کے بعد ایک اور مالیاتی بحران۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا معاشی چیلنج صرف زیادہ ٹیکس جمع کرنے کا مسئلہ نہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاست عوامی وسائل کو کتنی ذمہ داری اور مؤثر انداز میں استعمال کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب تک اسلام آباد اور آئی ایم ایف اس وسیع مالیاتی عدم توازن کو یکساں سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کرتے، پاکستان ایک ہی چکر میں پھنسا رہے گا، مذاکرات، شرائط، وقتی ریلیف اور پھر ایک بار پھر فنڈ کی جانب رجوع۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ایک ارب ڈالر کی قسط کے اجرا سے متعلق مذاکرات ایک بار پھر مبینہ طور پر تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ اس کی وجہ بھی وہی پرانی بتائی جا رہی ہے: کمزور ٹیکس وصولی اور موجودہ بجٹ کی ساکھ پر شکوک۔ آئی ایم ایف نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے ٹیکس نظام پر انگلی اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ محصولات کے مقررہ اہداف حاصل ہونا ممکن نظر نہیں آتے۔</strong></p>
<p>یہ تشویش بجا ہے۔ پاکستان کا ٹیکس نظام طویل عرصے سے اپنی مطلوبہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ہے۔ ملک کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا تناسب بدستور تقریباً 9 سے 10 فیصد کے درمیان پھنسا ہوا ہے، جو ہم پلہ ابھرتی معیشتوں کے مقابلے میں سب سے کم شرحوں میں شمار ہوتا ہے۔ ٹیکس نیٹ محدود ہے، غیر رسمی معیشت وسیع ہے اور ٹیکس کی تعمیل (عملدرآمد) کمزور ہی رہتی ہے۔</p>
<p>تاہم اس بار بار ابھرنے والے تنازع سے ایک زیادہ غیر آرام دہ سوال بھی جنم لیتا ہے: کیا پاکستان کا مالیاتی بحران صرف ٹیکس وصولی کا مسئلہ ہے، یا پھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) مسئلے کے نسبتاً آسان حصے پر توجہ دے رہا ہے جبکہ زیادہ مشکل پہلو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے؟</p>
<p>اس بحث کے مرکز میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے تقریباً ہر آئی ایم ایف پروگرام میں پاکستان سے مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ٹیکس انتظامیہ کو بہتر بنائے، ٹیکس بیس کو وسعت دے اور محصولات کے اہداف بڑھائے۔ یہ نسخے اتنی بار دہرائے جا چکے ہیں کہ اب تقریباً پیش گوئی کے قابل ہو گئے ہیں—معیشت کی دستاویزات، ڈیجیٹائزیشن، سخت تر نفاذ اور ٹیکس دہندگان کے دائرہ کار میں توسیع۔</p>
<p>ان مسلسل کوششوں کے باوجود نتائج محدود رہے ہیں اور اس کی وجوہات بھی اچھی طرح معلوم ہیں۔ البتہ یہ واضح نہیں کہ ان مسائل کو مؤثر انداز میں حل کیوں نہیں کیا جا رہا۔ رسمی شعبہ بدستور ٹیکس بوجھ کا بڑا حصہ اٹھا رہا ہے، جبکہ دولت کے بڑے حصے—خصوصاً ریٹیل، زراعت اور دیگر شعبے، یا تو معمولی ٹیکس دیتے ہیں یا نظام سے بڑی حد تک باہر ہیں۔</p>
<p>غیر رسمی معیشت، جس کا حجم اکثر جی ڈی پی کے تقریباً 40 فیصد کے برابر بتایا جاتا ہے، اب بھی بڑی حد تک ٹیکس نظام کی دسترس سے باہر ہے۔</p>
<p>اس حقیقت پر آئی ایم ایف کی مایوسی قابلِ فہم ہے۔ مگر ٹیکس وصولی پر حد سے زیادہ زور اکثر مالیاتی مساوات کے دوسرے رخ کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے: یعنی ریاست پیسہ کہاں اور کیسے خرچ کرتی ہے، اور کن جگہوں پر یہ ضائع ہوتا ہے۔</p>
<p>پاکستان کا مالیاتی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکومت کم محصولات جمع کرتی ہے۔ اتنا ہی بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ سرکاری شعبے میں وسیع مالیاتی رساؤ بدستور جاری ہے اور اس کے خاتمے کے لیے کوئی فیصلہ کن اصلاحات نظر نہیں آتیں۔</p>
<p>اس کی سب سے نمایاں مثال خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کا مسلسل بوجھ ہے۔ ادارے جیسے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز اور پاکستان اسٹیل ملز گزشتہ برسوں کے دوران کھربوں روپے کے نقصانات جمع کر چکے ہیں۔ بالآخر ان اداروں کی ذمہ داریاں قومی خزانے کو برداشت کرنا پڑتی ہیں، جو سبسڈی، حکومتی ضمانتوں اور قرضوں کی تنظیمِ نو کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں۔</p>
<p>یہ ادارے بڑی حد تک اس لیے قائم ہیں کہ حکومتیں تنظیمِ نو یا نجکاری کے سیاسی اخراجات کا سامنا کرنے سے ہچکچاتی ہیں۔ تاہم ان کے مالی نقصانات ہر سال سینکڑوں ارب روپے تک پہنچ جاتے ہیں اور خاموشی سے قومی وسائل کو کھوکھلا کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p>دلچسپ امر یہ ہے کہ جہاں آئی ایم ایف پروگراموں میں محصولات کے اہداف نہایت باریکی سے طے کیے جاتے ہیں، وہیں سرکاری اداروں کی اصلاحات کے معاملے میں اسی شدت کا احساس کم ہی دکھائی دیتا ہے۔</p>
<p>نجکاری کے منصوبے سست روی کا شکار رہتے ہیں، تنظیمِ نو کی ڈیڈ لائنز آگے سرک جاتی ہیں اور خسارے میں چلنے والے اداروں کو مالی معاونت کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔</p>
<p>ایک اور اس سے بھی بڑا مالیاتی گڑھا پاکستان کے توانائی کے شعبے میں موجود ہے۔ ملک کا بدنامِ زمانہ سرکلر ڈیٹ، یعنی بجلی کے نظام کے اندر واجبات کی پیچیدہ اور غیر ادا شدہ زنجیر، اب کھربوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔ ہر سال حکومت اس نظام کو چلتا رکھنے کے لیے مزید وسائل جھونکتی ہے۔</p>
<p>اس کے ساختیاتی اسباب بھی اچھی طرح معلوم ہیں: بلوں کی ناقص وصولی، بجلی کی چوری، ترسیلی نقصانات، تقسیم کار کمپنیوں کی کمزور حکمرانی اور سیاسی اثر و رسوخ کے تحت طے ہونے والے ٹیرف۔ اس کے باوجود اصلاحات سست اور جزوی ہی رہتی ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف اکثر مالیاتی خلا کم کرنے کے لیے بجلی کے نرخ بڑھانے پر زور دیتا رہا ہے۔ لیکن صرف ٹیرف میں اضافہ اس نظام کو درست نہیں کر سکتا جو نااہلی اور کمزور حکمرانی سے متاثر ہو۔ جب تک پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی گہری تنظیمِ نو اور بہتر انتظامی ڈھانچہ قائم نہیں کیا جاتا، سرکلر ڈیٹ دوبارہ پیدا ہوتا رہے گا۔</p>
<p>ایک اور پہلو جس پر شاذونادر ہی مستقل توجہ دی جاتی ہے، وہ غیر ضروری یا غیر پیداواری سرکاری اخراجات ہیں۔ وفاقی اور صوبائی بجٹ میں اب بھی بھاری انتظامی اخراجات، کمزور ہدف بندی والی سبسڈیز اور سیاسی بنیادوں پر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبے شامل رہتے ہیں جن کی معاشی افادیت محدود ہوتی ہے۔</p>
<p>مالیاتی نظم و ضبط صرف مزید محصولات اکٹھے کرنے پر منحصر نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ سرکاری وسائل کہاں اور کیسے خرچ ہو رہے ہیں، اس کا سنجیدہ جائزہ لیا جائے۔</p>
<p>جب ٹیکس دہندگان ایک طرف ٹیکس کے بڑھتے مطالبات اور دوسری طرف مالیاتی ضیاع کو برقرار دیکھتے ہیں تو مالیاتی نظام پر عوام کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ تنخواہ دار طبقہ اور دستاویزی کاروبار پہلے ہی غیر متناسب ٹیکس بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس محدود طبقے پر مزید دباؤ ڈالنا، جبکہ ٹیکس نیٹ کو وسیع نہ کیا جائے اور اخراجات پر قابو نہ پایا جائے، صرف بے چینی کو بڑھاتا ہے اور معیشت کو مزید غیر دستاویزی بننے کی طرف دھکیلتا ہے۔</p>
<p>یقیناً پاکستان کے ٹیکس نظام کو اصلاحات کی ضرورت ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اب بھی فرسودہ طریقہ کار، بکھرے ہوئے ڈیٹا نظام اور انتظامی کمزوریوں سے نبرد آزما ہے۔ ڈیجیٹل انوائسنگ، مربوط ڈیٹا بیس اور ڈیٹا پر مبنی آڈٹ جیسے جدید آلات ٹیکس نیٹ کو نمایاں طور پر وسیع کر سکتے ہیں۔</p>
<p>لیکن اگر معیشت میں موجود ساختیاتی مالیاتی رساؤ برقرار رہے تو صرف ٹیکس انتظامیہ کی اصلاحات پاکستان کے مالیاتی بحران کو حل نہیں کر سکتیں۔ ایک قابلِ اعتماد اصلاحاتی حکمتِ عملی کے لیے اس لیے تین متوازی اقدامات درکار ہوں گے۔</p>
<p>پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی فیصلہ کن تنظیمِ نو یا نجکاری کی جائے۔ ریاست مسلسل ایسے اداروں کو مالی سہارا نہیں دے سکتی جو مستقل طور پر قومی وسائل کو نقصان پہنچا رہے ہوں۔</p>
<p>دوسرا، توانائی کے شعبے میں گہری اصلاحات ناگزیر ہیں۔ سرکلر ڈیٹ کم کرنے کے لیے بہتر حکمرانی، بلوں کی مؤثر وصولی، ترسیلی نقصانات میں کمی اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے پیشہ ورانہ انتظام کی ضرورت ہے۔</p>
<p>تیسرا، سرکاری اخراجات کی سنجیدہ ریشنلائزیشن ضروری ہے۔ مالیاتی استحکام کے لیے فضول خرچی میں کمی اور ایسے شعبوں میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینا ہوگی جو پیداواریت میں اضافہ کریں، مثلاً انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی اور انسانی سرمایہ۔</p>
<p>پاکستان کی معاشی پالیسی سازی میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا کردار اہم ہے کیونکہ اس کے پروگرام پالیسی ترجیحات کو تشکیل دیتے ہیں۔ مگر مؤثر اصلاحات کے لیے محصولات اور اخراجات دونوں پر یکساں توجہ ضروری ہے۔</p>
<p>اگر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات زیادہ تر ٹیکس اہداف تک محدود رہیں اور غیر مؤثر اخراجات اور ساختیاتی مالیاتی رساؤ کو نظرانداز کیا جاتا رہے تو نتیجہ وہی نکلے گا جو پہلے بھی دیکھا جا چکا ہے: وقتی استحکام اور اس کے بعد ایک اور مالیاتی بحران۔</p>
<p>پاکستان کا معاشی چیلنج صرف زیادہ ٹیکس جمع کرنے کا مسئلہ نہیں۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ ریاست عوامی وسائل کو کتنی ذمہ داری اور مؤثر انداز میں استعمال کرتی ہے۔</p>
<p>جب تک اسلام آباد اور آئی ایم ایف اس وسیع مالیاتی عدم توازن کو یکساں سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش نہیں کرتے، پاکستان ایک ہی چکر میں پھنسا رہے گا، مذاکرات، شرائط، وقتی ریلیف اور پھر ایک بار پھر فنڈ کی جانب رجوع۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283888</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Mar 2026 17:58:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/14173921ed9267b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/14173921ed9267b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
